نقطہ نظر/صیام خان

ملک کودرپیش خطرات

ہم میں سے کچھ لوگ سگریٹ پیتے ہیں کچھ نہیں بھی پیتے، کچھ سیگریٹ دل کی آگ کو کم کرنے کے لیے پیتے ہیں اور کچھ دنیا کو آگ لگانے کے لیے۔ جی ہاں سگریٹ پینے کا مہذب طریقہ یہ ہے کہ سگریٹ پیو اپنے پھیپھڑوں کا جنازہ نکالو، کینسر سے مرو ،مگر دوسروں کو نہ دھویں سے مارو اور نہ ہی آگ سے۔مگر کچھ لوگ پٹرول کا ٹینک دیکھ کر سیگر یٹ سُلگاتے ہیں ایک کش لگاتے ہیں اور سگریٹ کو پٹرول ٹینک میں پھینک دیتے ہیں۔بھوم،،، بھوم کر ٹینک پھٹتا ہے ،خود جلتا ساتھ کہیں عمارتوں کو جلانے کا باعث بنتا اور نتیجے میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوتیں ہیں اور افراتفری پھیلتی ہے ،جی ہاں افرا تفری پھیلتی ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک منصوبہ جتنی تیزی سے اپنی تکمیل کی طرف گامزن ہے اسی تیزی سے کچھ طاقتیں پٹرول ٹینکس میں سگریٹ پھینک کر پاکستان کو پھونکنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔بچوں کے قتل اور اُن پر اداروں کی خاموشی ایک ایسی آگ کو ہولے ہولے ہوا دے رہی ہے جو پاکستان میں ایک بہت بڑی افراتفری کا باعث بن سکتی ہے، کچھ لوگ سیگر یٹ پھینکنے کی تیاری میں ہیں اور کچھ لوگ پٹرول کے ٹینکر اُس سیگر یٹ کے نیچے کھڑے کر رہے ہیں۔عام لوگوں کو اپنا ہتھیار بنا کر مشتعل کیا جا رہا ہے، مختلف گروہوں کو ملک دشمن عناصر استعمال کرنے کے در پے ہر وقت رہتے ہیں۔عوام میں ابھرتا یہ اشتعال کسی سانحے کا باعث بن سکتا ہے ،کیونکہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام انسانوں کے بیچ فاصلے بڑھتے ہیں تو اُن فاصلوں کے بیچ دہشت اپنے پاوں جمانا شروع کر دیتی اور ایسے وقت میں دشمن مُلک کے انٹیلی جنس اداروں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع میسر آتا ہے،یہ عناصرلوگوں کے غم و غصے کو ہوا دیکر کر مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرتےہیں۔

پچھلے کچھ عرصہ سے جب سے کرپشن کے بادشاہوں کے گرد گھیرا تنگ ہونا شروع ہوا ہے تب سے کبھی آرمی پبلک سکول تو کبھی ماڈل ٹاون اور پھر ختمِ نبوت جیسے حساس معاملے کو لیکر قانون سازی پھر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل تو کبھی نوجوانوں کا پولیس مقابلوں میں قتل یا پھر شازیب خان قتل کیس میں قاتل کو دہشت گردی ایکٹ میں اندر ہونے کے باوجود بری کرنا۔ یہ سب ایک عام آدمی کی برادشت کے ساتھ کھلواڑ ہے ،ایک عام انسان کے سکون کے تالاب میں مسلسل پتھر پھینکے جا رہے ہیں۔نقیب اللہ مسعود کا قتل اور اس پر ریاستی اداروں کا کردار عوام کے سامنے آچکا، ایسے ہی چند اور کیسز خدانخواستہ سامنے آسکتے ہیں جو ملک کی سماجی قدریوں میں دراڑیں بڑھانے سمیت ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید کم کرسکتے ہیں ۔

اس سب سے ایک عام آدمی راستوں پر ایک کُھلے پٹرول ٹینک کی طرح گھوم رہا ہے جسے ایک سیگریٹ بھوم سے پھٹنے پر مجبور کر دیتا ہے پھر مُلک میں ہونے والی خانہ جنگی کو روکنا شاید بہت مُشکل ہو گا۔نیشنل سکیورٹی کے اداروں سے درخواست ہے کہ دشمن کے گراونڈ پر پرفارمنس دکھا نے والوں کا بندوبست کیا جائے، ملک کے اندر انارکی پھیلانے والوں کی روک تھام اور پھر خاتمہ ضروری ہے ورنہ ملک میں زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ اس میں ایک طرف سی پیک کو لیکر انڈیا اور اس کے حمایتی پوری طرح پاکستان کو توڑنے کے درپے ہیں دوسری طرف چور حکمران اپنی بقاء کے لیے ملک دشمن عناصر کی دانستہ اور غیر دانستہ مدد کر رہے ہیں۔
دعاوں میں یاد رکھیے گا۔

نوٹ: ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں.