کاشان گردیزی /نقطہ نظر

علمی دکانیں

رسول پاک (ص) نے اہل ایمان کے لئے حصول علم کو فریضہ قرار دیا ہے ۔ آپؐ کے فرمان کے مطابق ہر ایک مسلم کے لئے لازم ہے کہ گود سے لے کر زیست کے آخری لمحے تک تحصیل علم میں مشغول رہے۔ اسی لئے سرور کون و مکاں نے مسجد نبوی کا ایک حصہ اصحابؓ با صفا کے لئے محصوص کر رکھا تھا تا کہ اصحاب کی علمی تشنگی کو بادہء علم کے جام سے بجھایا جاسکے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نبی اکرمؐ نے کس علم کو فریضہ فرمایا ہے۔ کیا وہ علم فقط صوم وصلاة ، جہاد، ادائیگی زکوة و خیرات حقوق اللہ اور حقوق العباد تک محدود ہے؟ کیا اسیران بدر کی اہل ایمان کے بچوں کو قران وحدیث کا علم ہی دے رہے تھے ؟

نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ ہر وہ علم جو انسانیت کی فلاح بہبود، ترقی اور معیار انسانیت کو بلند کر ے کے لئے ہو ، وہ فریضہ ہے۔ معلم انسانیت چند شرعی معاملات کی تعلیم نہیں فرماتے تھے بلکہ ہر شعبہء زندگی کے بارے میں آگاہی فرماتے تھے ۔ پہلی اسلامی جامعہ صفہ میں حقوق اللہ و حقوق العباد کے ساتھ ساتھ آداب معاشرت، قوانین معیشت ، فنون حرب ، اور تاریخ و سائنس کی تعلیم بھی دی جاتی تھی ۔ لہذا دینی و دنیاوی دونوں علوم کا حصول فرض ہے ۔
اگر یہ فریضہ نہ ہوتا تو فرزند رسول امام جعفر صادق کی بارگاہ سے فیض حاصل کرنے والے جدید دور کی سائنسز کے بانی نہ تصور کئے جاتے ۔ امام کی بارگاہ سے جہان فقہ کا علم امام ابو حنیفہ حاصل کرتے تھے وہیں طبیعات و کیمیا کے علم کے حصول کے لئے جابر بن حیان و بو علی سینا بھی حاضر ہوتے تھے ۔

اسی طرح حصول علم تصوف لے لئے با یزید بسطامی حاضر ہو کر مائدہ ء علمِ امام سے چند ذرے تناول فرماتے تھے۔ امام سے فیض یاب ہونے والے ان چاروں تلامذہ نے اپنے اپنے شعبہ میں بلند مقام حاصل کیا۔ یہ تمام علوم ایک ہی درسگاہ سے تعلیم فرمائے جاتے تھے۔ ایک ہی مقام پر سائنسز کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تشنگی کو بھی بجھایا جاتا تھا ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے اسلاف کے راستے کو چھوڑ دیا ۔ سائنسز کو سکولز اور دین کو مدارس میں قید کر دیا-

بد قسمتی ِ سے عصر دوراں میں نظامِ تعلیم معیاری اور دین متین کے سنہری اصولوں کے مطابق نہیں رہا ۔ ہمارا نظام تعلیم زیادہ تر یا تو قصابوں کے پاس ہے یا گراں فروش دکانداروں کے دست میں ہے ۔ جہاں صرف امراء ہی فیض حاصل کر سکتے ہیں ، متوسط گھرانے کی پہنچ سے معیاری علم دور ہوتا جا رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے قوم کی صحیح معنوں میں تعمیر و کردار سازی نا ممکن نظر آتی ہے ۔ جو حصول علم دین کا خواہاں ہو اسے علوم عصر کے حصول کے لئے زور دیا جاتا ہے، اور جس کا ذہن علوم عصر کی طرف راغب ہواسے عالم دین بننے پہ آمادہ کیا جاتا ہے۔

کن ذہن و غبی کو جب عالم دین بنایا جائے گا تو وہ معاشرےکی اصلاح کے بجائے تخریب کاری اور تفرقہ بازی میں ہی ملوث نظر آئے گا۔ اسی صورت حال میں ناگزیر ہے کہ ایسے تعلیمی درسگاہیں قائم کی جائیں جن میں روحانی و عصری دونوں طرح کی تعلیم کے مواقع میسر ہوں ۔ اس صورت حال کی آگاہی کے لئے لئے میں نے مظفرآباد ازادکشمیر کے کئی اداروں کا چکر لگایا، اور کئی درسگاہوں میں اپنے احباب کے زریعے رپورٹ لی ، مجھے زیادہ تر تعلیم فروش ملےجن کا معلم اعظم کے مشن تعلیم سے کوئی تعلق نظر نہیں آیا ۔

الاما شااللہ۔ کئی تو ایسے ملے جن میں غریب و متوسط طبقے کا فرد قدم رکھنے سے بھی قاصر ہے ۔ ان کا کام جدت کے نام پہ مغربی تہذیب کو فروغ دینا اور صرف پیسہ کمانا ہے۔ البتہ مجھے مایوسی نہیں ہوئی ، جہاں گراں فروش دکاندار ملے ، وہیں مجھے چند ایسے با صلاحیت نوجوان سربراہان اداراجات بھی ملے ، جن کی سوچ بلند تھی، خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔ جن کی درسگاہوں میں غرباء و یتامی کے لئے بھی تعلیم کے یکساں مواقع ہیں ۔ ایسے ہی ایک خوبرو، با صلاحیت و با کردار نوجوان مدثر کاظمی سے میری ملاقات ہوئی، نوجوان کی تعلیم و تعلم سے لگن، غریب و یتیم طلبا کے لئے وظائف، غریب پروری ، مستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی، مشن اور اہداف کو دیکھ کر قلبی و ذہنی سکون میسرآیا۔ جب میں نے نوجوان سے نظام تعلیم پہ گفتگو کی تو بہت مسرت و قلبی فرحت ہوئی ۔

مجھے محسوس ہوا کہ نوجوان کی نظر میں پیش آنے والے مسائل پہ ہے۔ کیسے کم وقت میں بے راہ روی کے شکار معاشرے کی اصلاح کی جائے ؟ منصوبہ بندی قابل رشک و دید پائی ۔آمدہ تعلیمی سال کے لئے قرآن وحدیث کو نصاب میں ایسے ترتیب دیا ہوا پایا کہ اگر طالب علم سات آٹھ سال اسی درسگاہ میں رہا تو وہ اپنی عام زندگی کے فقہی مسائل علمائے مدارس سے پوچھنے کے بجائے خود اس قابل ہو گا کہ مسائل کا حل کتاب اللہ اور سیرت احمد مختارؐ سے پوچھے ۔ مدثر کاکہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ عصری علوم کی ماہر ایسی نسل تیار ہو جن کے کردار پہ صدیق اکبر کی صداقت ، فاروق اعظم کے عدل ، سلمان کی شرافت ، علی کی شجاعت ، حسن مجتبیٰؑ کے تدبر کا اور حسینؑ کی سخاوت کا پیرا نظر آئے ۔

ان اہداف کی راہ میں اگر رکاوٹ حائل نہ ہوئی تو یہ ادارہ جلد ایسی نوجوان نسل تیار کر سکے گا جو باکردار بھی ہو گی اور وطن کی محب و روشن خیال بھی ۔ میں راستے میں حاِئل سرمائے کی رکاوٹ سے رنجیدہ بھی ہوا۔ کاش کے مخیر حضرات ایسے با صلاحیت نوجوانوں سے تعاون کرتے رائزنگ سٹار سکول دومیل سیداں آزاد کشمیر کا سب سے بہترین ادارہ بن جاتا ، جہاں یتیم طلبا کے ساتھ وہ غریب طلبا بھی معیاری تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتے جن غرباء کا کوئی پرسان حال نہیں .

مدثر سے ملنے کے بعد مجھے بھی احساس ہوا کہ یتیم کی کفالت و تعلیم کے لئے کئی اور ادارے بھی کام کر رہے ہیں ۔ مگر ان غربا کا مدد گار کم ہی کوئی ہوتا ہے جن کے لئے تعلیم تو محال دو وقت کا مناسب کھانا بھی دستیاب نہیں ۔ اللہ دین و دنیا کی تعلیم دینے والے اور غریب پرور اس ادارے کو ترقی دے، اور ایسے نوجوانوں کو ان کے مقاصد حسنہ میں کامران کرے۔

دعا ہے خدا امت مسلمہ ، وطن عزیز اور غربا و مساکین کا درد رکھنے والے نوجوان کی اسباب غیب سے مدد فرمائے ، تا کہ نور علم سے صدور ہائے فقراء بھی امراء کی طرح منور ہوں۔ اور اللہ ہمیں بھی توفیق عنائت کرے کہ ہم ایسے اداروں کی اعانت کر سکیں