ڈگڈگی بج اٹھی۔۔

سوچ ہی رہا تھا کہ طاہر القادری کے ساتھ آصف علی زرداری کی محبت بھری ملاقات پر لب کشائی کی جسارت کروں یا نہیں۔ کم از کم یہ ہی پوچھ لوں کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جسے یزید قرار دیا تھا آج اس کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے ہنستے ہوئے کہیں دل کے کسی کونے میں ہلکی سی ندامت کا احساس اپنے شیخ الحدیث کو ہوا ہو گا یا نہیں؟۔
پوچھنا تو یہ بھی تھا کہ جناب کیا آپ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ ایک پل میں کسی کو یزید قرار دیں اور اگلے لمحہ میں اسے ساتھ بٹھا کر اس کے ساتھ ہنستے ہوئے تصویر بنائیں اور ہاتھ بھی پکڑا ہو۔ تصویر بنواتے ہوئے یہ مسکراہٹ بلکہ قہقہے واقعی حقیقی تھے یا منافقت کی جا رہی تھی؟۔
خیر ابھی یہ سوال سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ٹی وی پر دیکھا بھارت کے ساتھ یاری،بھتہ خوری اور قتل کے لیے مشہور متحدہ قومی موومنٹ کے پرچم تلے بڑے ہو کر اچانک ملک کے وفادار ہو جانے والے مصطفی کمال بھائی نے بھی طاہر القادری صاحب کے ساتھ ملاقات کی۔
چلیں بات ملاقات تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن ساتھ میں ان کے بیان کے ٹکر جب چلنے شروع ہوئے تو ہنسی کے فوارے چھوٹ پڑے۔۔ اپنے مصطفی کمال بھائی فرما رہے تھے مصطفی کمال اور اس کے ساتھی ظالم نہیں ہیں۔۔ اور رکیں یہاں یہ سلسلہ رکا نہیں،یہ پہلا لطیفہ تھا،اس کے بعد کے شگوفے بھی ایسے ہی ہنسائیں گے۔
بھلا بتائیے، جس جماعت کے حوالہ سے دنیا کہتی ہے اس نے بھتہ خوری ، موبائل چھیننے اور پارٹی کے خلاف کام کرنے والوں کے قتل سے شہرت پائی ہے، اس کے صف اول کے لڑاکا کہتے ہیں ہم ظالم نہیں۔۔ ظاہر ہے وہ ان سب کاموں کو ظلم نہیں سمجھتے ہوں گے۔
مصطفی کمال بھائی مزید فرماتے ہیں ملک میں کہیں بھی ظلم ہوا مظلوم کے ساتھ ہوں گے۔۔ یہ تو ہمیں معلوم ہے جناب مظلوم کے ساتھ ظلم کرنے والا ساتھ کھڑے ہو کر ہی ظلم کرتا ہے ۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک اخبار کا مشہور نعرہ تھا جہاں ظلم وہاں۔۔۔۔۔اور یقین مانیں جہاں وہ جاتے تھے ظلم ضرور ہوتا تھا۔
ان کی بلیک میلنگ کے ظلم سے تنگ آ کر کئی کاروباری افراد نے اپنا اخبار شروع کر دیا۔۔ کہتے تھے جتنا پیسہ ہم اپنا اخبار چھاپنے میں لگاتے ہیں اس سے زیادہ مہینے کا بھتہ لے جایا کرتے تھے، جہاں ظلم وہاں ۔۔۔۔ والے۔
اس لیے اس بات کو تو ساری دنیا مانتی ہے ایم کیو ایم کے بانی کارکنان ہمیشہ وہاں ہوتے ہیں جہاں ظلم ہوتا ہے، سکاٹ لینڈ یارڈ جیسے تفتیش کار دنیا بھر کے پاس نہیں، ان کو بھی ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل کا نہیں پتا چل سکا۔۔ بہت سر پٹخا لیکن انہوں نے وہاں برطانیہ میں بھی تمام ثبوت مٹا دیئے ۔
تیسرا لطیفہ جو مصطفی کمال نے سنایا ہے وہ بہت زیادہ ہنسنے والا ہے اس لیے پیٹ تھام کر رکھئے اس میں بل پڑنے کا سو فیصد خدشہ ہے۔۔ کہتے ہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔۔ اچانک دل میں بات آئی ،کوئی بھائی سے پوچھے جناب اگر جان کی امان پاؤں توعرض کروں۔ پہلے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو منطقی انجام تک نہ پہنچا لیں؟۔
اللہ پاک رحم کرے، ظلم تو ماڈل ٹاؤن میں بھی ہوا لیکن وہاں جان سے جانے والوں کی تعداد اٹھائیس تھی (کیوں ظلم ہوا کیسے ہوا، کون کون ذمہ دار، اس پر بات پھر کبھی سہی)۔۔ دوسری جانب جب ہم بلدیہ ٹاؤن کی بات کریں تو وہاں دو سو سے زیادہ مزدوروں کو جلا کر راکھ کرنے والے پاک سرزمین میں عیاشی کر رہے ہیں۔
جب مصطفی کمال بہت کمال کے ساتھ کہتے ہیں کراچی کے نوجوانوں کو بھی عام معافی دی جائے تو کراچی کی وہ مائیں جن کے سامنے اس کے جوان بیٹوں کو مارا گیا تھا وہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر ایسی رعایت مانگنے والے کے لیے موت کی دعائیں کرتی ہیں۔۔
چوتھا لطیفہ مصطفی کمال بھائی نے جو سنایا اسے سن کر معلوم ہو گیا کہ سکرپٹ کون لکھ رہا ہے؟۔ کہتے ہیں عدالتوں کے تمام فیصلے تسلیم کریں گے۔۔ جی ہاں، ابھی نہیں کریں گے تو کب کریں گے، بہت سے لوگ یہ جانتے ہیں بہت سی یقین دہانیوں کے بعد ہی آپ وطن واپس آئے تھے اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے ساتھ مل کر پارٹی بنائی تھی۔
آپ کو معلوم ہے آپ کے خلاف اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں آئے گا، آپ کو غدار نہیں کہا جائے گا جب تک آپ کوئی غلط کام نہیں کریں گے۔
مصطفی کمال کے ٹکرز کے بعد جب یہ خبر بھی چلی کہ کل چوہدری برادران کے ساتھ بھی طاہر القادری کی ملاقات ہے تو ہنسی میں مزید اضافہ ہوا۔
ایسی چیزوں سے کمزور سکرپٹ اور ہدایت کارکی ناتجربہ کاری واضح ہو جاتی ہے۔ پہلے شیخ رشید، پھر آصف زرداری، پھر مصطفی کمال اور پھر چوہدری برادران کے ساتھ ملاقات کا شیڈول بہت سے گمان کو یقین میں بدل جاتا ہے ۔ پھر اپنے خان صاحب بھی کہہ بیٹھے ہیں ماڈل ٹاؤن پر قادری کا ساتھ دیں گے۔
پھر جناب طاہر القادری نے بھی پردہ مزید اوپر اٹھایا کہنے لگے مائنس ون یا مائنس ٹو پر یقین نہیں رکھتا، اب مائنس ایوری ون ہو گا۔ یہ بھی لکھا ہوا جملہ پڑھ گئے طاہر القادری صاحب اور انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ مائنس ایوری ون کا فارمولہ پہلے سے طے شدہ ہے۔اب سارے ہی مائنس ہوں گے۔
طے شدہ فارمولہ ہی تو ہے جہاں ڈگڈی بجاتا مداری بندر کو نچاتا ہے۔۔۔ آج بندر ناچ رہے ہیں جس سے مجھے بھارتی فلم کا گانا یاد آ گیا، ڈگڈگی باج اٹھی آیا مداری۔۔ نیچے والوں یاد کرو سب اوپر والے کی۔ ابھی ہم سب یاد کر رہے ہیں اوپر والے کو ۔۔ کل یہ ناچنے والے کریں گے۔
شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان