درزنداں/امجد شریف

اے میرے نبیؐ صدق و صفا 

میرے کمزور لفظوں میں کہاں حوصلہ کہ وہ شان مصطفیﷺ پر کچھ بول سکیں،علم وعمل کی دنیا کاایک کمزور انسان بس آج کے دن چند جملے ادا کر کے غلامانِ رسولؐ کے قافلے میں شامل ہونا چاہتا ہے۔آج وہ مبارک دن ہے کہ جس دن موسم بہار کے عین شباب میں 9 ربیع الاول کو عبداللہ کے گھر وہ عظیم فرزند تولد ہوا کہ جس کا نام جب”محمدؐ” نام رکھا گیا تو قریش نے اس نامانوس نام کا سبب دریافت کیا تو عبدالمطلب نے جواب دیا کہ” میں چاہتا ہوں کہ میرا فرزند ساری دنیا میں مدح وستائش کا سزاوار قرارپائے”۔پھر تاریخِ عالم نے دیکھا کہ اس ہستی کا حُسنِ خلق،رحمت وشفقت، ایثاروہمدردی رہتی دنیا کے لیے ضرب المثل بن گیا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو اپنا آخری نبیؐ منتخب کیا اورپوری دنیا کے لیے اسوہ ونمونہ بنایا۔ اس لیے آزمائشیں بھی آپﷺ کی زندگی کا جز بن گئی تھیں۔کار نبوت انجام دیتے ہوئے جتنے کٹھن مراحل سے آپﷺ کو گزرنا پڑا ،اتنا انبیائے سابقین میں سے کسی کے بھی حصہ میں نہ آیا۔ اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کے مقام ومرتبہ کو تما م انبیاء سے بلند کردیا۔

“ورفعنا لک ذکرک”اور اسی وجہ سے آپ صلى الله عليه وسلم کو “رحمة للعالمین”کے خطاب سے بھی نوازا، زندگی کے آخری 23سال جس میں آپ صلى الله عليه وسلم نے کار نبوت انجام دیا،اس میں بھی بالخصوص مکی زندگی بڑی صبر آزما اور تکلیفوں سے بھری ہوئی ہے۔اس عرصے میں ایک پر ایک مشکلیں اور پریشانیاں آپؐ پر آتی رہیں اورآپؐ نے خندہ پیشانی اور حکمت سے مقابلہ کیا۔اب تک کے دوتین ہزارسالہ دورِتاریخ میں حضور پیغمبر آخرالزماں صلى الله عليه وسلم وہ پہلی مبارک شخصیت ہیں جو ساری انسانیت کے لیے وسیع اور جامع پیغام لے کر آئے اور اس پیغام کو ایک تحریک کی شکل میں جاری کیا ،اس پر مبنی ریاست قائم کی اور اسے دنیا کی تمام اقوام تک پہنچانے کے لیے ایک بھرپورجماعت قائم کردی۔

 گویا دو ہزار سال پہلے دینِ اسلام کی ناصرف تکمیل ہوئی بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے یہ دین نافذ بھی ہوگیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کوعام کیا جائے تاکہ دنیا مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی ترقی بھی کرسکے، درحقیقت ہماری مشکلات کاحل سیرت نبویؐ میں ہی موجود ہے ۔ سیرت النبی ﷺ ہی تہذیبوں کے تصادم کے من گھڑت فلسفے کو نیست ونابود کرسکتی ہے، انسانیت کی کشتِ ویراں کو بہار تازہ  سے آشنا کرسکتی ہے۔

مگر بدقسمتی سے امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے والے اس امت کو فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کرنے کا موجب بنے  یہ امت اپنے ہی رہبروں کے ہاتھوں انتشار کا شکار ہوئی۔ ہم اگر آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے سوال کریں کہ ہمارے ہر مذہبی عمل کا حوالہ اور بنیاد کیا ہے؟ توصاف جواب ملے گا کہ ہماری ساری کوششیں اپنے مذہبی رہنماؤں کی پیروی تک محدود رہتی ہیں اور زندگی بھر وہی کرتے ہیں جو علماء کرام اور فرقے کے نظام کے تحت ہمیں سکھایا جاتا ہے۔اب تو اکثر لوگوں کی دینی علمیت اقوال اور حکایتوں تک محدود ہو گئی ہے۔

علماء کرام اور بظاہراسلامی نظر آنے والی شخصیات کا احترام میرے جیسے عام مسلمان کے دل سے اترنے لگا۔اس کی وجہ ان شخصیات اور علماء کرام کے رویے ہیں۔ ان کا فرض تھا کہ وہ اسلام کی اصل روح اور اُس کی حقیقی تصویر پیش کرتےتو ہم بھی دل وجان سے اُن کا احترام کرتے۔ اس سب کے باوجود اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمیں آقاؐ کی حرمت ہر شے پر مقدم ہے اور ہم سبھی آقاؐ کی حرمت پہ قربان لیکن ایسے دھرنے اور مظاہرے تحفظِ ناموس رسولؐ نہیں بلکہ فتنے اور انتشار کا باعث ہیں۔ جن کا ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے کہ ریاستی اداروں اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے ایک طرف مذہب کے نام پر لوگوں کااستعمال کرتے ہیں تو دوسری جانب وہ اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ اپنے ہی شہریوں کو ظلم کا نشانہ بنانا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایک آخری سوال منبرِ رسولؐ پراپنا حق جتانے والوں اور آقاؐ کی ناموس اور حرمت کے نام پر انتشار اور انارکی پھیلانے والوں سے کرنا ہے۔ جھنیں آج نہیں تو کل اپنے اعمال سمیت پیش ہونا ہے۔ جب امت کے اُن مظلوموں کوان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جو ان کے باہمی اختلافات کا ایدھن بنے، جب اُس دن امت کے ناحق قتل ہونے والوں کے گناہوں کا طاق ان کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ اُس دن کیا دلیل ان کے کام آئے گی یہاں تو وہ ہیں اور ان کا زورِ خطابت ہے۔ آج زمانے کی ستم ظریفیوں پر  نعیم صدیقی مرحوم کے نعتیہ اشعار  یاد آ رہے ہیں۔ 

 اے میرے نبیؐ صدق و صفا
اے میرے نبیؐ صدق و صفا

جب دل پہ شب غم چھاتی ہے
اور دل کی شبِ غم میں کوئی جب برق بلالہراتی ہے

اور برق بلا جب بن کے گھٹا باران شرر برساتی ہے
 ایسےمیں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل،ایسے میں تیری یاد آتی ہے

اے میرے نبیؐ صدق و صفا
اے میرے نبیؐ صدق وصفا

ماحول کی چکی میں پڑ کر جذبات میرے جب پستے ہیں
ایمان کو چوٹیں لگتی ہیں، جب زخم تمنا رستے ہیں

صد ہا فتنوں کے گھیرے میں جب طبع حزیں گھبراتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل، ایسے میں تیری یاد آتی ہے