قلم کی جنگ/عقیل احمد ترین

اپنی ہی عوام کیلئے میڈیا” پراپیگنڈہ مشین “کیوں بنا ؟

میرے ایک بہت ہی قابل دوست کا کہنا ہے کہ نجی ٹی وی اینکر ڈاکٹر شا ہد مسعود کے پاس “کچھ “ہے. انکو جس نے بھی سکینڈل بم دیا ہے وہ اسکو سرعام پھوڑیں گے، وہ جے آئی ٹی کو اس حوالے سے حیران کر دیں گے ، انکی اطلاع ہے کہ ڈاکٹرشا ہد مسعود نے اس ملک میں ایک میں ایک ایسے نیٹ ورک کو منظر عام پر لے آنا ہے جو پورنو گرافی چلا رہاہے اور اس میں شامل بہت سارے ایسے پردہ نشین ہیں کہ خدا کی پناہ!

میں اگرچہ اپنے اس قا بل دوست سے قطعی متفق نہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ وہ اپنے کلا ئنٹس کی خو اہشات کو تجزیہ اور خبر کا رنگ دینے میں ماہرہیں ، اس کے با وجود میرے اس دوست کا کہنا ہے کہ پندرہ دن کاٹائم ہے ، آپ دیکھیں گے کہ کتنا بڑاسکینڈل آنے والا ہے؟ اس میں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ اسکے فیصلے کا ٹائم فریم تو طے کرلیا گیا ہے اسلیے اب سب ا نتظارکیجئے. سنجیدہ طبقے ملک میں انارکی اور طوفان بدتمیزی کا منبع پرنٹ میڈیا کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا کودیتے ہیں ۔ ننھی پری زینب کیساتھ جو ظلم ہوا سوہوا ، لیکن اس پر جو سیا ست چمکائی گئی وہ قابل مذمت تھی ہے اور رہے گی ۔ ڈاکٹر شا ہد مسعود کا گراف اس وقت تا ریکیوں کامسکن ہے ، لیکن دوسری طرف اس پر چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار کا نوٹس لینا بھی کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہاہے ، آپ دیکھیں کہ اس وقت ایک اینکر کے دعویٰ پر ملکی سیاست پس پردہ چلی گئی ہے ، جب تک جے آئی ٹی ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے با رے کو ئی فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک اس پر کوئی تبصرہ بنتا نہیں ہے لیکن اس کے با وجود یہ لکھنا ضروری ہے میڈیا کے اس ڈاکٹر کی بدولت پاکستان کا نام عالمی سطح پر بدنام ہوا ہے کہ یہاں کا ایک شہر پورنوگرافی انڈسٹری کا مرکز ہے.

میں سمجھتا ہوں کہ اس؎ “شتر بے مہا ر اینکرازم” کو لگام ڈالنے اورکچھ بھی کہہ ڈالنے کی روایت کی حوصلہ شکنی کیلئے سپریم کورٹ اس معاملے کو کسی طرف لگائے گی اور اسکو لگا بھی دینا چا ہئے ، کیونکہ یہ کو ئی عام کیس ہے نہ معاملہ ، یہ ملک کے اسpillar کا معاملہ ہے جس کی کریڈیبیلیٹی پر با قی کے تین ستون کھڑے ہیں، اگر اس پلر بارے یہ رائے اور سوچ راسخ ہو جائے کہ اس کے بڑے نام ، بڑی بڑی خبریں اور تجزئیے کرنیوالوں کے لفظ اور تحریریں سب جھوٹ کا ملغوبہ اور سیاست کے بدبودار تعفن سے آلودہ ہیں توپھراس معاشرے کا کیا بچناہےاور یہاں یہ لکھنا ضروری ہے کہ ہم دور جہالت میں نہیں رہ رہے ، ہم ایک اسلامی معاشرے میں زندہ ہیں جہاں پر قرآن ، اسلام ، احادیث سیکھنا ، سننا اور زبانی یاد کرنا ہمارے کلچرکا حصہ ہے ، اسلام نے تو صحافت کے اصول تو سورۃ الحجرات سمیت کئی موقعوں پرنمایا ں کر دئیے ہیں “:اے ایمان والو:جب تمہارے پاس کو ئی فاسق خبر لیکر آئے تواسکی تحقیق کر لیا کرو”جب اسلام نے کسی بھی خبر یا اطلاع بارے پہلے تحقیق کرنے اور اسکے بعد اس پر یقین کرنے کا فا رمو لہ دیاہے تو اس کے بعد صحا فت کے رہنما اصول ازخود مرتب ہو جا تے ہیں، قرآن حکیم میں ہی ایک دوسری جگہ پر اللہ رب العزت نے جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے یعنی “جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے ،سچ کہنے کے حوالے اور لکھنے کے حوالے سے ایک جگہ ارشا دبا ری تعا لیٰ ہے “اے ایمان والو!اللہ کی طرف اپنا فرض پورا کرو ، اس سے ڈرو اور ہمیشہ سچ بولو”اور اللہ رب العزت کو سچ کس قدر پسند اور جھوٹ کس قدر نا پسند ہے کہ وہ قرآن حکیم فرقان حمید کے نزول سے چھ سو سال پہلے اپنے ایک برگز یدہ نبی حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اتاری جا نے والی عیسائیوں کی مقدس کتاب با ئبل میں بھی اسی طرح کا فرمان دیتا ہے کہ”دوسرو ں کے متعلق جھوٹ مت بولو،ایک دوسری جگہ ہے کہ :جھوٹی باتیں یا افواہیں نہ پھیلائو ،یا کسی مجرم کی مدد جھوٹی شہادت دیکر نہ کرو،گندی باتوں سے رک جاؤ.

ایسے میں جب اسلام ہم کو جھوٹ سے روکتا ہے تو پھر ہما رے مستند میڈیا میں اسکا فقدان کیوں ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ جو میڈیا میں ہورہا ہے اس میںبھی جہاں بنیا دی خرابی ریٹنگ کے حصول کی خا طر سچ اور جھوٹ میں تمیز کو ملحوظ خا طر نہ رکھنے کی روایت یا روش کی ہے وہاں پر اسکا کلی طور پر زمہ دار اس میڈیا کا ریگو لیٹر ہے جسکا کام ایسے جھوٹ کو عوام النا س کی سما عتوں سے ٹکرانے سے قبل ہی ختم کرنایا روکنا ہے ، جھوٹ جس طرح سے ہما رے نظام میں گھس اور رچ بس چکا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ کرپشن اور دہشت گردی سے بڑانا سور بن کر سامنے آرہاہے اور بدقسمتی سے اسمیں زیا دہ الارمنگ میڈیا کا اس جھوٹ وفریب کا حصہ بننا ہے ، یہ سچ ہے کہ میڈیا کو آج پراپیگنڈا کا جزو لاینفک بنایا جا چکاہے لیکن میڈیا ایسی پراپیگنڈہ مشین اپنے دشمن کیلئے تو بنا یا جا سکتا ہے اپنے ملک کی عوام کیلئے نہیں، ہم کو اس با ریک فرق کو اپنے میڈیا پرسنز اور میڈیا کی پالیسی بنانے والوں کو سمجھانا ہوگا ، اس کے علاوہ جھوٹ کو روکنے کیلئے ہم کو اسلامی تعلیمات کو میڈیا کے کورسز اور سیمینارز میں عام کرناہوگا ، ڈاکٹر شاہد مسعود کے علاوہ بھی یہاں اور بہت سارے نام ہیں جن کاکام ہی یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو پراپیگنڈہ مشین کی طرح چلاتے ہیں اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ انکا ایک ایک لفظ کچے ذہنوں کی کی مثبت یا منفی آبیا ری کررہاہے.

اس لئے اینکرز اور خاص کر میڈیا کو صرف اور صرف سچ عوام کے سامنے لاناہوگا ، ہم کتنے سچے اور کھرے ہیں اسکا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک میں ٹی وائٹنر کے نام پر دودھ کی فروخت کانوٹس لیا لیکن مجال ہے کہ کسی ایک ٹی وی چینل نے ان فراڈی دودھ کمپنیوں کا نام آن ائیر کیا ہو ،اسکی بھی ایک وجہ ہے کہ میڈیا کو پاکستان میں کبھی آزاد ہونے ہی نہیں دیا گیا ، اسکو اسکا due شیئر دیا ہی نہیں گیا ،اسکو ہمیشہ سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا اوراشتہا رات کو آرم ٹوسٹنگ کیلئے استعمال لیا جا تا رہا ، یہ ملک اور اسمیں رہنے والے ہم ہیں ، یہ جعلی دودھ ہم ، ہمارے بچے ،ہما رے عزیز رشتہ دار ، چیف ایڈیٹرز، ایڈور ٹا ئزنگ ایجنسیوں کے مالکان ، انکے میڈیا مینیجرز ، انکے ما رکیٹنگ ایگزیکٹوز، ٹی وی کے مالکان سب ہی استعمال کرتے ہیں انکے یوزرز ہم ہیں نہ کہ ہمارا دشمن انڈیا ، اسلئے اگر کوئی جعلی دودھ کے پیچھے آیا ہے تو اسکو سپورٹ کرنا ہما ری ذمہ داری ہے ، ہم ابھی تک ما دہ پرست ہی ہیں ، انسانیت کا سبق ہم صرف بچپن میں پڑھتے ہیں ، جب ہما رے ہا تھ میں اختیا ر ہوتا ہے تو ہم میرٹ کی جگہ پیسہ بنانے کا سوچتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو اس ملک کی تبا ہی ، اس معاشرے کی اخلا قی گراوٹ کے ذمہ دار صرف سیاستدان ، فوجی ، پولیس ، فوڈ ڈیپا رٹمنٹ ، یا وزیر مشیر نہیں بلکہ ہم سب ہیں ، ہم سب اپنے اپنے شعبے کے ڈاکٹر شاہد مسعود ہیں ، ہم سب کے دستانوں پر زینب ، نقیب ، عاصمہ اور مشا ل خان کے لہو کے چھینٹے ہیں ، اوریہ چھینٹے صرف اسی صورت مٹیں گے جب ہم اسلام کی تعلیما ت کو عام نہیں کرتے، جھوٹ ترک نہیں کرتے۔