دیارغیرمیں شاعری کی دھاک بٹھانےوالےشاعرکےاعزازمیں فقیدالمثال الوداعی تقریب

ریاض( راجہ عابدعزیز/سٹیٹ ویوز) معروف شاعر عبدالرزاق تبسم عرصہ دراز سے سعودی عرب میں اپنی پنجابی اور اردو شاعری کے ذریعہ اپنا لوہا منوانے کے بعد اپنے وطن واپس جا رہے ہیں ان کی ادبی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے الریاض کی معروف ادبی تنظیم حلقہ فکروفن نے عبدالرزاق تبسم کے اعزاز میں فقید المثال الوداعی تقریب کاشانہء ادب ریاض میں منعقد کی جس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھر پور شرکت کی.

حلقہ فکروفن کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے صدرات کی جبکہ مہمان خصوصی شہر ریاض کی معروف ادبی اور مذہبی شخصیت حافظ عبدالوحید تهے حلقہ فکروفن کے جنرل سیکرٹری اور معروف شاعر وقار نسیم وامق نے نظامت کے فرائض انتہائی خوبصورتی اور خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیتے ہوئے اپنی شاعری سے بھی حاضرین کو محظوظ کرتے رہے.

تقریب کا باقاعدہ آغاز محمد رمضان کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے کیا گیا جبکہ ہدیہء نعت عابد شمعون چاند نے پیش کیا، تقریب کے صدر ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا عبدالرزاق تبسم کی شاعری فکروفن کا حسین امتزاج ہے اس کے الفاظ خوبصورت فطری صداقت کی نشان دہی کرتے اور زہین ذہن سفر کرتے فضاؤں کو معطر کرتے چلے جاتے ہیں ڈاکٹر ریاض چوہدری نے کہا عبدالرزاق تبسم اپنے نام کی طرح ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ لانے والا ہمارے حلقہ فکروفن کی جان ہے جو آج ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے وطن لوٹ رہا ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک اس کو ہمیشہ کامیابیوں سے نوازتا رہے مہمان خصوصی حافظ عبدالوحید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا شعر شعراء کے کبھی نہ مرجھائے والے ایک طرح کے پھول ہیں اور ان پھولوں کی ہر سو پھیلنے والی خوشبو ہیں جن پھولوں کی مٹی پاک صاف ہو پانی کی طرح صاف شفاف ہو اور بیج بھی مستند ہوں تو پھر ان پھولوں کے رنگوں اور خوشبو سے کبھی جی نہیں بھرتا.

مہمان خصوصی نے کہا عبدالرزاق تبسم نے اپنی شاعری میں اپنے فکر اور اپنے جذبات کی آمیزش بھی کی ہے اور یہی امتزاج ان کو فن کی بلندیوں پر لے جائے گا عبدالرزاق تبسم کی شاعری انکساری میں لاجواب ہے جو بے ساختہ دل میں اتر جاتی ہے حلقہ فکروفن کے جنرل سیکرٹری وقار نسیم وامق نے کہا عبدالرزاق تبسم انتہائی شفیق اور محبت کرنے والا دوست ہے ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی عبدالرزاق تبسم کی شاعری خوبصورت جذبوں اور احساسات کی ترجمانی کرتی ہے ان کی شاعری بولتی ہے اور فکر تراشے کرتی ہے حلقہ فکروفن کے ناظم الامور ڈاکٹر طارق عزیز نے کہا عبدالرزاق تبسم کی شاعری خون دل اور خون جگر کی زیبائش کی فکری پیمائش ہے انکی تخلیق نوید سحر ہے جو بصارت کی دھوپ میں سنگ ریشوں کی طرح چمکتی ہے اور یاد رفتگان کے نقوش ابھارتی ہے.

عبدالرزاق تبسم کو نثری خراجِ تحسین پیش کرنے والوں میں امین تاجر، ریاض راٹهور، یوسف علی یوسف، پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال، تصدق گیلانی، چوہدری سجاد علی، چوہدری محمد مبین، چوہدری عبدالمجید گجر، ڈاکٹر محمود احمد باجوہ، محسن رضا ثمر، منصور چوہدری، محمد صابر قشنگ، شامل تهے جبکہ منظوم خراجِ تحسین پیش کرنے والے شعراء میں یوسف علی یوسف ، وقار نسیم وامق اور کینیڈا سے حلقہ فکروفن کی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر حناء امبرین طارق شامل تهے عبدالرزاق تبسم نے اپنے خطاب میں کہا کہ حلقہ فکروفن میری پہچان ہے حلقہ حلقہ فکروفن اور یہاں پر پاکستانی کمیونٹی نے بہت پذیرائی کی بہت پیار دیا جو میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے عبدالرزاق تبسم نے کہا شاعر کی شخصیت اور انفرادیت ہی اس کی ادبی اور شعری تخلیقات کا سر چشمہ ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی اچھی شاعری پیش کرو عبدالرزاق تبسم نے حلقہ فکروفن کے تمام عہدیدارن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا آپ لوگوں نے جو عزت دی حوصلہ افزائی کی اس کی عزت اور قدر میرے دل میں ہمیشہ زندہ جاوید رہے گی عبدالرزاق تبسم نے اپنے کلامِ دلپذیر سے بهی نوازا، جس کو حاضرین نے بے حد سراہا اور دل کھول کر داد دی. اظہارِ تشکر صدر حلقہء فکروفن ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری نے پیش کیا بعد ازاں تقریب کے آخر میں عبدالرزاق تبسم کو حلقہء فکروفن کی جانب سے انکی ادبی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ بهی پیش کی گئی