یوم اقبال اورتعطیل

ہرسال 9نومبر یوم اقبال صرف سرکاری تعطیل کے حوالے سے ہی یاد رکھا جاتا تھا سرکاری سطح پر یاکسی تعلیمی ادارے میں اقبال کے حوالے سے کوئی تقریب منعقد نہ ہوتی تھی ۨجس پر حکومت نے یہ تعطیل منسوخ کردی ،منسوخی کے اعلان پر فوری طور پر قوم کا سویا ہوا ضمیربیدارہوگیااورحکومت کے اس قدم پرحکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا حکومت نے یوم اقبال کی اس تعطیل کو بحال کرنے کیلئے میٹنگ منعقد کی جس میں قوم کے نبض شناس اوراقبالیات کے ماہرین کو بھی بلایا گیا جن سے ماہرانہ رائے لی گئی کہ گزشتہ 70سال میں قوم نے اقبال کے پیغام کوکتنا سمجھا ہے یا اس پر عمل کیا ہے؟اورآئندہ کی کیا صورت ہے “؟ماہرین نے بتایا کہ قوم اقبال کے پیغام پر بیدار ہونے کی بجائے تعطیل کے دن سونے کوترجیح دیتی ہے اورآئندہ بھی اقبال کے پیغام کو سمجھنے یاعمل کرنے کےدور دور تک آثارنہیں ہیں اس ماہرانہ رائے پر تعطیل بحال کرنے کیلئے حکومت نے اتفاق نہیں کیا اورمتعلقہ وزیرصاحب نے فائل پرایک شعر لکھا جس کا مطلب بھولا پردیسی ایسا لیتا ہے کہ عوام کو ایک نہایت ہی شریف جانورکی طرح کام پر لگائے رکھو سوچنا سمجھنا ان کے بس کی بات نہیں لہذا یوم اقبال پر تعطیل کی تجویز سے اتفاق نہیں ہے ۔