سکردوکے پاورہاؤسزمحکمہ برقیات کی غفلت کی نذر،عوام کومشکلات

سکردو(موسیٰ چونکھا/سٹیٹ ویوز) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واپڈا پاور ہاؤس ون سکردو اور واپڈا پاور ہاؤس ٹو دونوں کی مشینوں کی دس سالوں سے مرمت نہ ہوسکی اور دونوں پاور ہاوس کی مشینوں کو انسٹال کرنے والے ملٹی نیشنل کمپنی سی ایم آئی سی کے سی ایم لیو ژو نے واپڈا اور محکمہ برقیات گلگت بلتستان سے کہا تھا کہ ان دونوں پاور ہاؤسزکی مرمت اورخراب ہونے والے پارٹس کو تبدیل کرکے نئےپارٹس لگانے کی ضرورت ہے ۔

دونوں پاورہاؤسز کے اوپر آٹھ کروڑ روپے کی لاگت درکارہے جس سے پاورہاؤسز ایک بارپھر پاورسیکٹرمیں شامل ہوسکیں گےہماری کمپنی دوبارہ پاور ہاوسز کی مرمت کا کام کرنے کو تیار ہے مگر واپڈا اور محکمہ برقیات کی کھینچا تانی کی وجہ معاملہ گزشتہ جون سے اب تک لٹکا ہوا ہے۔

مشینوں کی مرمت کی لاگت کا تخمینہ واپڈا حکام نے خود لگایا تھا۔دونوں پاور ہاؤسز کی مشینوں کی مکمل مرمت نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز فنی خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے سکردو کے عوام کو سخت پریشانی اور چوبیس گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔