چوہدری یاسین کےمقابلےمیں سینئربیوروکریٹ ڈاکٹرمحمود الحسن سیاست میں کودپڑے

رپورٹ: سیدوسیم عباس
اسلام آباد: سٹیٹ ویوز

سابق سیکرٹری آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر ڈاکٹر محمود الحسن قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لیکرسیاست میں کودپڑے۔اس فیصلے کےبعد 8 جنوری بروزسوموار آبائی علاقے اورانتخابی حلقے چڑھوئی(کوٹلی) آمدپرانکا فقیدالمثال استقبال کیا جارہا ہے۔

زندگی کےاہم فیصلے کااعلان سٹیٹ ویوز کےپلیٹ فارم سےکررہا ہوں

اپنی زندگی کےاس اہم موقع پر انہوں نےسٹیٹ ویوزڈیجیٹل میڈیا گروپ کےدفترکا خصوصی دورہ کیا اورایڈیٹرسید خالدگردیزی کےساتھ گفتگو میں انہوں نےباقاعدہ سیاست میں آنےکی افواہوں کی تصدیق کی اوراس امرکااظہارکیا کہ دورجدیدکےتفاضوں سےہم آہنگ سٹیٹ ویوز میڈیاگروپ کےپلیٹ فارم سےباقاعدہ سیاست کےآغازکا اعلان انکےلئےباعث مسرت ہے۔

ہیلتھ سے سول سروس میں آیا۔

اس موقع پرڈاکٹرمحمودالح​سن کی کی بحثیت سرکاری آفیسر پیشہ ورانہ زندگی کےبارےمیں جانا گیاتو انہوں نےبتایاکہ کیریئر کاآغاز 1987میں سی ایم ایچ مظفرآباد میں بطورمیڈیکل آفیسرکیا۔بعدمیں پوسٹنگ کوٹلی میں ہوئی۔وہاں 3سال سروس کے بعد سپیشلائزیشن کیلئے لاہور گیا مگرقدرت کو کچھ اورہی منظور تھا۔1990میں اسسٹنٹ کمشنر کا امتحان دیاتو اللہ کے فضل وکرم سے کامیابی ہوئی۔میری پہلی تعیناتی بطور اسسٹنٹ کمشنر فارورڈکہوٹہ میں ہوئی۔ دس ماہ بعد میں راولاکوٹ میں ڈپٹی کمشنرکے عہدے پرتعینات ہوا۔کمشنر بھی رہا اوربالاخر27 سال سروس کااختتام سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کےطورپرہوا۔فیلم​ی کاتعارف کراتےہوئےانہوں نے بتایاکہ میرےوالدمحترم 1940 میں گریجویٹ تھے۔میرےبھائی سول وملٹری بیوروکریٹس اوربیٹااور اہلیہ بزنس کرتےہیں۔

جدت اورریفارمزپریقی​ن رکھتا ہوں

انہوں نےبتایاکہ وہ جدت اور ریفارمزپریقین رکھتےہیں۔آزادکشمیر میں سب سے پہلے اینڈرائڈ بیس مانیٹرنگ شروع کی جس کے تحت تمام منصوبوں کی مانیٹرنگ کی گئی۔بعدازاں آئی ڈی بی جیسے ادارے نے 15لاکھ روپےخرچ کرکے ایپلیکشن ہم سےبنوائی۔

عوامی نمائندہ ہی تنازعہ کشمیر پرسٹینڈ لےسکتاہے

آزادکشمیر کے نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں مگر تنازعہ کشمیر کی وجہ سے آزاد کشمیر کی الگ حیثیت ہے جس کا اپنا صدر،وزیراعظم،چیف جسٹس ہے۔وہ اسلئے کہ کسی بھی وجہ سے مسئلہ کشمیرپرکوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔سکندرحیات کے دور میں کشمیرلبریشن سیل بنا جس کا میں سیکرٹری بھی رہا اس دور میں راجہ امتیازکو جنیوامسئلہ کشمیراوربھارتی مظالم اجاگرکرنے بھیجا گیا۔میری خواہش ہے کہ کشمیر کے حوالے سے تمام محکموں کی رائے لی جائے اوران کی رائے کا احترام کیا جائے ۔میں نے چوہدری مجید کے دور حکومت میں ان کو مشورہ دیا تھا کہ مطلوب انقلابی کی قیادت میں وفدجنیوا بھیجا جائے۔مطلوب انقلابی زمانہ طالبعلمی سے رہنما کے طور پر خودکومنواچکے ہیں۔چاہتا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ وہ شخص اجاگر کرے جو حقیقی معنوں میں کشمیریوں کا نمائندہ بھی ہو۔آزادکشمیر حکومت مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی نمائندہ بھی ہے۔اسمبلی میں  12 نشستیں مہاجرین جموں کشمیر کیلئے مختص ہیں۔یہ ہمارافرض بنتا ہے کہ اہل لوگوں کی قیادت میں وفد دنیامیں بھیجے جائیں جو مسئلہ کشمیر اوربھارتی مظالم کو صیح معنوں میں اجاگرکریں۔

لوگوں سےمشاورت کرکےپارٹی جوائن کروں گا
ڈاکٹرمحمود الحسن سے پوچھا گیا کہ وہ کس پارٹی میں جانا پسند کرینگے تو ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نوازذاتی طور پر پسند ہے۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اوروزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر کوقدر کی نگاہ سے دیکھتاہوں،پاکستان کی سیاست سے نوازشریف کو کبھی مائنس نہیں کیا جا سکتا۔میاں نوازشریف واحدوزیراعظم ہیں جنکے جانے کے بعد بھی ان کے منصوبوں سے لوگ مستفید ہورہے ہیں اورمتعدد منصوبے زیرتکمیل ہیں تاہم انشاء اللہ اپنے قریبی لوگوں اورعوام کی رائےلیکر فیصلہ کروں گا۔اس حوالے سے کل سے چڑہوئی کا دورہ شروع کروں گا۔ میں نے بطور سرکاری آفیسر اپنی ڈیوٹی بخوبی نبھائی اور انشاء اللہ سیاست میں یہ سلسلہ جاری رکھونگا۔

محنت سےکمایا۔اثاثےدک​ھاؤں گا
آپکےپاس دولت کہاں سےآئی؟اس سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ 2005میں آنیوالے زلزلہ کے وقت میں بالکل مایوس تھا اورکینیڈاکی امیگریشن کا ارادہ رکھتا تھا لیکن والد کی خواہش تھی کہ ملک میں رہ کر ملک کی خدمت کروں لہذاارادہ ترک کیا جس پر بچوں کی ناراضگی کا سامنا بھی رہا۔میری اہلیہ گائناکالوجسٹ ہیں۔انہوں نے قبل ازوقت ملازمت ترک کرکے کوٹلی میں ہسپتال شروع کیا۔اللہ نےکرم کیا تو ایل پی جی کے پلانٹس بھی شروع ہوئے۔بیٹے کی زیرنگرانی کشمیرموٹرزشاید سب سےزیادہ ٹیکس کرنےوالابزنس ہے ۔ہم نےفلاحی ادارہ بھی بنارکھا ہے جسکا کوٹلی یونیورسٹی سےمعاہدہ ہےاوراسکے تحت نادار طلباء کی فیسیں اداہوتی ہیں۔جب کبھی مجھے کسی ایسےپلیٹ فارم پرجانا ہوا جہاں اثاثہ جات بتاناپڑےتومیں تمام اثاثہ جات شوکرونگا۔

سیاست میں گیارواں کھلاڑی نہیں بنوں گا
بطورسیکریٹری لوکل گورنمنٹ لوگوں کیلئےخدمات سرانجام دینے کی بجائےمدت سے قبل ریٹائرمنٹ لیکرسیاست میں آکرلوگوں کی خدمت کرنےسےمتعلق انہوں نے کہا کہ میرےآبائی حلقہ چڑہوئی میں محض 2بڑی جماعتیں ہیں۔پی پی کے پاس مسلمہ لیڈرشپ موجود ہے۔میری ریٹائرمنٹ کی الوداعی تقریب کے موقع پر وزیراعظم راجہ فاروق حیدرنے کہا کہ اب چڑہوئی کوآپ نے سنبھالنا ہے ان کے اس بیان نے کوٹلی کی سیاست کو ایک نیارخ دیا۔حلقہ میں پرانےمسلم لیگی راجہ اقبال ،راجہ ریاست کی میں بہت عزت کرتاہوں اورپارٹی کیلئےانکی خدمات کوسراہتاہوں۔میں سیاست میں گیارواں کھلاڑی نہیں بنونگا اورنہ کسی کوآؤٹ کرونگابلکہ کوشش کروں گا کہ ریاستی اورملکی سطح پراصلاحات کی سیاست کروں۔ایکٹ 74 میں ترامیم سمیت ریاست کے حقوق کے حصول کیلئے راجہ فاروق حیدر کادست وبازوبنوں اورساتھ ہی ساتھ پاورپولیٹکس کوبھی ساتھ چلاؤں۔چڑھوئی میراگھر ہے لیکن انشاء اللہ خود پر کوٹلی کی چھاپ نہیں لگنے دونگا ۔

چوہدری یاسین تشددکی سیاست کےبانی ہیں
ایک سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرچوہدری یٰسین سے اختلاف یہ ہےکہ انہوں نے حلقہ میں تشددکی سیاست متعارف کرائی۔الیکشن کے موقع پر عوام کو نفسیاتی دباؤمیں مبتلا کیا جاتا رہا۔سال1991کے الیکشن میں بھی طاقت کے زورپرسسٹم کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی جسے عوام نے ناکام بنادیا اورحاجی اکرم کامیاب ہوئے ۔گذشتہ الیکشن میں بھی یہی ڈرامہ رچایا گیا۔چیف سیکرٹری اور آئی جی کی ملی بھگت سے پی پی کے امیدوار کو پولیس کاتحفظ فراہم کرکے عوام تک غلط پیغام پہنچایا گیامگر میں مستقبل میں ایسا کچھ نہیں ہونے دونگا اوراس امرکویقینی بناؤں کا عوام اپنی رائے کا آزادانہ اور بھر پوراستعمال کرسکیں گے ۔
ویڈیو دیکھیں: