تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن اور عظیم محب وطن دانشور ’’نثار احمد نثار ‘‘

تحریر ڈاکٹر غضنفر مہدی
میں 2فروری 1978کو اسلام آباد وارد ہواتومجھے پاکستان نیشنل سنٹر میں احمد فراز کی جگہ ڈائریکٹر پروگرامز تعینات کیا گیا مجھے احمد فراز نے ائرپورٹ سے وصول کیا اور پہلے پانچ دن میں احمد فراز کے گھر سٹریٹ نمبر 4،G-6/3پولی کلینک کے سامنے رہائش پذیر ہوا اور بعد میں گورنمنٹ ہاسٹل میں مجھے کمرہ مل گیا اور وہا ں منتقل ہوا اس زمانے میں پاکستان نیشل سنٹر کا ہیڈ آفس بازار روڈ احمد حسن شیخ کی کوٹھی میں تھا میں پہلے دن اپنے دفتر پہنچا تو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی یہ فون بیگم سرفراز اقبال کا احمد فراز کے نام تھا میں رسیور اٹھایا تو انہوں نے ڈانٹ کے انداز میں کہا کہ میں آدھے گھنٹے سے چائے بنا کر بیٹھی ہوں اور تمھارا انتظار کر رہی ہوں میں نے کہا بی بی میں احمد فراز نہیں ہوں میں ڈاکٹر غضنفر مہدی ہوں ملتان سے آیا ہوں اور میرا تبادلہ احمد فراز کی جگہ ہوا ہے ۔

دس پندرہ منٹ تک جب احمد فراز آئے تو انہیں میں نے ٹیلی فون کا بتایاتو انہوں نے کہا کہ چل بیگم سرفراز اقبال کے ہاں چائے پیتے ہیں اور یوں میری ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔شام کا کھانا عنایت کبریا کے ساتھ راولپنڈی کلب میں تناول کیا اس زمانے میں کرنل محمد خان بھی راولپنڈی کلب رہتے تھے وہاں پہنچا تو ہال میں ایک چھوٹی ادبی میٹنگ تھی اور میری ملاقات نثار احمد نثار ،منصور قیصر ،پروفیسر کرم حیدری اور عطا حسین کریمی سے ہو گئی ۔

راولپنڈی شام کے وقت آنا جانا ہوتا تھا اور نثار احمد نثار کی دکان راستے میں پڑتی تھی اور وہا ں پر رکنا فرض ہوتا تھا ۔نثار احمد نثار کی جیولری کی دکان پاک ٹی ہاؤس معلوم ہوتی تھی جہاں شورش ملک ،زاہد ملک ،طارق وارثی اور تمام چیدہ شخصیات موجود ہوتی تھیں۔اسلام آباد میں آمد کے بعد میں نے دائرہ کے زیر اہتمام پہلی ادبی تقریب امجد اسلام امجد کے ارشاد پر پروین شاکر کے تازہ شعری مجموعہ خوشبو کی رونمائی کرائی۔اس یادگار تقریب میں سب سے پہلے نثار احمد نثار تشریف لائے اور سب سے آخر میں رخصت ہوئے۔ان دنو ں میں دائرہ کی ادبی نشستیں حیدر روڈ پر منعقد ہونا شروع ہوئیں ۔

نثار احمد نثار ہر تقریب کی زینت بنتے۔پاکستان نیشنل سنٹر اور دیگر ادارے تحریک پاکستان قائداعظم ،جشن آذادی، یوم اقبال اور اس قسم کی تقریبات منعقد کرواتے تو نثار احمد نثار ان تمام تقریبات کی زینت بنتے۔جب فیض احمد فیض جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئے تو دائرہ نے ان کے ساتھ یادگار شام منعقد کی اس یادگار تاریخی تقریب کی انتظامیہ میں نثار احمد نثار نے بھرپور کردار ادا کیا اسی طرح عظیم شاعر حضرت جوش ملیح آبادی کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں جب قومی ادبی ریفرنس منعقد ہوا تو میں نثار بھائی کی تجویز پر مولانا کوثر نیازی کی رہائش گاہ پر انہوں مدعو کرنے کے لئے گیا میں نے نثار بھائی سے پوچھا کہ آ پ نے مولاناکوثر نیازی کو اس تقریب کے لئے کیوں منتخب کیا تو انہوں نے جواب دیا جوش ملیح آبادی پاکستانی ادب کی شناخت ہیں لیکن میں سمجھ رہا ہوں کہ ان پر کفر سازی کے فتوے لگیں گے جس کے تدارک کے لئے ایک پڑھے لکھے مولوی کی ضرورت ہے.

ان کا خدشہ درست ثابت ہوا جوش کی وفات کے بعد کفر سازی کے فتوے لگے انکا تدارک اورتحفظ جس طرح مولانا کوثر نیازی نے کیا وہ ہماری ادبی تاریخ کا اہم حصہ ہے نثار احمد نثار سچے عاشق رسول ﷺ محب اہل بیت اطحارتھے انہیں سب سے ذیادہ خوشی یہ تھی کہ انکی رہائش گا ہ کانام البتول تھا اور وہ برملا فر ماتے تھے کہ میں جو کچھ بھی ہوں یہ سب کچھ رسول پاکﷺ کی عظیم بیٹی کے نام کی وجہ سے ہوں .

نثار بھائی راولپنڈی اسلام آباد کی ادبی ثقافتی ، سماجی اور دینی تقریبات کی جان تھے اسلام آباد کو زندہ ثقافتی ہ ادبی مرکز بنانے میں انہوں نے بھر پور کردار ادا کیا وہ اپنی تمام تقریبات کا کریڈٹ اپنی اہلیہ محترمہ قمر جہاں کو دیتے تھے وہ فرماتے تھے کے میر ی رفیقہ حیات مجھے بنا سنوار کے باہر بھیجتی ہے میر ے بچوں کی احسن انداز میں پرورش کر رہی ہے ۔

چھ برس قبل جب انکی رفیقہ حیات کا انتقال ہوااور میں تعزیت کے لئے گیا تو وہ بچوں کی طرح رورہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ قمر جہاں کے بعد میرا جینا دشوار ہورہا ہے مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے میں نے مولانا فیض علی فیضی اور مولانا اسرار الحق حقانی سے التماس کی دونوں مساجد میں بھرپور حاضری ہوئی اور نثار بھائی کہ تسلی ہوئی کہ انکی مرحومہ رفیقہ حیات کی بعد از مرگ اچھی پذیرائی ہوئی ہے۔

نثار بھائی اپنے تینوں لائق بیٹوں کی وجہ سے بہت خوش تھے اور انکی اچھی تر بیت کا کریڈٹ بھی اپنی رفیقہ حیات کو دیتے تھے نثار بھائی کے تین فرزند اپنے اپنے شعبوں کی مقبول ترین حیثیت رکھتے ہیں ڈاکٹر جمال ناصر اسلام آباد راولپنڈی کی مقبول ترین شخصیت ہیں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں انہوں نے عملی زندگی کا آغاز بینظیر ہسپتال میں ڈاکٹری سے کیا اور بعد میں راولپنڈی اسلام آباد کی مصروف ترین سٹی لیب قائم کی اور اسے اپنے بھائی زبیر کے حوالے کر دیا جو خوش اسلوبی سے انکی رہنمائی میں خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ڈاکٹر جمال ناصر پر انکے والد مرحوم کا سایہ ہے سید علی اصغر شاہ مرحوم کے بعد کوئی اہم شخص جو لوگوں کی غمی خوشی کی میں شریک ہوتا ہے وہ ڈاکٹر جمال ناصر ہے ۔

ڈاکٹر جمال ناصر کے دوسرے بھائی سہیل ناصر کا تعلق شعبہ عدلیہ سے ہے وہ ڈسٹرکٹ سیشن جج ہیں عدلیہ اور وکلاء اور تمام قانون دان انہیں نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔نثار احمد نثار کا جنازہ اور انکی قل خوانی انکی اور انکی اولاد کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے تمام سیاسی جماعتوں کے چیدہ رہنما علماء و مشائخ ،صحافی ،دانشوراور اہل الرائے اس سے پہلے کسی غم کی تقریب میں نہیں دیکھے گئے۔میری دعا ہے کہ خداوند کریم میرے بھائی نثار کا چمن قیامت تک سلامت رکھے ۔آمین