نقطہ نظر/راجہ اسدخالد
نقطہ نظر/راجہ اسدخالد

…..مسلم لیگی کارکنوں کے زخم پرمرہم کون لگائےگا…..

پاکستان مسلم لیگ نواز کی آزاد کشمیر میں حکومت کو ایک سال سے زائد مدت گزر گئی۔حکومت بننے سے قبل مسلم لیگ جو منشور لیکر لوگوں کے پاس گئی اورراجہ فاروق حیدرنےلوگوں کے ساتھ جو وعدےاوراعلانات کئے انکی وجہ سے نہ صرف مسلم لیگی کارکنان بلکہ عام لوگوں کی توقعات بھی مسلم لیگی حکومت سے بہت بڑھ گئیں لیکن باتیں کرنا آسان اورشاید ان باتوں پر عمل کرنا آسان نہیں ھے اس لئے مایوسی کی سطح بھی توقعات کی طرح اعلیٰ سطحی ہی ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے دعوے اور بیانات ہوائی ثابت ہو رہے ہیں۔ آزادکشمیر میں مسلم لیگ کی حکومت اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سے وابستہ لوگوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ وزیراعظم نہ تو اپنے جاندار موقف پر قائم رہ سکے اور نہ ہی حکومتی کارکردگی کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد کر سکےجولوگوں کی امیدکوبرقراررکھ سکتے۔

سیکریٹرز کو دیکھیں یا بیوروکریسی میں دیگر ایڈجسٹمنٹ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کی نظر کرم محض ضلع مظفر آباد کی حدود تک محدود ہے۔

آزاد کشمیر بھر کے مسلم لیگی سیاسی کارکن بری طرح نظر انداز کیے جارہے ہیں۔ایکٹ 74 اور بلدیاتی انتخابات کے اعلانات قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

وزراء اور ایم ایل اےحضرات ناراضگی کا طوفان اپنے اندر سمائے ہوئے ہیں تاہم کچھ حالات کی بدولت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور کچھ نجی محفل میں دبے الفاظ میں ناراضگی کا اظہاربھی کر رہے ہیں۔

سالار جمہوریت سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کئی بار وزیراعظم کے رویے پر مایوسی کا اظہارکر چکے ہیں۔ نوبت اس نہج پر آن پنچی ہےکہ راجپوت مسلم لیگی ایم ایل اے حضرات بھی وزیراعظم سے بے زار نظر آرہے ہیں۔

شنید ہےکہ آنے والے دنوں میں سالار جمہوریت اپنا دست شفقت کسی اور کے سر پر رکھنےبارے مشاورتی عمل شروع کرچکےہیں۔ چند دن قبل سنیئر لیگی وزرا نے تلہ گنگ میں ایک شادی کی تقریب میں وفاقی وزیر امور کشمیر برجیس طاہر سے ملاقات کر کے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیااوراس اظہار کومیاں نوازشریف تک پہنچانےکی استدعا بھی کی۔

وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکا پبلک امیج بری طرح خراب ہورہا ہے جس پر جلسوں میں نیند پوری کرنے والی انکی تصاویر سونےپرسہاگہ ثابت ہورہی ہیں۔بھارتی میڈیانے ان تصاویر کو لیکر واویلا مچا رکھا ہے۔اپنی خود سر طبعیت اور لاابالی روش کے تحت موجودہ وزیراعظم کب تک برقرار رہ سکیں گےاس کافیصلہ آنے والا وقت ہی کریگا۔ان حالات میں موجودہ حکومت کے وزراء اورسینئرلیگی کارکنوں کا بہترین مرہم وقت ہی نظررہا ہے۔

نوٹ۔سٹیٹ ویوزکالکھاری کی رائے سےاتفاق ضروری نہیں۔