دین اور دنیا

تحریر: شیراز خان
ایک ضروری بات جو میں آپ کے ساتھ لازمی سمجھتا ہوں شیئر کروں ہم سب انسان ہیں انسان رتبے عہدے، امیری، غریبی، زات پات علاقے کے مختلف ہونے سے نہ کم تر اور نہ ابتر ہوتا ہے انسان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے وہ اس کے زاتی فعل ہیں اس کو اس کی عبادت کا صلہ اللہ تعالیٰ اس کی نیت پر دے گا یا جسے اجر کہتے ہیں لیکن انسان کا کام کمیونٹی کے اندر اور اس کی پبلک ڈیلنگ، رشتہ داروں قرابت داروں ،راہ گیروں پڑوسیوں دوست احباب کے لئے جو ہوتی ہے وہ بہت اہم ہے نیکی بھلائی سچائی یا دوسری صورت میں جھوٹ فراڈ دھوکہ دہی یا دوسروں کے ساتھ وہ کس طرح پیش آتا ہے وہ بہت ہی اہم ہے یہ کل کی بات ہے آپ میں اکثر جانتے ہیں کہ ہمارے والدین ہماری طرح چلتے پھرتے اور حیات تھے وہ اب ہم میں نہیں ہیں زندگی میں آنے جانے کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا اور جانے کا وقت دور نہیں دوسروں کے لئے دل میں نرمی پیدا کریں احترام انسانیت کے فلسفہ پر کاربند رہتے ہوئے اچھی روایات کو فروغ دیں یقین کریں آپ کی ہر بات کو ہمارے بچے نوٹس کرتے ہیں جب کبھی کسی دوسرے سے غلط فہمی ہو جائے تو دل میں نرمی پیدا کریں اور حد کراس نہ کریں دلوں میں کدورتیں بغض حسد نہ رکھیں انا یا ego کو اپنے حاوی نہ ہونے دیں دلوں میں گنجائش رکھیں میں ایک شخص سے سخت ناراض تھا اس نے مجھے بری گالیاں دی تھیں اور میں نے دل میں ٹھان لی تھی اس شخص کو میں کبھی منہ نہیں لگاوں گا

لیکن دو ہفتوں کے بعد میں مسجد میں جمعہ پڑھنے گیا تو اتفاق کی بات ہے کہ مجھے اسی شخص کے ساتھ صف میں جگہہ ملی جس سے میں قطح تعلق کیا ہوا تھا نماز شروع ہو چکی تھی میں نے نیت باندھنے سے پہلے اسی شخص سے پہلے ہی ہاتھ ملایا اور پھر نماز کی نیت باندھی اسی طرح ایک اور شخص نے مجھے برا بھلا ایک مجلس میں کہا تو مجھے اتنا برا لگا کہ میں نے اسے کہا کہ اگر تم مرجاو تو میں تیرا جنازہ نہیں پڑھوں گا اتفاق کی بات ہے رمضان المبارک کی 27 ویں شب ہم مسجد میں تھے تو اس شخص نے مجھے آکر سلام کیا اور شرمندگی سے معافی مانگی کہ آج بڑا خاص دن ہے میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی تھی مجھے معاف کردو تو میں نے اسے گلے لگالیا مجھے ہر روز میڈیا کی وجہ سے لوگ گالیاں نکالتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں جس فیلڈ میں ہوں مجھے اپنا کام جاری رکھنا چاہئے آج میں نے بہاولپور کی اس ماں کی آواز میڈیا پر آٹھای جس کا ایک بچہ 8 سال پہلے قتل ہوگیا تھا تو انسان کو دوسروں کی مدد اور بھلائی کے کام جاری رکھنے چاہئے اس دنیا سے جانے کے بعد لوگ آپ کو بنگلوں، کوٹھیوں، جائیدادوں، بینک بیلنس کی وجہ سے یاد نہیں رکھیں گے بلکہ آپ کے کام اور دوسروں سے نیکی اور بھلائی اور انسانیت کی خدمت کی وجہ سے یاد رکھیں گے حاصل گفتگو یہ ہے معمولات زندگی میں میانہ روی تحمل برداشت، بردباری صبر اور شکر پیدا کیا جائے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی جائے دین کا راستہ دنیا سے گزرتا ہے۔