aqwal e zareen

اقوالِ زریں

درخت جتنا اونچا ہوگا اس کا
سایہ اتناہی چھوٹا ہوگا اس لیے
’’اونچا‘‘ بننے کی بجائے
’’بڑا‘‘ بننے کی کوشش کرو

زمین کے اوپر عاجزی کے ساتھ
رہنا سیکھ لو ، زمین کے نیچے سکون سے
رہ پاؤ گے

گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی مت بنو ۔۔
کیوں کہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو ،
پر جسکو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی
آخرت کی تباہی کا سبب بن جائے

اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو جو
اچھا ہوگا وہ خوشی دے گا اور جو
بُرا ہوگا وہ سبق دے گا

اپنی زندگی ایسے جیو کہ اللہ تعالیٰ کو
پسند آجاؤ ، دنیاوالوں کی سوچ تو
روز بدلتی رہتی ہے

مصروف زندگی نماز کو مشکل بنا دیتی ہے
لیکن نماز مصروف زندگی کو بھی
آسان بنادیتی ہے

خاموشیاں ہی بہتر ہیں صاحب
لفظوں سے لوگ روٹھتے بہت ہیں

غیر ضروری ’’تنقید‘‘ وہ تلوار ہے جو
سب سے پہلے خوبصورت تعلقات کا
سر قلم کرتی ہے

آج تک سمجھ نہیں آسکا ،اپنے بچوں کا
پیٹ پالنے کیلئے 12,12گھنٹے تک
کام کرنے والے کے پاس مسجد میں
جانے کیلئے 10منٹ کیوں نہیں ہوتے؟

انسان کا دل توڑنے والا شخص
اللہ کی تلاش نہیں کرسکتا

انسان کی اصل موت تب ہوتی ہے
جب وہ کسی کے دل سے نکلتا ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

نماز کی فکر اپنے اوپر فرض کرلو خدا کی قسم
دنیا کی فکر سے آزاد ہوجاؤ گے اور کامیابی
تمہارے قدم چومے گی
حضرت علی رضی اللہ عنہ

انسانیت بہت بڑا خزانہ ہے
اُسے لباس میں نہیں انسان میں
تلاش کرو
حضرت علی رضی اللہ عن

حق بات کی پہلی نشانی ہے اسکی ہمیشہ
مخالفت ہوتی ہے جس کی کوئی مخالفت
نہیں وہ قطعاً حق نہیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ

لوگوں کو دُعا کیلئے کہنے سے زیادہ
بہتر ہے ایسے عمل کرو کہ
لوگوں کے دل سے آپ کیلئے دُعا نکلے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

تحمل اختیار کرو
اپنے دشمن پر غلبہ پالو گے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
دوست کو دولت کی نگاہ سے مت دیکھو،
وفا کرنے والے دوست اکثر
غریب ہوتے ہیں

اگر کوئی آپ کی فکر کرتا ہے تو اس کی
قدر کرو کیونکہ دنیا میں تماشائی زیادہ ہیں
اور قدر کرنے والے بہت کم
حضرت علی رضی اللہ عنہ

لفظ انسان کے غلام ہوتے ہیں مگر صرف
بولنے سے پہلے تک ۔۔۔
بولنے کے بعد انسان اپنے الفاظ کا
غلام بن جاتا ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

کسی انسان کی خوبی کو پہچانو تو اُسے بیان کرو
لیکن اگر کسی کی خامی مل جائے تویہاں
تمہاری خوبی کا امتحان ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

فرمانِ حضرت علی رضی اللہ عنہ
’’لوگوں کو اُسی طرح معاف کرو جیسے تم خدا
سے اُمید رکھتے ہو کہ وہ تمہیں
معاف کرے گا

ہربات پر ہاں میں ہاں ملانا
منافقوں کی عادت ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

تحمل اختیار کرو
اپنے دشمن پر غلبہ پالو گے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

جس کو تم سے سچی محبت ہوگی وہ تم کو
فضول اور ناجائز کاموں
سے روکے گا
حضرت علی رضی اللہ عنہ

ہمیشہ سچ بولو تاکہ تمہیں قسم
کھانے کی ضرورت نہ پڑے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

آخرت کا دامن تھام لو
دنیا خوار ہوکر تمہارے قدم چومے گی
حضرت علی رضی اللہ عنہ

خدا سے جب بھی دُعا مانگو ، تو مقدر مانگو
عقل نہیں کیونکہ میں نے بہت سے عقل
والوں کو مقدر والوں کے در پر دیکھا ہے
حضرت علی رضی اللہ عنہ

دنیا میں صرف سکون ہوتا تو لوگ اللہ کو
بھول جاتے سکون تو صرف ان لوگوں کے
پاس ہے جو اللہ کی رضا کو اپنی رضا سمجھتے ہیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ

جو شخص تم سے دوری اختیار کرے
تم اس میں ہر گز دلچسپی مت لو
(حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

حضر ت علیؓ

اچھے لو گو ں کی ایک خو بی یہ بھی ہو تی ہے کہ
انہیں یا د رکھنا نہیں پڑ تا وہ یا د ہی ر ہتے ہیں

حضر ت علیؓ

لفظ انسا ن کے غلا م ہو تے ہیں مگر صرف
بو لنے سے پہلے تک ۔۔۔۔!!
بو لنے کے بعد ا نسا ن اپنے الفا ظ کا
غلا م بن جا تا ہے ۔۔۔۔!!

حضرت علی کی علمی فراست کا ایمان افروز واقعہ

امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہ ء خلافت میں حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے فرمایا:” اے حذیفہ ! تم نے صبح کیسے کی ؟” عرض کی:” اے امیرالمؤمنین! میں نے اس طرح صبح کی کہ فتنے سے محبت کرتا ہو ں اور حق کو ناپسند کرتا ہوں اور وہ کہتا ہوں جو پیدا نہیں ہوا

اور اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں اور بغیر وضو کے صلوٰۃ پڑھتا ہوں اور میرے پاس زمین پرایک ایسی چیز ہے جو اللہ عزوجل کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے۔” تو سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات پر شدید غضبناک ہوگئے اور ان کی گرفت کا ارادہ فرمایا مگرپھر ان کی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحبت یعنی صحابیت کا خیال آیا تو رُک گئے ۔اسی اثناء میں باب علم حضرتِ سَیِّدُنا علی المر تضی کرم اللہ وجہہ الکریم وہاں سے گزر ے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ پر غضب کے آثار ملاحظہ فرمائے تو پوچھا:” اے امیر المؤمنین! آپ کو کس بات نے غضبناک کیا ہے ؟” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پورا قصہ سنادیاتو حضرتِ سَیِّدُنا علی المر تضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا

:” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا قول کہ”میں فتنے سے محبت کرتاہوں ۔” اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تاویل ہے :اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕترجمہ :تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ (آزمائش ) ہی ہیں ۔(پ28،التغابن:15)اور ان کے اس قول کہ” میں حق کو ناپسند کرتا ہوں۔” میں حق سے مراد موت ہے جس سے کسی کو چارہ نہیں اورنہ کوئی اس سے بچ سکتاہے او را ن کے اس قول کہ” وہ بات کہتا ہوں جو پیدا نہیں کی گئی”سے مراد قرآن پاک ہے کہ یہ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن مخلوق نہیں اور ان کے ا س قول کہ” اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں”کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی تصدیق کرتاہوں حالانکہ اسے دیکھا نہیں اور ان کے ا س قول کہ” بغیر وضو صلوٰۃ پڑھتا ہوں

۔

”کامطلب یہ ہے کہ یہ نبی مکرَّم ،رَسُول ِاکرم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر بغیر وضو کے درودِپاک پڑھتے ہیں ،ان کے ا س قول کہ” میرے پاس زمین پر ایسی چیز ہے جو اللہ عزوجل کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے۔” سے مراد بیوی اور بچے ہیں کیونکہ اللہ عزوجل کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں۔حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :” اے ابو الحسن ! اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنی ذہانت سے نوازا ہے، بے شک آ پ نے میرا ایک بہت بڑا مسئلہ حل کردیاہے ۔”(کتاب “بحرالدموع” مؤلف : امام ا بن جوزی رحمۃ اللہ علیہ : مترجم: صفحہ 211)نوٹ:۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دان بھی کہلاتے تھے۔ آپ کا لقب سرِ رسول ﷺ بھی ہے۔ نبی اکرم ﷺ آپ سے ایسی باتیں بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے جو آپ کسی اور کو ارشاد نہ فرماتے تھے۔آپ کی گفتگو مختصر اور معنی کثیر ہواکرتے تھے۔

آپ فتنوں والی کافی احادیث کے راوی بھی ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حدیث کے مطابق علم کا دروازہ ہیں ۔ حضرات ابوبکر و عمررضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے دور میں یہ قاضی القضاء (چیف جسٹس) کے منصب پر فائز تھے۔ اور حضرات شیخین اکثر الجھے ہوئے مسائل میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے

کیٹاگری میں : ادب