جیمز میٹس کا دورہ، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مولوی خادم رضوی

اکیس اگست کو صدر ٹرمپ کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے افغانستان میں دہشتگردی کے لئے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کے بیان اور ڈو مور کی گردان کے بعد سیکرٹری سٹیٹ ریکس ٹلرسن،جنرل جوزف ووٹل اور صدر ٹرمپ کی مشیر برائے جنوبی ایشیا لیزاکرٹس بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں ۔ لیکن امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا دورہ پاکستان اس حوالے سے کچھ مختلف ہے کہ اپنے دورہ پاکستان سے پہلے تو جیمزمیٹس پاکستان کے خلاف سخت بیان بازی کر چکے ہیں لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران انہوںنے سخت مطالبات کی بجائے دہشتگردی جیسے چینلج سے نمٹنے کے لئے مشترکہ میدان تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا کم از کم امریکہ کے ساتھ تعلقا ت کے بارے میںSAME PAGEپر ہونا ہے ۔ ورنہ اس سے پہلے پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ہماری خارجہ پالیسی شخصیات کی یرغمال رہی ہے بلکہ آمرانہ ادوار حکومت کے لئے تو یرغمال کا لفظ بھی چھوٹا پڑجاتا ہے ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیردفاع خواجہ آصف واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان نے بہت کچھ کر لیا اب امریکہ سمیت عالمی برادری کو بھی کچھ کر کے دکھانا ہوگا۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے افغان سرزمین کے استعمال کی طرف ہے اور اس میں امریکہ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے فوجیں افغانستان میں موجود ہیں ۔ کابل حکومت کا ملک کے چالیس فیصد سے زیادہ حصے پر کنٹرول نہیں ہے لیکن اس کے ذمہ داری بہرحال کابل انتظامیہ اور امریکی قیادت میں نیٹو فوج پر عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانستان سے دہشتگردوں خاص طو رپر ٹی ٹی پی کا خاتمہ کرے ۔

قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم کی زندگی نے زیادہ عرصہ وفا نہ کی اور وہ ایک سال بعدہی چل بسے ۔ یہ عرصہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کی جزئیات طے کرنے کے لئے ناکافی تھا لیکن قائد اعظم نے اپنی زندگی میں ہی نوزائیدہ مملکت کی خارجہ پالیسی کے بنیادی خطوط کی وضاحت فرما دی تھی ۔ بھارتی حکمرانوں نے خارجہ پالیسی کے میدان میں بہترین حکمت عملی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے سپر پاورسوویت یونین کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن دوسری سپرپاور امریکہ کے ساتھ بھی اپنے تعلقات خراب نہیں کئے ۔ اپنے نظریا ت اور حالات کے جبر کی وجہ سے پاکستان کو امریکی کیمپ میں شامل ہونا پڑا اور قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پے در پے تبدیل ہونے والے حکمرانوں کو اپنے خلاف ہونے والی سازشوں سے ہی فرصت نہیں تھی تو وہ خارجہ پالیسی جیسے نازک اور اہم ترین معاملات پر کیا توجہ دیتے ۔ آئے روز کی بدلتی حکومتوں کا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب جنرل ایوب خان نے حکومت پر قبضہ کرلیا ۔

ایوب خان نے ذاتی اقتدار کو طول دینے کے لئے امریکیوں کو ہر وہ سہولت دی جس کا انہوں نے مطالبہ کیا لیکن اس دوران ا پاکستان کے قومی مفادات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ پشاور کے قریب بڈھ بیر کے ہوائی اڈے سے اڑنے والاامریکی طیارہ یوٹو سوویت یونین کی جاسوسی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور سوویت یونین کے حکمرانوں نے دنیا کے نقشے پر پشاور کے گرد سرخ دائرہ کھینچ دیا۔ ایوب خان کے بعد اقتدار یحیی خان کے ہاتھ آیا تو اس نے ملک میں ایک سول حکومت کے قیام کے لئے انتخابات توکروا دئیے لیکن ذاتی اقتدار کی ہوس میں اس نے انتخابات کے نتائج اور جمہوریت کے تقاضو ں کے خلاف اقتدار شیخ مجیب کے حوالے کرنے سے لیت ولعل کیا ۔اقتدار کی اس لڑائی کا انجام سقوط ڈھاکہ کی صورت میںاس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت کے منہ پر کالک ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ذاتی بصیرت کے مطابق خارجہ پالیسی بنائی ، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کئے ،خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر اسلامی بلاک بنایا جس نے سپر پاور امریکہ کو تیل کی طاقت کے بل بوتے پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی او رسوویت یونین کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ۔افغانستان جسے ہماری قیادت اپنا ’’برادر اسلامی ملک‘‘کہتے تھکتی نہیں وہ کبھی بھی ہمارادوست نہیں رہا۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ افغانستان کے جہادی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی بھٹو نے ہی شروع کیا تھا۔ بھٹو نے ایٹمی پروگرام کا آغاز بھی کیا لیکن اپنی کمزوری اور امریکہ کی طاقت کا اندازہ کئے بغیر امریکی قیادت کو مولاجٹ قسم کی تڑیا ں لگانی شروع کردیں ۔ ظاہر ہے اس کا منطقی انجام وہی ہوسکتا تھا جو ہوا۔

اقتدار مرد مومن مرد حق کے ہاتھ میں آیا تو سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ سرد جنگ جاری تھی اورامریکہ کے لئے یہ ایک نادر موقع ۔ضیاء الحق نے افغانستان میں امریکی مہرہ بننے کے عوض ملنے والی امداد کو ’’مونگ پھلی کا دانہ ‘‘ قرارد یا لیکن بعد میں امریکی ڈالروں کی ایسی بارش ہوئی کہ پاکستانی فوج کے سینکڑوں مجاہدین کو اسی دنیا میں جنت کا مزہ میسر آگیا ۔ضیا ء الحق کو لیکن یہ کریڈٹ ضرور دیا جانا چاہیے کہ افغان جنگ کے دوران انہوں نے امریکی امداد کی بدولت پاکستانی افواج کو دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک بنا دیا اور اسی دوران ایٹم بم کے منصوبے کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ۔ امریکی چیختے رہے کہ پاکستان ایٹم بم بناچکا ہے لیکن ضیاء الحق نے سرے سے یہ ماننے سے ہی انکار کردیا کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ۔

ضیا ء الحق کے بعد بینظیر بھٹواور نواز شریف کو حکومت کے نام پر کچھ عرصہ کے لئے وزیراعظم ہاؤس میں رہنے کا موقع تو ملا لیکن ایک مضبوط خارجہ پالیسی کی تدوین کے لئے ان کے پاس مناسب وقت بہرحال نہیں تھا ۔نواز شریف کے دور میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ پاکستان سے کچھ امید بندھی لیکن پرویز مشرف نے کارگل جنگ شروع کرکے سیاسی قیادت کا سارا کیا کرایا ’’کھو ہ کھاتے ‘‘ ڈال دیا۔ جنرل کولن پاؤل کے مطابق نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے کے لئے پاکستان کی معاونت حاصل کرنے کی غرض سے درجن بھر مطالبات کی فہرست بنائی گئی تھی اور امریکی قیادت پرامید تھی کہ تین چار مطا لبات بھی پورے ہوگئے تو کام ہوجائے گا لیکن ڈرتا ورتا کسی سے نہیں والا کمانڈو ایک ہی فون کا ل پر پتلون اتار کے اوندھا لیٹ گیا۔ فضائی اڈے امریکیوں کے حوالے کرنے سمیت امریکیوں کو کیا کچھ دیا گیا یہ کہانی ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی ۔ قوم لیکن دہشتگردی کے غلیظ جوہڑ میں ’’نکو نک‘‘ ہوچکی ہے ۔ پیپلزپارٹی کی منتخب سول حکومت کے دور میں آپریشن راہ نجات بھی ہوا لیکن کولیشن سپورٹ فنڈ آج بھی امریکہ کی طرف ادھار ہے ۔ نواز شریف نے بعد از خرابی بسیار ضرب عضب شروع کیا۔مسجد میں سو روپے کی چپل تک نہ چھوڑنے والی قوم میں میاں نواز شریف جھوٹے اور خائن قرار پائے ہیں اور قوم ردالفساد میں مصروف ہے ۔ ’’فرینڈز،ناٹ ماسٹر‘‘ سے لے کر جیمز میٹس کے حالیہ دورے تک پاکستان نے وہ سب کیا جو امریکہ نے کہا لیکن کرنے کا جو کام تھاوہ نہیں کیا ۔ دنیا بھر میں ریاستیں ایک دوسرے سے معاملات طے کرتے وقت بہترین سودے بازی کرتی ہیں جسے سفارتی زبان میں BARGAININGکہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے حکمران خاص طور پر فوجی حکمران قومی مفادات کے حصول کے لئے انتہائی ضروری اس ہنر سے با لکل بے بہرہ تھے ۔ یہ درست ہے کہ عالمی حالات بھی ایسے ہی تھے کہ ہمیں امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا لیکن اس دوران بھی اگر درست معلومات کی بنیاد پر ہوئی تحقیق کی روشنی میں FUTURE ORIENTEDخارجہ پالیسی ترتیب دی جاتی تو پاکستان آج بہت بہتر حالت میں ہوتا لیکن ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے شخصیات کی یرغمال رہی ہے ۔ دنیا بھر میں معلومات اور تحقیقات کی بنیاد پر مستقبل کے تقاضو ں پر پورا اترنے والی خارجہ پالیسیاں ہی کامیاب قرار پاتی ہیں دقت مگر یہ ہے کہ ہمیں یہ بدعادت شروع سے ہی نہیں رہی بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے کہ میاں نواز شریف کو کھیل کے میدان سے باہر کرنے کے بعد امریکہ سے دودو ہاتھ کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی قد آور سیاسی شخصیت بھی موجود نہیں ۔ پاکستان کو چاہیے کہ امیر المجاہدین علامہ خادم رضوی کو آگے کرے ، جس نے ریاست سے سرنڈ ر کرایا، زاہد حامد کا استعفیٰ لیا اور جرنیلوں سے یہ اعتراف بھی کرایا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ممکن ہے وہ ٹرمپ سے بھی استعفیٰ لے لیں اور اپنی مرضی کا نیا امریکی صدر بھی لے آئیں تاکہ دنیا میں امن کا بول بالا ہو۔