5 فروری ۔یوم یکجہتی کشمیر ۔آزادی کے متوالوں کیلئے پیغام صبح نو

آج ہے وہ کشمیر محکموم و مجبور و اسیر۔۔۔۔۔۔۔کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر (اقبال ؒ)
5 فروری کو پورے پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پوری دنیا میں کشمیریوں نے یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا ۔ ۔ برصغیر پاک و ہند کے شمال مغرب میں واقع 80 فیصد مسلمان آبادی پر مشتمل ریاست جموں و کشمیرکو۔ اللہ تعالی نے سر سبز و شاداب مہکتی وادیوں ، بلند و بالا برفپوش پہاڑوںدلنشین مرغزاروں بہتے دریاوںاور آبشاروں سے اتنی فیاضی سے نوازا ہے کہ جمالیاتی حسن کے دیوانے اس وادی کو ” جنت ارضی” کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر نہائیت جفاکش, بہادر اور غیرت مندمسلمان آبادی اس دھرتی کا حقیقی حسن اور پہچان ہیں ۔ 1339 میں سوات کے ایک جری سپوت شمس الدین المعروف شاہ میر نے کشمیر پر مسلم حکمرانی کی داغ بیل ڈالی ۔ شاہ میر کی حکومت میں ہی اللہ کے ایک ولی میر سید علی ہمدانی تبلیغ دین کے لیئے کشمیر پہنچے اور ان کے کردار اور اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر بہت تھوڑے عرصے میںکشمیریوں کی اکثریت نے مذہب اسلام قبول کر لیا ۔ بعد ازاں یہ علاقہ مغل سلطنت میں شامل رہا۔ انگریز وں نے جب پورے برصغیر پر قبضہ کر لیا اورکشمیر پر قبضے کے وقت سکھوں سے ساز باز کر کے 1846 ریاست جموں و کشمیر اور اس کے باشندوں کا سودا 75 لاکھ روپے کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کے ساتھ کر کے ریاست اور اس کے باشندوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ڈوگروں کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔
تقسیم ہند کے دوران26 اکتوبر1947 میں کشمیر پر اس وقت کے حکمران ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے تقسیم ہند کے فارمولے کے برخلاف کشمیر کی اکثریتی آبادی یعنی مسلمانوں کے استصواب رائے کے حق کو سلب کر کے اور ان کی امنگوں کا خون کرتے ہوئے ریاست کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا ۔ بھارت جو پہلے ہی راجہ کے ساتھ ساز بازمیں تھا فورا اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر دیں ۔ اتنے بڑے ظلم اور غلط فیصلے کو وادی کے غیرت مند کشمیری مسلمانوںنے ماننے سے انکار کر دیا ۔گورنر جنرل پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے حکم پر پاک فوج اورکشمیری مسلمان بھائیوں کی محبت سے سرشار قبائلی مجاہدین کشمیر میں داخل ہو گئے اور وادی کے 25 ہزار کلو میٹرسے زائد علاقے کو غاصب بھارتی افواج سے آزاد کرا لیا ۔مجاہدین ابھی آگے بڑھ رہے تھے کہ شاطر اور مکار ہندو اپنی واضع شکست دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ میں پہنچ گیا اور جنگ بندی کے لیئے درخواست دے دی ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مداخلت کرتے ہوئے کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے کشمیر میں استصواب رائے کے وعدے پر 1948 میں بھارت اور پاکستان کو جنگ بند ی کا کہا ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ نہائیت احسن طریقے سے لڑا اور بالآخر ہندوستانی وزیر اعظم پنڈٹ جواہر لال نہرو کے اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر میں جنگ بندی کے بعد رائے شماری کے تحریری وعدے کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور 1949 میں کشمیر میں جنگ بندی ہو گئی ۔ایک بار پھر ہندو نے اپنی روایتی مکاری کا جال بچھایا اور جنگ بندی کے بعد کشمیر میں رائے شماری سے منحرف ہو گیااور آج تک اپنی سات لاکھ سے زائد فوج کے ساتھ کشمیراور کشمیری مسلمانوں پر قابض ہے جبکہ اس دن سے آج تک کشمیری اپنی جانوں کو اپنی ہتھیلیوںپر لیئے اپنے سے کئی گنا طاقتور بھارتی فوجیوں سے آزادی کے لیئے لڑ تے ہوئے اپنے خون سے آزادی کی داستان رقم کر رہے ہیں۔ حسین مرغزاروں, مہکتے پھولوں,بہتے جھرنوں اور ہنستے کھیلتے انسانوں پر قائم یہ وادی اب کشمیریوں کی اپنے حق آزادی کے لیئے جاری جنگ اور بھارتی فوجیوں کی گولہ باری کی وجہ سے بارود کی بو سے بھر چکی ہے ۔
1949 سے لے کر آج تک کشمیری مسلمان اقوام متحدہ کے چارٹر اور تقسیم ہند کے فارمولے کے عین مطابق اپنے آزادنہ حق رائے دہی کے لیئے سرگرداں ہیں۔ جدید ترین اسلحے اور تربیت سے لیس بھارتی فوجیوں کے سامنے ہاتھوں میں پتھر , لاٹھیاں اور اپنے دلوں میں آزادی کی تڑپ لیئے کشمیری گزشتہ 68 سالوں سے معرکہ کارزار میں ہیں۔غاصب بھارتی سامراج نے کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کی تڑپ نکالنے کے لیئے ظلم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ انسانیت لرز جائے ۔ کشمیریوں کے خون سے رنگین جدوجہد آزادی اب باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہے ہزاروں کشمیری مرد و خواتین اور معصوم بچوں کی شہادت کے بعد آج کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے لیئے کٹ مرنے کے لیئے تیار ہے ۔
پاکستان جو مذہبی ,جغرافیائی اورسماجی لحاظ سے کشمیر سے جڑا ہوا ہے اپنے مسلمان کشمیری بھائیوں کی بھارتی سامراج سے آزادی کے لیئے جاری جدوجہد میں ان کی اخلاقی اور سفارتی امداد کے لیئے اپنا سب کچھ دائو پر لگائے ہوئے ہے اور اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم پر
ہندوستان کے نامکمل ایجنڈے میں سرفہرست مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے کوشاں ہے ۔ پاکستان جہاں کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے وہاں دنیا پر بھارتی افواج کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور جبر و استبداد کی داستانوں کو کھول کر بھارت کا جھوٹا اور مکروہ چہرہ دنیا کو دکھاتا ہے ۔ اگرچہ پاکستان کو کشمیریوں کی حمائیت کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ۔کیونکہ مکار بھارتی ریاست اور اس کی حواری عالمی استعماری طاقتوں کو پاکستان کا یہ عمل ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس کی پاداش میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیئے ہر طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ کبھی سرحدوں پر شہری آبادی پر گولہ باری تو کہیں دہشت گردی کروا کر معصوم شہریوں کو شہید کیا جا رہا ہے ۔ علاقے میں سازشوں کا جال بچھایا جا رہا ہے عدم استحکام اورفراتفری پیدا کر کے پاکستان کو کشمیر پر اس کے دیریرنہ موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ عالمی استعماری طاقتوں نے اس وقت پاکستان اور خطے میں میں جاری ترقیاتی کاموں بالخصوص سی پیک جیسے عظیم منصوبے کو روکنے کے لیئے اپنے تمام وسائل کے منہ کھول رکھے ہیں۔بھارتی عزائم کے عین مطابق عالمی استعماری طاقتوں نے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر کے علاقے میں بھارتی بالادستی کے قیام اورتحریک آزادی کشمیرکو روکنے کے لیئے پاکستان کو اپنے نشانے پر لے رکھا ہے ۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں جب برصغیر کی مسلمانوں نے 1947 میں شاطر انگریز اور مکار ہندو سے ایک الگ ملک حاصل کیا تھا تو اسی وقت سے اس کے خلاف سازشوں کا جال بننا شروع ہو گیا تھا ۔ یہ اللہ تعالی کی خصوصی فضل اور کرم ہے کہ کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا یہ ملک نہ صرف اب تک قائم ہے بلکہ نہائیت محدود وسائل اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوںکے باوجود اقوام عالم میں اپنا منفرد اور ممتاز مقام رکھتا ہے ۔ مملکت خداداد کی قیادت نے عالمی استعماری سازشوں اور ریشہ دوانیو ں کے باوجود اپنے دفاع کو مقدم رکھتے ہوئے خالص اپنی افرادی و مالی وسائل پر اس کو ” ایٹمی قوت” میں تبدیل کر دیا اور یہی ایٹمی قوت اور جدید تربیت و اسلحے سے آراستہ پاک فوج جیسے عوامل اس وقت دنیا کے مکروہ عزائم کے سامنے سد راہ بن چکے ہیں۔جبکہ نہائیت ذہانت اور حکمت کی حامل سیاسی قیادت ادارے اور باشعور عوام ایک چٹان کی طرح بین الاقوامی سازشوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ریاست پاکستان اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے عین مطابق دنیا بھر میں انسانیت کے خلاف اٹھائے جانے والے مظالم کے خلاف آج بھی بہت بڑی آواز ہے جبکہ عالمی استعمار اس آواز کو دبانے یا خاموش کرنے کے لیئے روز اول سے سرگرداں ہے ۔
پاکستان نے اپنے کشمیری بھائیوں کے نام منصوب کرتے ہوئے 5 فروری کو ” یوم یکجہتی کشمیر” قرار دیا ہے ۔ اپنے حق کے حصول کی جوجہدکے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے کشمیریوں کو خراج عقیدت اور آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ۔ اس دن پورے ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ ایوان صدر, حکومتی اداروں اورسیاسی و سماجی تنظیموں کے زیر انتظام تقاریب منعقد کر کے مسئلہ کشمیر کو اجاگر اور عام شہریوں بالخصوص نئی نسل کو مسئلہ کشمیر سے روشناس کیا جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیئے مختلف ممالک میںحکومت پاکستان کی سرپرستی میں خصوصی تقاریب, مظاہروں اور واکس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں عالمی استعمار کے خلاف اور حق خود ارادیت کے لیئے جدوجہد کرنے والوں کی حمائیت میں افراد اور تنظیموں کے کثیر ارکان شریک ہوتے ہیں۔ اس سال بھی پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے سب سے بڑی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہو ئی جس میں چاروں صوبوں , آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی حکومتی , سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔جبکہ آزاد کشمیرکی قانون ساز اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیر اعظم پاکستان نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ اسی طرح پاکستان اور آزاد کشمیر او رپاکستان کو ملانے والے کوہالہ پل اور دیگر مقامات پرانسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا گیا بین الاقوامی طور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ , کنیڈا, انگلینڈ , جرمنی اور امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں کشمیریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھرپور انداز میں مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ۔اور عالمی امن کے ذمہ دار وں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ یوم یکجہتی کشمیرسے مظلوم کشمیر یوں کی آواز دنیا تک پہنچانے , کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آزادی کشمیر کے لیئے جاری دیرینہ کاوشوں سے عام آدمی بالخصوص نئی نسل کو آگاہی اور ہندوستان کے نام نہاد سیکولر ریاست ہونے کا ڈھونگ بے نقاب ہو گا۔