ارسطو نارووال ایسا مت کرنا

خبر یہ ہے کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی آڑ لے کر آپریشن کرنے کا سوچا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ ایک ایسا کام کرنے کا شارہ کر رہے ہیں جو اس حکومت کی ڈوبتی ہوئی نیا کو مکمل ڈبو کے رکھ دے گا۔جتنی بے فیصلہ یہ حکومت ہے شائد ہی کوئی ہو گی۔جن کے سارے سر اس ابت پر لگے ہوں کہ ایک تاحیات نا اہل وزیر اعظم کو کس طرح بچانا ہے ان عقل کے اندھوں کو اس وقت سب کچھ الٹ لگ رہا ہے۔خادم حسئن رضوی اور عمران خان کے بارے میں ان کے پاس دو ہی جواز ہیں کہ ان کی زبان خراب ہے۔

سچ پوچھیں نیت کی خرابی زبان کی بے اعتدالی سے بڑا گناہ ہے بڑا جرم ہے۔سوال ہے کیا یہ چاہتے کیا ہیں صرف اور صرف اس مجرم کا استعفی جس نے آقائے نامدار کے تاج پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔یہ زاہد حامد ہے کیا چیز جو جنرل مشرف کے ناک کا بال بھی تھا اور موجودہ حکومت کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔

مولانا خادم حسین رضوی نے اس کے استعفی کا مطالبہ کر کے حکومت کو رعائیت ہے۔انہیں شائد یہاں تک کا ہی علم ہے۔لیکن انہیں یہ خبر نہیں کہ جو راجہ ظفرالحق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ حکومت کے حوالے کر چکے ہیں اس کا سارا ملبہ اسی بندے کے اوپر ہے۔وہ بھی اپنے پرانے محسن پر کرم فرمائی کر چکے ہیں حالنکہ انہیں علم ہے کہ اس سے پہلے نواز شریف ان کے سامنے یہ تجویز لاچکے ہیں کہ قادیانی ترمیم لاکر ہم مال پانی بنا سکتے ہیں اور اس سے پاکستان کے قرضے معاف ہو سکتے ہیں توہین رسالت کے قانون کے اوپر بھی ہل چل مچ چکی ہے اور حکومت نے صوبوں کی رائے مانگی ہے بین الاقاوامی دبائو یہ ہے کہ اس قانون کو بدلا جائے۔

قرض کی مہ پیو گے تو گھر کی عزت بھی تو جائے گی۔ان حرامخوریوں نے پاکستان کو اس نوبت تک پہنچا دیا ہے کہ ایک مقروض بندے کی طرح ساہو کار اس کے چولہے پر بیٹھ کر چائے پیتا ہے اور گھر والیوں کو بھی کن اکھیوں سے دیکھتا ہے قومی غیرت کا مظاہرہ کرے کون جنہوں نے حکومتیں بھی قسمیں وعدے کر کے حاصل کی ہیں انہیں کون سمجھائے۔اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ حل یہ کہ اگر وہ اسلامی غیرت کو چھیڑ کر قوم کا مزاج پرکھنا چاہتے ہیں تو قوم کو بھی وہی کرنا چاہئے جو مولانا خادم حسین رضوی نے کیا ہے۔ختم نبوت کا مسئلہ ۱۹۰۳ سے اٹھا ہوا ہے مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کا ایجنٹ تھا اس نے جھوٹا نبی ہونے کا دعوی کر کے لوگوں کو اپنا مطیع بنایا اور پیغام یہ دیا کہ جہاد موقوف ہو چکا ہے۔

یہ وجہ ہے کہ جنرل مشرف دور میں بھی اسی پیغام کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی شنید ہے کہ صبو بھی قادیانی تھیں اور وہ اپنے میاں کو اس مسئلے پر نرم رویہ رکھنے کا کہا کرتی تھیں۔جنرل مشرف تو ماضی کا حصہ بن گئے ایک چلے ہوئے کارتوس کو دوبار تیار کرنے کی کوشش بار بار کی گئی مگر جو چیز ٹھس ہو وہ کیا دھماکہ پیدا کرے گی بعض حلقوں کا خیال ہے ٹوپی دار بندوق کی طرح انہیں چلایا جا سکتا ہے لیکن وہ کراچی میں مصطفی کمال اور فاروق بھائی کے بے ہنگم جوڑ کے ٹوٹنے پر دیکھا جا سکتا ہے۔قوم اس وقت کسی بڑے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتی۔حکومت کو ایک تلچھٹ کو پرے پھینکنا چاہئے اور ذاہد حامد سے جبری استعفی نہیں دھکے دے کر باہر نکال دینا چاہئے۔

یہ مطالبہ ایک انتہائی کم مطالبہ ہے۔مجھے نہیں معلوم کے قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ بھی اسی طرح کا ایک گند جوڑ دیا گیا تھا جس کا نام سر ظفراللہ چودھری تھا ڈسکے کہ اس قادیانی ساہی جاٹ نے جہاں جہاں سبز قدم رکھے وہاں وہاں قادیانیت کے بیج بوئے۔پورا سیاہ افریقہ دیکھ لیں وہ قادیانی ہے وزیر خارجہ کے بقول یہ گندہ شخص مرزا غلام احمد قادیانی کا پیغام پہنچانے کا فریضہ انجام دیتا رہا۔قادیانیوں نے اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے میں اپنا کردار ادا کیا مجھے صرف یہ بتا دیجئے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے قادیانی جماعت کے سربراہاں کو سرکاری اعزاز سے کیوں نوازا اور یہ بات بھی سامنے رکھئے کا کہ قادیانی اسرائیل کی اینٹیل جینس میں اہم فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ایک جڑا ہوا اس سوال یہ بھی ہے جو اس مدعے کے ساتھ ٹچ بٹن بن کے جڑا ہوا ہے کہ کیا پاکستانی فوج ڈیفینس ایٹمی ٹیکنالوجی میں ملازمتیں کرنے والے اپنے راز کے امین ہیں؟ہر گز نہیں یہاں معاملہ منافرت پھیلانے کا نہیں معاملہ ملکی سلامتی کا ہے ایک اسلامی ملک کی بقاٗ اس پر سوچئے۔مولوی خادم گالی دیتا ہے مولوی کا انداز خطابت جارحانہ ہے سب کچھ مان لیا لیکن کیا مولوی اس ملک کامال کھاتا ہے؟کیا اس نے ایک فونڈری سے پچاس ایمپائر کھڑے کئے ہیں۔بلے اوئے!لہجے نرم رکھو اور کھاتے جائو۔

شکم سیری اتنی کرو کہ جب بھی حکومت پھنسے اس میں سے ایک وزارت نکال لو۔کدھر ہے مفتی محمود کا پسر وہ مفتی محمود جس کی زیر قیادت تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ میں کامیاب ہوئی ترمیم کے وقت کعبہ کی دیواروں کے پیچھے چھپنے والے مولانا فضل اب کہا ہیں انہیں چاہئے آپریشن ہونے والا ہے عمرے کے ویزہ لگوائیں اور چلے جائیں۔میرے بہت سے دوست کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کہاں کھڑی ہے؟میرے بھائیو یہ بات کسی سیاسی جماعت کی نہیں ہے جب ممتاز قادری کی شہادت ہوئی تو اس وقت بھی یہی سوال اٹھا تھا لیکن سوال اٹھانے والوں نے نہیں دیکھا کہ ممتاز قادری کا جنازہ جس کے گھر کیں رات بھر رہا ہو اظہر اقبال ستی پی ٹی آئی کا منتحب چیئرمین تھا۔اور اس پارٹی کے سارے لوگ کنازے میں تھے خود میں بھی شریک تھا۔آج بھی مسئلہ پی ٹی آئی اور نون لیگ یا کسی اور پارٹی کا نہیں میں نے آج جلوس میں نون لیگ کا ایک متحرک کارکن دیکھا۔

یہ معاملہ حرمت رسول کا ہے۔اور حرمت رسولﷺ کے لئے پارٹیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیںمیڈیا کے ٹڈ میں پیڑ پئی ہوئی ہے کہ جڑواں شہروں کے لوگوں کو بڑی تکلیف ہے۔حضور ہم اسی شہر پنڈی کے رہائیشی ہیں ہم حرمت رسولﷺ کے جاں نثاروں کے ساتھ اگر نہیں بیٹھ سکے تو ایک دو گھنٹے کی تکلیف سے ہماری کمر نہیں ٹوٹ جا رہی۔احسن اقابل نے ایک اور جھوٹ بولا کہ لوگ ہمارے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ہم ان کو اٹھائیں گے۔یہ کون لوگ تھے اتنے بہادر اور سورمے جو انہیں زبردستی اٹھانے کی بات کرتے ہیں عدالت نے فیصلہ دے دیا ہے کہ سڑکیں خالی کرائی جائیں ہمیں اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کاش عدلیہ اس سے ایک قدم اور آگے جاتی اور کہتی اس گندے شخص کو نکالو جس کی نگرانی میں یہ واردات ہوئی۔

وفاقی مذہبی امور کے وزیر سردار یوسف بھی اس حکومتی عمل کی ترجمانی کر رہے ہیں۔میں ان سے درخواست کروں گا مانسہرہ علماٗ کی کھیتی اور نرسری ہے کوئی ایسا کام نہ کریں جو ان کے لئے مشکلات کا باعث بن جائے گجر علماٗ کے پاس عشق رسولﷺ کا اختیار اور آپ کو منتحب کرنے کی چوائیس آئی تو پورا یقین ہے کہ برادری آپ کے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔استعفی دیجئے اور ان مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو جائے سیٹیں آتی جاتی رہتی ہیں ویسے بھی آپ کسی پارٹی کو جوائین کرنے والے ہیں ایسے نکلے تو اللہ بھی راضی ہو گا اور دنیا بھی مل جائے گی۔کسی ایسے آپریشن جس کے نتیجے میں خونریزی ہو یہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ہو گا۔میں نے کسی اور کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا اس سلسلے میں خادم حسینی ہوں۔راسطو و نارووال ایسا مت کرنا جس سے حسین کے خادموں کا خون ہو اور نہ اس رضوی کو طاہر القادری سمجھنا جو شہداٗ کے خون کو معاف کر دے گا۔ایسا مت کرنا