چوہدری نثارکا’’مبینہ‘‘ کزن و جعلی پیر ایف آئی کے سامنے پیش

راولپنڈی (اسرار احمد راجپوت): خود کو مبینہ طور پر سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کزن ظاہر کر کے ایک خاندان سے بھاری رقم اور2 کلو سونا لوٹنے والا جعلی پیر صہیب علی چوہدری المعروف پیرا بالآخر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو گیا۔دوران انکوائری ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم عمران سعید نے مدعیہ و ملزم کو آمنے سامنے بٹھا کر انکوائری کی۔

زرائع کے مطابق جعلی پیر نے اعتراف جرم سے انکار کر دیا جبکہ مدعیہ ماہ نور اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی۔زرائع کے مطابق ڈی ڈی عمران سعید نے جعلی پیر کی سخت الفاظ میں سرزنش کی۔ڈی ڈی نے مدعیہ کو بتایا کہ ملزم ک iPhone 7 کی فارینزک رپورٹ میں کوئی قابل اعتراض تصویر برآمد نہ ہوئی ہے۔ جس پر ماہ نور نے ڈی ڈی کو بتایا کہ ملزم انتہائی چالاک و مکار ہے اس نے جرم کے دوران استعمال ہونے والے موبائل فون کے بجائے کوئی اور موبائل فون ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا ماہ نور نے ڈی ڈی کو بتایا کہ اس نے جون 2016 میں ایف آئی اے کو باقاعدہ ایک درخواست بھی دی تھی جس میں ملزم سے اصل موبائل فون برآمد کرنے کی استدعا کی تھی۔ ماہ نور نے ڈی ڈی سے درخواست کی کہ ملزم پیرا سے اصل موبائل فون برآمد کر کے اس کی قابل اعتراض تصاویر برآمد کی جائیں اور مقدمہ درج کیا جائے۔ڈی ڈی ایف آئی اے سائیبر کرائم عمران سعید نے مدعیہ کو یقین دلایا کہ اسے انصاف ضرور ملے گا۔

سٹیٹ ویوز سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی ڈی نے کہا کہ چونکہ ملزم بہت چا لاک ہے اور دوران تفتیش اس نے انکشاف کیا کہ اس نے ماہ نور کی کسی لڑکے سے ہونے والی بات کے ایس ایم ایس پکڑ لیے تھے جس کے بعد اس نے ماہ نور کو اپنے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔ ڈی ڈی نے کہا کہ وہ ملزم کے اصل موبائل تک ضرور رسائی حاصل کریں گے۔

جعلی پیر صہیب علی نے اپنی دوسری بیوی رابعہ عرف مریم کے ہمراہ مبینہ طور پر گلشن آباد کے رہائشی خواجہ وقار اور ان کی فیملی سے تعلقات استوار کیے اور بعد ازاں سادہ لوح خاندان سے خود کو چوھدری نثار علی خان کا کزن ظاہر کر کے سابق وزیر داخلہ کی بیوی کے لیے دو کلو سونے کے زیورات اور پراپرٹی بزنس میں انویسٹ کرنے کے کیے سوا چار کروڑ روپے ٹھگ لیے تھے اور جب اس خاندان نے اپنے پیسے و سونا واپس مانگا تو پیرا نے اس خاندان کی جواں سال لڑکی ماہ نور وقار کو اپنی بیوی رابعہ کے زریعے اپنے فلیٹ میں بلوا کر تشدد کیا اور اپنے موبائل فون سے اس کی قابل اعتراض تصاویر بنا ڈالیں۔

جعلی پیر نے بعد ازاں اس خاندان کو اپنا حق مانگنے سے باز رکھنے کے لیے ماہ نور کو اس کی نازیبا تصاویر واٹس ایپ کیں اور دھمکی دی کی اپنے ماں باپ کو منع کرو کہ وہ سونا پیسہ بھول جائیں ورنہ تمھاری ننگی تصاویر انٹر نیٹ پر چڑھا دوں گا۔واضع رہے ماہ نور نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں حصول انصاف کے لیے درخواست دے رکھی ہے جس پر سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم دے رکھا ہے ۔