چوہدری نثار کا کزن بن کر سادہ لوح خاندان کو لوٹنے والا جعلی پیر شکنجے میں آگیا

راولپنڈی(رپورٹ۔اسراراحمد راجپوت ۔سٹیٹ ویوز)سابق وفاقی وزیر داخلہ کا کزن بنکر سادہ لوح خاندان کو لوٹنے والا جعلی پیر قانون کے شکنجے میں آگیا ڈائریکٹر ایف آئی اے راولپنڈی زون شکیل احمد درانی نے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوھدری نثار علی خان کا کزن بن کر سادہ لوح خاندان سے کاروبار کے نام پر پیسہ اورسونا ٹھگنے والے جعلی پیر صہیب علی عُرف پیرا کے خلاف انکوائری منظور کر لی ہے۔جعلی پیر کے خلاف انکوائری کی منظوری کی استدعا ڈپٹی ڈائریکٹر سائیبر کرائم عمران سعید نے کی تھی جس کو ڈائریکٹر نے منظور کر لیا۔ڈی ڈی سائیبر کرائم نے جعلی پیر صہیب علی کو انکوائری کے لیے کل بروز بدھ دوپہر تین بجے اقبال ٹاؤن آفس میں انکوائری کے لیے طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق جعلی پیر صہیب علی عُرف پیرا نے گلشن آباد میں رہائش پذیر خواجہ وقار اور ان کی فیملی سے دوستانہ مراسم قائم کیے اور بعد ازاں اس خاندان سے کاروبار میں انویسٹمنٹ کے لیے سوا چار کروڑ روپے اور دو کلو سونا لیا اور بعد ازاں ہڑپ کر لیا۔

اس سارے جرم میں جعلی پیر کی بیوی رابعہ عرف مریم نے سا کا پورا پورا ساتھ دیا۔ جب متاثرہ خاندان نے اپنی جمع پونجی جعلی پیر سے واپس مانگی تو اس نے اپنی بیوی رابعہ کے ساتھ ملکر متاثرہ خاندان کی عزت تار تار کرنے کا شیطانی منصوبہ بنایا۔اپنی دوسری بیوی رابعہ عرف مریم کے زریعے بعد ازاں سادہ لوح خاندان کی جواں سال لڑکی کو دھوکہ سے اپنے فلیٹ پر بلا کر نہ صرف تشدد کیا بلکہ اس کی اپنے موبائل فون سے قابل اعتراض تصاویر بھی بنائی تھی۔ جعلی پیر نے یہ قابل اعتراض تصاویر لڑکی کو سوشل میڈیا ایپ واٹس ایپ پر بھیجیں اور دھمکی دی کے اگر اب اس کے خاندان نے اس سے سونا اور پیسہ واپس مانگا تو وہ یہ تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل کر دے گا۔ذرائع کے مطابق اس شیطانی منصوبہ کو عملی جامع پہناتے ہوئے جعلی پیر نے اپنی بیوی کے زریعے خواجہ وقار کی بیٹی ماہ نور وقار کو فون کروایا کہ فلیٹ پر آکر ہماری بیٹی بسمل کو اپنے گھر لے جاؤ جس پر ماہ نور جعلی پیر کے فلیٹ پر گئی۔

زرائع کے مطابق فلیٹ کا دروازہ صہیب علی نے کھولا اور ماہ نور کو کہا رابعہ اندر کمرے میں ہے۔ جب ماہ نور کمرے میں گئی تو رابعہ اندر موجود نہ تھی جبکہ اسی اثناء میں جعلی پیر کمرے میں داخل ہوا اور کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔

زرائع کے مطابق جعلی پیر نے ماہ نور پر تشدد شروع کر دیا اور بعد ازاں اسے خنجر دکھا کر برہنہ کر دیا اور اپنے موبائل فون سے لڑکی کی نازیبا تصاویر بنا ڈالیں جس کے بعد ماہ نور روتی دھوتی اپنے گھر آگئی اور اس واقعہ کا زکر اپنی ماں سے کیا جو کہ بدنامی کے ڈر سے چپ ہو گئی۔

زرائع کے مطابق چند دن بعد جعلی پیر صہیب علی نے ماہ نور کے موبائل نمبر پر اس کی نازیبا تصاویر واٹس ایپ کیں اور دھمکی دی کے اپنے ماں باپ کو منع کرو کہ پیسہ اور سونا بھول جاہیں ورنہ میں یہ سب تصاویر سوشل میڈیا پر چڑھا دوں گا اور تمھارا خاندان کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا۔ زرائع کے مطابق اس ظلم کے خلاف ماہ نور اور اس کے والدین نے پہلے اس وقت کے وزیر داخلہ چوھدری نثار علی خان کو درخواست دی جہنوں نے بجائے مجرم کے خلاف انکوائری کا حکم دینے اور حوا کی بیٹی کو انصاف دینے کے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی فیملی فرینڈ کو اتنا زیادہ پسہ اور سونا دے دے۔ جس پر حوا کی مظلوم بیٹی نے اس وقت کے ڈی جی ایف آئی محمد آملیش کو جعلی پیر اور اس کی بیوی کے خلاف قانونی کاروائی کی درخواست دی اور سارا مدعہ بیان کیا مگر ڈی جی نے بھی درخواست میں جعلی پیر کا وفاقی وزیر داخلہ سے مبینہ رشتہ پڑھ کر مظلوم خاندان کی مدد سے انکار کر دیا اور لڑکی کو مشورہ دیا کہ درخواست سے چوھدری نثار کر ذکر نکال دو تب ایف آئی اے کاروائی کر سکتی ہے۔

اس پر لڑکی نے دوبارہ درخواست لکھی جس کو ڈی جی نے سابقہ ڈی ڈی سائیبر کرائم نعمان اشرف بودلا کا مارک کر دیا۔نعمان اشرف نے لڑکی کو طلب کرکے اس کا بیان ریکارڈ کیا جس میں ماہ نور نے بتایا کہ صہیب علی نے خود کو چوھدری نثار کزن ظاہر کیا اور کہا کہ چوھدری نثار کی بیوی کو پرانے ڈیزائن کے سونے کے زیورات پہننے کا شوق ہے اور میری امی اور خالہ سے تقریباً دو کلو سونے کے زیورات صہیب اور اس کے بیوی رابعہ نے لے لیے اور جب زیورات واپس مانگے گئے تو ہر بار یہ جوڑا یہ بہانہ کرتا کہ چوھدری نثار کی بیوی چوھدری صاحب کے ساتھ ملک سے باہر ہے یا کسی شادی میں شرکت کر رہی ہے۔ ماہ نور نے یہ بھی بیان دیا کہ صہیب نے اس کے والدین سے سوا چار کروڑ روپے بھی لیے اور واپسی کے مطالبہ پر کہا کہ اس نے چوھدری نثار کے ساتھ ملکر چک بیلی خان میں رقبہ خرید رکھا ہے جو کہ جلد بیچ کر پیسہ منافع سمیت واپس کرے گا۔

ماہ نور نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ صہیب اس کے خاندان کو خوفزدہ کرنے کے لیے ان پر جادو ٹونہ بھی کرتا تھا۔ لڑکی نے ڈی ڈی کو بتایا کہ جب اس کے خاندان نے جعلی پیر پر اپنے پیسے اور سونے کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا تو صہیب نے اپنی بیوی رابعہ کے زریعے دھوکہ سے اپنے فلیٹ پر بلایا اور خنجر دکھا کر اس پر تشدد کیا اور موبائل فون سے اسکی ننگی تصاویر بنا لیں۔ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا صہیب نے اس کی نازیبا تصاویر اس کو واٹس ایپ کیں اور دھمکی دی کہ پیسہ اور سونا واپس نہ مانگنا ورنہ یہ سب تصاویر سوشل میڈیا پر چڑھا دے گا۔ لڑکی نے ایف آئی اے سے انصاف کی استدعا کی۔

ذرائع کے مطابق اس سے پہلے کہ ڈی ڈی نعمان اشرف بودلا کوئی کارووائی کرتے منسٹری آف انٹیرئیر سے ان کے تبادلہ کے آرڈر آگئے۔ زرائع کے مطابق ڈی ڈی کے تبادلہ کے بعد ماہ نور کا کیس کھٹائی میں پڑ گیا جس پر ماہ نور نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ھیومن رائٹس سیل میں انصاف کے لیے درخواست دی ڈی جی ھیومن رائٹس سیل نے لڑکی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی کو انکوائری کا حکم دیا۔ ڈی جی ایف آئی نے ڈی ڈی سائیبر کرائم راولپنڈی زون کو درخواست مارک کر دی جہنوں نے جعلی پیر کو جون 2016 میں طلب کر کے اس کا موبائل قبضہ میں لیا اور اس کو فورینزک لیب میں بھیج دیا۔ تاہم ملزم صہیب نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا جرم میں استعمال ہونے والا موبائل سامسنگ کے بجائے iPhone 6 ایف آئے اے کودیا جس پرماہ نور نے انسپکٹر/تفتیشی افسر شوکت کا نئی درخواست دی اور استدعا کی کہ پیرا سے اصل موبائل فون ریکور کیا جائے۔

دوسری جانب انسپکٹر شوکت نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کچھ ماہ قبل گلشن آباد میں واقع جعلی پیر کے فلیٹ پر چھاپہ مارا اور اس کے زاتی کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو قبضہ میں لی اور اس کو فورینزک لیب ڈیٹا ریکوری کے لیے بھیج دیا تاہم موبائل فون اور ہارڈ ڈرائیو کا رزلٹ ابھی تک نہ آیا ہے۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے راولپنڈی زون شکیل احمد درانی کی جانب سے انکوائری کی منظوری کے بعد جعلی پیر کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس کی جرم چھپانے کے تمام تر تخریبی حربے رائیگاں جائیں گی۔