میرکارواں/کاشف میر

آزادکشمیر کے سیٹ اپ میں تبدیلیاں

محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق آزادکشمیر کا کل رقبہ 13,297 مربع کلو میٹر اور اس کی آبادی سال 2017 ءتک 43 لاکھ 50 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

اس علاقے میں بیروزگاری کی شرح 14.5 اور مجموعی شرح خواندگی 74 فیصد ہے۔47 ءکے وقت کے ڈھائی اضلاع اب تقسیم در تقسیم کے بعد 10 اضلاع بن چکے اور ان کو تین ڈویثرنز میں تقسیم کیا گیا۔

آزادکشمیر میں انتظامی معاملات چلانے کیلئے وفاق کی طرز پر تمام محکموں (ماسوائے فوج، وزارت خارجہ، کرنسی) سمیت ذیلی و نیم سرکاری ادارے بھی قایم ہیں جن کے ملازمین بشمول کنٹریکٹ ملازمین سوا لاکھ افراد پر مشتمل ہیں۔ انہی سوا لاکھ ملازمین کی تنخوا ہوں، مراعات اور پنشن پر سالانہ 70 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں، مجموعی طور پر ان 10 اضلاع سے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کیلئے 29 حلقہ جات بنائے گئے ہیں۔

وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے اپنی ڈیڈھ سالہ حکومتی مدت کے دوران اپنا پہلا تین روزہ دورہ پونچھ کیا ہے جس میں مختلف تقریبات کے دوران انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے پونچھ،کوٹلی، نیلم اور حویلی میں چار نئے حلقہ انتخاب بنانے اور ایک نیا ضلع بنانے پر بھی سنجیدہ مشاورت اور آئینی ترمیم کرنے کا اعلان کیا۔

اس طرح اگر اس اعلان پر عمل ہوتا ہے تو آزادکشمیر کے اضلاع 10 سے بڑھ کر 11،حلقہ انتخاب 29 سے بڑھ کر 33 اور قانون ساز اسمبلی کی نشستیں 49 سے بڑھ کر 53 ہوجایں گی۔

ادھردوسری طرف آزادکشمیر کے عام عوام اور سول سوسائٹی اس انتظامی سیٹ اپ سے خوش نظر نہیں آتے ہیں،عوام کی نظر میں ان تمام محکمہ جات اور ملازمین کے ہوتے ہوئے بھی عام عوام کو صحت کی سستی اور معیاری سہولت میسر نہیں ہے نہ یکساں معیاری تعلیم کے مواقعے سب کیلئے ہیں۔

اسی طرح تعمیر و ترقی کے ثمرات سے عام عوام اب بھی کوسوں دور ہیں جبکہ ہر دور کی حکومتوں نے صرف من پسند تقرریوں کی خاطر ضرورت سے زاید محکمے اور عہدے تخلیق کررکھے ہیں۔ محکمہ اکلاس اورمحکمہ کوآپریٹو کی ہی رودادجان لیں۔ دونوں محکموں کے سینکڑوں ملازمین کے پاس گذشتہ 6 سال سے کرنے کا کوئی کام نہیں نہ ہی ان کے پاس کوئی منصوبہ ہے اس کے باوجود حکومت ان سینکڑوں ملازمین کو گھر بیٹھے ماہانہ کروڑوں اور سالانہ اربوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں دیئے جا رہی ہے، پھر بھی حکمران دعویٰ کر رہے ہیں کہ ریاست کے اندر گڈ گورننس قائم ہے۔ اسی طرح کا ایک بھوت محکمہ آبپاشی بھی قایم ہے جس کا قابل ذکر کام آزادکشمیر کے 10 اضلاع میں کہیں نظر نہیں آتا۔

امور حیوانات،بحالیات، سماجی بہبود، امور دینیہ، زکواة و عشر کے پورے پورے محکمے بھی صرف سرکاری بھرتیوں کیلئے قایم ہیں، محکمہ جنگلات میں گریڈ 20 کی 3 نئی پوسٹیں رواں سال تخلیق کی گئی ہیں جن کا مقصد صرف آفیسران کو اچھے گریڈ سے زیادہ مراعات دیکر ریٹائرڈ ڈکرانا ہے۔
آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارکردگی پر اگر بات کریں تو اسمبلی میں قانون سازی پر کم اور اسکیم خوریوں،ملازمین بھرتیوں اور تبادلوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔

ایکٹ 74 ءمیں آئینی ترامیم کرکے اسے بااختیار کرنے کیلئے گذشتہ ادوار سمیت موجودہ اسمبلی بھی ہمت نہ کرسکی ہے، موجودہ حکومت کے وزراءاپنے اپنے انتخابی حلقوں اور پھر برادریوں تک محدود ہیں۔ صدر،وزیر اعظم، سپیکر، وزرائ، ممبران اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں تو تین سو گنا اضافہ کردیا گیا ہے لیکن ان میں عوامی دفاتر سنبھالنے والے زیادہ تر افراد غیر ملکی دوروں اور اسلام آباد یاترا کرتے نظر آتے ہیں، اگر غلطی سے یہ وزیر دفاتر بیٹھ بھی جائیں تو ان کے پاس عام عوام کے مسائل سننے کا وقت نہیں ہوتا۔

دفاتر میں بھی وزراءایک دوسرے سے اور بیوروکریسی اور ذاتی دوستوں سے ملتے ہیں، سائیلین کو جواب دیا جاتا ہے کہ صاحب اہم میٹنگ میں مصروف ہیں اس لیے میرے خیال میں اب مزید نئے اضلاع اور حلقہ انتخاب بنانے کی سوچ ،پالیسی سازوں کی غلط ترجیحات کےتعین کو سب کے سامنے لاتی ہیں۔

آزادکشمیر کے انتظامی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر کا یہ انتظامی سیٹ اپ صرف 6 اضلاع پر مشتمل ہونا چاہیے جس کی تحصیلیں بیشک یہی ہوں۔ ان اضلاع میں صرف 12 انتخابی حلقے ہوں جبکہ کمشنر اور ڈی آئی جیز کے غیر ضروری عہدے ختم کردینے چاہیے اور ان دفاتر کے عملے کو ضلعی اور تحصیل دفاتر میں معمور کردیا جانا چاہیے۔

حکومتی کارکردگی اگر بہتر بنانی مقصود ہو تو تمام اضلاع کے ضلعی اداروں میں مقامی افراد کو سربراہ محکمہ بنانے کی بجائے دوسرے اضلاع کے اہل افراد کو تعینات کیا جائے جبکہ کسی بھی محکمے میں کلیریکل سٹاف کو تین سال سے زاید ایک دفتر میں نہ رکھا جائے۔ محکمہ تعلیم،محکمہ صحت کے تمام انتظامی عہدوں پر اساتذہ اور ڈاکٹرز کی بجائے پی ایس سی کے ذریعے انتظامی عہدیداروں کی بھرتیاں کی جائیں تو سسٹم میں بہتری آسکتی ہے۔ اسی طرح ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتیاں اگر سیاسی یا برادری ازم کی بجائے میرٹ پر ہوں تو ہر ایک کیلئے انصاف کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

آخری تجویز یہ ہے کہ آزادکشمیر میں موجودہ حکومتی سیٹ چونکہ عوام کو سہولیات دینے کیلئے کامیاب تصور نہیں کیا جاتا ،اس سے اخراجات زیادہ اور لوگوں کو سہولیات نہ ہونے کے برابرمل رہی ہیں اس لیے یہاں عام نتخابات کے ذریعے اکثریتی رائے سے صدر منتخب ہونا چاہئے اور وزیر اعظم کے تمام اختیارات صدر ریاست کو تفویض ہوں، جبکہ بااختیار صدر آزادکشمیر مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اچھی شہرت کے حامل قابل افراد کو وزارتوں کی ذمہ داری دیں۔

سوا لاکھ ملازمین میں سے کارکردگی کی بنیاد پر چھانٹی کی جائے اور جو ملازم اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے انجام نہیں دے رہے ان کو مناسب مراعات دیکر فارغ کیا جائے،محکمہ سیاحت، معدنیات،ہائیڈل وغیرہ کو پرائیویٹائز کر کے سرمایہ کاروں کوان شعبہ جات میں کام کرنے کاموقع دیا جائے، جبکہ تمام نئی بھرتیاں میرٹ پر کی جائیں، مختصر یہ کہ آزادکشمیر میں صدارتی نظام کے نفاذ سے ہی انتظامی و معاشی بہتری لائی جاسکتی ہے۔