کیا ریاست جرم میں ملوث ہے؟

اگر آپکا کوئی عزیز بیرون ملک جاب کیلئے گیا ہو اور اسے بلا وجہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو آپکو کیسا محسوس ہو گا؟ یا آپکو اطلاع ملے کے آپکے بھائی( جو بیرون ملک مزدوری کر رہا ہے) کو ٹھیکیدار نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا اور اب ٹھیکیدار پر مقدمہ بھی درج نہیں ہو رہا تو آپکے کیا جذبات ہونگے؟ آپ کا خون گرمائے گا اور آپ میں بدلہ لینے کا شدید احساس پیدا ہو گااور جب علم ہو کہ آپکے بے گناہ بھائی کو تشدد کا نشانہ بنانے والا اس ریاست کے ایک وزیر کا کزن ہے اور اس کی پشت پناہی وہاں کے وزیر اعظم کا سیکرٹری(پی آر او) کر رہا ہے تو آپ اس ریاست کو کیسا سمجھیں گے؟ اور یہی کام اگر آپکی ریاست میں کسی غیر مقامی کے ساتھ ہو تو کیا کریں گے؟

ہوا کچھ یوں کہ بیرسٹر افتخار گیانی کے کزن بلال گیلانی نے دو زور قبل تین مزدوروں پر گولی چلائی اور اثر و رسوخ استعمال کر کے مقدمہ بھی درج نہ کروانے کی کوشش کی تاہم بعد ازاں اقدام قتل کا مقدمہ تو درج ہوا لیکن ملزم کو گرفتار نہ کیا گیا۔واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ” مظفرآباد میں تین پختون(جنکا تعلق بٹ گرام سے ہے ) نوجوان مزدوروں (نوراللہ عمر، عبدالعزیز عمراور شیر گل عمر ) کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا۔بروز سموار صبح نو بجے کے قریب اپر چھتر چوک سے تین آدمیوں کو مزدوری کے لیے دھنی ماہی صاحبہ کے مقام پر بلایا گیا ۔ کام کے دوران ٹھکیدار(بلال گیلانی )کی طرف سے غیر معمولی سختی برتی گی اور ساتھ گالیاں دے کر کام جلدی ختم کرنے کا کہا گیا جس پر مزدوروں نے کام نہ کرنے کہا ۔جس پربلال گیلانی نے پستول کے فائر کر کے تینوں کو زخمی کر دیااور خنجر کے وار کر کے مزید حالت خراب کر دی ۔بتایا جاتا ہے کہ بلال گیلانی کی حمایت میں آصف مصطفائی (ن لیگ کے مقامی رہنما) نے اثر و رسوخ استعمال کر کے ایف آئی آر تک نہ ہونے دی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کا اصل ٹھیکیدار آصف مصطفائی ہے اور اس نے یہ سکیم لیکر بلال گیلانی کو دی۔

حکومت ایک طرف گڈ گورننس کے نعرے لگاتی ہے اور دوسری طرف وہ اپنے قریبی لوگوں کے جرائم پر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور سرعام گولیاں چلانے والے دندناتے پھرتے ہیں تو ان کو گرفتار نہیں کیا جاتا بلکہ حکومتی شخصیات ان کی پشت پناہی پر اتر آتی ہیں۔اب وہ تینوں مزدور جورزق کے حصول کی غرض سے آئے تھے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کوئی اپنے بھائی پر ہونے والے ظلم پر احتجاج کس طرح کرتا ہے ؟
اس سے پہلے بھی اسی حکومت کے دور میں وزیر اعظم اور مذکورہ وزیر کا نام استعمال کر کے کئی لوگ بڑے بڑے جرائم میں ملوث ہیں ۔ وزیراعظم کے حلقہ میں کمزور برادری کی غریب خاندان کی شادی شدہ عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی پھر غربت کی ماری متاثرہ عورت بارے کہا گیا کہ یہ غلط تھی۔ نمازیں پڑھانے والی عدالت نے تاریخ پر تاریخ ڈالی کئی مرتبہ میڈیکل کروانے پڑے حتاکہ اس ڈرامے سے تنگ ا کر عورت کے خاوند نے کیس ہی واپس لے لیا ۔ اس پر حیرت یہکہ ریاست بھی مکمل طور پر انمپورٹنٹ بن گئ حلانکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں کریمنل کیسیز ہمیشہُ فرد اور ریاست کے مابین ہوا کرتے ہیں جنمیں معافی کا تصور انصاف کا قتل مانا جاتا ہے.

ایسے واقعات کا حکومت کو نوٹس لینا چاہئیے تاکہ فاروق حیدر بدنامی سے بچ سکیں اور اپنے سٹاف میں ایسے لوگوں کو نہ رکھیں جو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ”باطل کی حکومت تو چل سکتی ہے لیکن ظلم کی نہیں ”۔