جرم کی دنیا/ اسرار احمد راجپوت

خفیہ ادارے کا راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی بوائز ہاسٹل پر چھاپہ

ایک خفیہ ادارے کے اہلکاروں کا اصغر مال سکیم میں واقع راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے بوائز ہاسٹل نمبر ۲ پر چھاپہ اور داعش سے لنک کے شبعہ میں پکڑے جانے والے ایم بی بی ایس کے سٹوڈنٹ محمد جوادکے کمرے کی تلاشی لی۔

زرائع اور عینی شاہدین کے مطابق خفیہ ادارے کے اہلکار جواد کو بھی سخت حفاظتی حصار میں ساتھ لائے جس نے ان کی کمرے تک پہنچنے میں رہنمائی کی۔ دوران تلاشی اہلکاروں نے جواد کا سامان بھی قبضہ میں لے لیا۔

بعد ازاں اہلکاروں نے ہاسٹل کے وارڈنز سے بھی ملاقات کی اور جواد احمد کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ زرائع کے مطابق کچھ اور سٹوڈنٹس سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔
دوسری جانب راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ نے اس وقوعہ بعد چُپ سادھ لی ہے اور اپنی فیکلٹی اور دوسرے ملازمین کو سختی سے ہدایات جاری کیں کہ کسی کو بھی جوادسے متعلق معلومات مہیا نہ کریں۔

rawalpindi 
medical clg

یونیورسٹی کے ایک ملازم نے سٹیٹ ویوز کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اینٹیلیجینس ایجینسی کے اہلکاروں نے ہاسٹل پر گذشتہ دنوں چھاپہ مارا جس کے دوران جواد احمد بھی ان کے ہمراہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جواد احمد نے دوران داخلہ ہاسٹل میں کمرہ الاٹ تو کروا لیا تھا مگر وہ اس میں رہتا نہیں تھا اور کبھی کبھار آتا تھا۔

ایک اعلیٰ سرکاری ادارے کے افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ جواد کچھ دن قبل افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا جہاں مختصر قیام کے بعد وہ کوئٹہ آیا اور وہاں سے ملتان پہنچا۔ اعلیٰ افسر نے بتایا کہ چونکہ خفیہ ادارے کا ایک نہایت ہی قابل اور بہادر افسر اپنے سٹاف کے ہمراہ جواد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا اس نے جوادکو ملتان سے لاہور پہنچنے پر گرفتار کر لیا اور تفتیش کے لیے خفیہ مقام پر منتقل کر دیا۔

واضع رہے ملک کی ایک اعلیٰ ترین انٹیلیجینس ایجینسی نے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے ایم بی بی ایس سال سوئم کے طالب علم جوادجو کہ سرائے عالمگیر ضلع گجرات کا رہائشی ہے کو دہشت گرد تنظیم داعش سے مبینہ تعلقات کے شبعہ میں گرفتار کر لیا تھا۔

مزید پڑھیے