مصر میں 4400 سال پرانا مقبرہ دریافت

رپورٹ:احمد ہارون

اسلام آباد: سٹیٹ ویوز

مصر کی تاریخ پانچ ہزارسال پرانی ہے۔اس کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔اس ملک نے 3200قبل مسیح ایک منتخب سلطنت کی شکل اختیار کی۔اور یہاں کئی شاہی خاندان برس ِاقتدار رہے۔مصر کے ماہرین آثار قدیمہ نے حال ہی دریافت ہونے والے ایک مقبرے کی رونمائی کی جس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 4400 سال قدیم مقبرہ ہے۔

یہ مقام قاہرہ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔دریافت ہونے والا مقبرہ خاصی اچھی حالت میں ہے۔دیواروں پر نادر مصوری’اچھی اور محفوظ حالت میںموجودہے۔ جس میں پجارن حتبت کو مختلف مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔حتبت زرخيزی کی دیوی حتحور کی پجارن تھی جو خواتین کو تولد میں مدد کیا کرتی تھی۔

مصر کے آثار قدیمہ کی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ دریافت گیزہ کے عظیم ہرم کے پاس کھدائی کے دوران ہوئی۔گیزہ کے مغربی قبرستان میں اس مقام پر قدیم شاہی خاندان کی پانچویں سلطنت کے حکام دفن ہیں جن میں سے بعض کو 1842 کے بعد کھود کر سامنے لایا جا چکا ہے۔

مقبرے پر پانچویں شاہی خاندان کے فن تعمیر اور طرز آرائش اثرات نظر آتے ہیں جس میں ایک دروازہ انگریری حرف ’ایل‘ شکل کی قبر کی جانب جاتا ہے۔مصر کے آثار قدیمہ کے وزیر خالد العنانی نے حتبت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں یہ علم ہے کہ وہ اعلیٰ حکام میں تھیں اور شاہی محل سے ان کا مضبوط رشتہ تھا۔

تصاویر میں حتبت کو شکار کرتے اور مچھلی پکڑتے ہوئے اور بچوں سے تحفے لیتے ہوئے مختلف مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ موسیقی اور رقص کے مناظر کے ساتھ بندروں کی بھی تصاویر بھی موجود ہیں جو کہ پالتو جانوروں کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔

آثار قدیمہ کی سپریم کونسل کے مصطفی وزیری کا کہنا ہے کہ ’ایسے مناظر نادر ہیں۔۔۔ اور ایسے مناظر اس سے قبل صرف (سلطنت قدیم) میں ’کاعبر‘ کے مقبرے میں پائے گئے جہاں ایک بندر آرکسٹرا کے بجائے صرف ایک گٹار بجانے والے کے سامنے رقص کر رہا ہے۔‘وزیر العنانی نےاس امیدکا اظہار کیا ہے کہ وہاں سے اس قسم کی مزید دریافت ہو سکتی ہے۔اسی لیے ’ہم یہاں کھدائی جاری رکھیں گے اور عنقریب ہمیں کوئی نئی چیز ملے گی۔‘