گھنگرو ٹوٹ گئے لیکن رادھا ناچےگی

سوچو جس انسان نے اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال ایک عظیم مقصد کے لئے مختص کر دئیے ہوں، دوسروں کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کے لئے اپنی زندگی سُولی چڑھا رکھی ہو اور آخر میں اسے پتا چلے کہ اسکی تکلیف دہ جدوجہد کا حاصل بس ایسے ہی ہے جیسے کوئی روشنی کا متلاشی مسافر تاریک راہوں میں مارا گیا ہو ۔ سوچو تلخ مشاہدات ، تجربات اور نتائج اس پر کس طرح سے اثرانداز ہوں گے۔ یہ وہی سمجھ سکتا ہے جس پر گزری ہو۔ منی پور کی ”آہنی خاتون ” اروم شرمیلا کے ساتھ یہی ہوا.

2 نومبر 2002، ایک نوجوان خوبرو شاعرہ منی پور کے ایک بس سٹیشن پر کھڑی ہے۔ یک لخت فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکاروں کی بھاری نفری وہاں ہلہ بول دیتی ہے۔ یہ باوردی اہلکار اندھا دھند فائر کھول دیتے ہیں’ زمین گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے لرز اٹھتی ہے۔ خوف و ہراس سے انسان ، چرند پرند تھرتھرا رہے ہیں ‘ خون میں لت پت دس نوجوان لاشیں زمین پر پڑی ہیں اور منی پور کی فضا سوگوار ہے۔

نوجوان لڑکی کے دل پر گھونسا سا لگتا ہے، اسکی آنکھوں سے دکھ کے فوارے پھوٹ رہے ہیں۔ اس سانحے نے اسکی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ تب وہ تہیہ کرتی ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک اس کالے قانون کا خاتمہ نہیں ہو جاتا جو اس طرح کے سانحات کو جنم دیتا ہے اور وہ کالا قانون کیا ہے. آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ. واضح رہے کہ یہ قانون منی پور اور کشمیر کے علاوہ ہندوستان کی چند دیگر ریاستوں میں بھی لاگو ہے۔

اگلے ہی روز اروم شرمیلا نے اس لاقانونیت کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی جو سولہ سال تک جاری رہی اور دنیا کی تاریخ میں طویل ترین بھوک ہڑتال بن گئی ۔ اس دوران وہ کئی بار گرفتار ہوئی اور رہائی بھی ملی۔ اسے ناک سے خوراک کی نالی کے ذریعے نرم غذا دی جاتی رہی۔ وہ کہتی تھی کہ۔۔۔ ” میں جینا چاہتی ہوں ، ہنسنا چاہتی ہوں، میں بھی محبت کروں ، زندگی میں رنگ بھروں ۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے میں اس ” قانون ” کا خاتمہ چاہتی ہوں جو یونیفارم اہلکاروں کو سنگین جرائم پر کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے تحفظ فراہم کرتا ہے

سولہ برس بیت گئے لیکن اسے عدالتوں سے کوئی ریلیف نہ ملا۔ تب اس نے فیصلہ کیا کہ اب یہ جنگ مجھے سیاسی محاذ پر لڑنی چائیے. دو ہزار سولہ میں اس امید پر وہ انتخابی اکھاڑے میں کود گئی کہ منی پور کے رائے دہندگان اس کی سولہ سالہ جدوجہد کی لاج تو رکھیں گے۔ لیکن انتخابی نتائج اس کے برعکس تھے۔ ایک طرف پیسہ، طاقت ، منافقت ، اختیار، اثر و رسوخ اور دوسری طرف ایک خاتون منی پور کے لوگوں کو ظلم و جبر سے نجات دلانے کا ایجنڈا لے کر آئی تھی۔ بالآخر منافقت میں لتھڑی روایتی سیاست جیت گئی۔۔۔۔۔ اشک بار آنکھوں سے وہ منی پور کے لوگوں کو فقط یہی کہہ پائی۔۔۔ ” تھینکس فار 90 ووٹز”۔۔۔ نوے ووٹوں کی صورت میں اسے اپنی جدوجہد کا صلہ بھی مل گیا تھا اور سبق بھی۔

یہی برصغیر کی سیاست ہے اور یہی برصغیر کے لوگوں کا المیہ۔۔۔ آقاؤں کی غلامی نے ان کو اس قدر اذیت پسند بنا دیا ہے کہ اب اگر کوئی فرشتہ بھی اتر کر ان کو کہے گا کہ میں آپ کا نجات دہندہ ہوں ، ظالموں سے نجات دلانے آیا ہوں تو یہ یقین نہیں کریں گے جبکہ کریمنلز جیل میں بیٹھ کر انتخاب جیت سکتے ہیں۔ یہ پرفریب نعروں کی دھن پر ناچنے والے لوگ ہیں۔ یہاں سیاست ایکشن ، تشدد، سسپنس ، منافقت سے بھرپور ایک ایسی فلم ہے جس میں رائے دہندوں کا کردار صرف قربانی تک محدود ہے۔ سکرپٹ رائٹر انہیں کسی بھی نان ایشو پر اکسا کر قربانی کے لئے تیار کر سکتا ہے۔ اور یہ سیہ بخت لوگ ہمیشہ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔

معاشرے کے مفاداتی اور فشاری گروہ اپنے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے، مذہب ، فرقہ پرستی، لسانیت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ حب الوطنی اور دفاع کے نام پر بھی رائے دہندوں کو اکسایا جاتا ہے۔۔۔ جیسا کہ ہندوستان میں بی جے پی انتخابات جیتنے کے لئے دھرم ، پاکستان اور مسلمان کارڈ کھیلتی رہی ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس طرح کے عناصر کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جینوئن سیاسی جماعتوں کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی ۔۔۔۔ایک سیاسی جماعت تو وہ پلیٹ فارم ہوتا ہے کہ ہر شہری بلاتفریق نسل، رنگ، زبان ، مسلک جس کی رکنیت اختیار کر سکے ۔ مذہبی ، لسانی یا مسلکی بنیادوں پر وجود میں آنے والی جماعتیں ایک مخصوص طرز فکر کو ہی فروغ دیں گی جو کہ قومی وحدت کی بجائے انتشار اور تقسیم کا باعث بنیں گی۔ جب لوگ تقسیم در تقسیم ہوتے جائیں گے تو وہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے بھی آواز اٹھانے کے قابل نہ رہیں گے۔

پاکستان کی مخصوص تاریخ اور حالات کے پیش نظر اکثر یہ توجیح پیش کی جاتی ہے کہ فوج کے سیاسی عزائم کی وجہ سے یہاں جمہوری ادارے مضبوط نہ رہ سکے۔۔۔ یہ ایک وجہ ضرور ہے لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت ناکام کیوں ہے؟ وہاں تو کبھی فوج نے دہلی فتح نہیں کیا۔ بظاہر تو مراعات یافتہ طبقات ” شاہننگ انڈیا” کا تاثر ابھار رہے ہیں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اکثریتی آبادی غریبی و خواری میں زندگی بسر کر رہی ہے۔

ہندوستان کی معیشت کی استواری میں سب سے مضبوط ستون کسان طبقہ اپنے خون پسینے کی محنت سے فراہم کرتا ہے لیکن یہی طبقہ سب سے زیادہ مفلوک الحال بھی ہے۔ اسے منڈی میں اپنی پیداوار پیداواری لاگت سے کم قیمت پر بیچنی پڑتی ہے۔ یہاں کارپوریٹ سیکٹر کو سرکار ہر طرح کی مراعات دینے کے لئے تیار ہے۔ قرضے بھی معاف ہو جاتے ہیں، ٹیکسوں میں چھوٹ بھی مل جاتی ہے ، بیل آؤٹ پیکیجز بھی مل جاتے ہیں ۔ لیکن کسان کو ایسی کوئی ریائت نہیں مل سکتی کیونکہ بیچارا کسان طبقہ سیاستدانوں کی انتخابی مہم میں فنڈنگ نہیں کر سکتا تو کوئی گارنٹی بھی نہیں لے سکتا۔ اب کسان خودکشیاں نہ کریں تو اور کیا کریں ؟

المختصر سرحد کے دونوں طرف جنیوئن سیاسی کلچر کی عدم موجودگی میں جمہوریت ایک خطرناک کھیل ہے۔ ایوانوں میں حکومتیں عوامی تائید سے نہیں بلکہ اشرافیہ کے گٹھ جوڑ سے بنتی اور ٹوٹتی ہیں۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کا تو اپنا اپنا بیانیہ ہے ہی لیکن جو مین سٹریم یا تمام کمیونیٹیز کی نماہندہ ہونے کی دعویدار ہیں وہ حقیقتاََ سرمایہ داروں، صنعت کاروں، جاگیرداروں ، بڑے کاروباری اداروں کی محافظ ہیں۔ جیسا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی صفوں میں بیشتر یہی لوگ ہیں۔ فوجی حکمران جب جب آئے انہی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ان کی جڑیں مضبوط کرتے رہے۔

رہی سہی کسر عمران خان کی تحریک انصاف نے نکال کر رکھ دی۔ تبدیلی کے نعرے سے نوجوانوں کا لہو گرمانے والی تحریک نے انہی مراعات یافتہ لوگوں کو تحریک کے ہراول دستے میں شامل کر کے تبدیلی کا رستہ روک لیا ہے۔ واضح ہو کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا زیادہ تر ووٹ دوردراز کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہے جہاں معاشی ناہمواریوں میں پسے ہوئے لوگوں کی رائے یا تو طبقہ امرا کے تابع ہے یا اپنی کوئی رائے ہی نہیں۔ تحریک انصاف کا اصل گڑھ شہری علاقے یا ممی ڈیڈی جنریشن ہے لیکن جس طرح سے تحریک کے کارکنان تحریک کی ہر پالیسی کا ناجائز دفاع کرتے ہوئے گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ تبدیلی فکری انقلاب سے ہی ممکن ہے اور مجھے دور دور تک اس کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔ پرفریب نعروں کی دھن پر ناچنے والی عوام نامی مخلوق بس ناچے ہی جا رہی ہے۔