قلم کی جنگ/عقیل احمد ترین

ایمنسٹی انٹرنیشنل اورمقبوضہ کشمیرمیں بھا رتی مظالم

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ الیکس نیو نے کینیڈین وزیراعظم کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ کیونکہ وہ دنیا بھر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے سب سے موثرآواز ہے اس لئے بطور کینڈین وزیراعظم وہ مقبوضہ کشمیر میں چھرے والی بندوقوں کے استعمال پر بھا رتی وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کریں یا ان سے مل کرکہیں کہ وہ کشمیر کے نہتے عوام پر مظالم بند کریں اور کشمیریوں کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کی روشنی میں حق خودارادیت دے ،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیلٹ گنوں سے نابینا ، معذور ، اور زخمی ہونیوالوں سمیت مرنے والوں بارے ریا ست جموں و کشمیر سے ملکر شفاف تحقیقات کرنے کی اجاز ت دینے کا بھی مطالبہ کیا تا کہ پیلٹ گنوں کی تبا ہی اور اس سے متاثر ہونیوالے خاندانوں کو ریلیف دیا جا سکے ،جموں و کشمیر میں بھا رتی افواج اور پولیس آزادی کے متوالے کشمیریوں پر پیلٹ گنز 2010سے استعمال کررہی ہیں ، اسلحہ سے اب تک ہزاروں افراد ہلا ک ، اور نابینا ہو چکے ہیں ، یا عمربھر کیلئے اپاہج ہو گئے ، پیلٹ گنز کا شکا ر کو ئی احتجاجی مظا ہرین ہی نہیں ہو تے بلکہ یہ چھرے ٹا رگٹڈ کی بجائے وسیع پیمانے پرتبا ہی پھیلاتے ہیں ، ان سے بچے ، بوڑھے ، خواتین ، جوان طلبہ و طالبات متاثر ہو تے ہیں ۔

یہ کوئی پراپیگنڈہ نہیں بلکہ اسکا اعتراف ریاست جموں و کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی میں کیا گیا کہ پیلٹ گنز سے 2016میں سوا چھ ہزار افراد متاثر ہو ئے ، جن میں آٹھ سو کے قریب آنکھوں کے متاثرہ افراد شامل تھے ۔خدشہ ہے کہ یہ اعدادوشما ر اسمبلی میں پیش کی تعداد سے کئی گنا زیا د ہ ہے ۔ یہاں یہ لکھنا ضروری ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اس خط پر مجبور پاکستان کے کینیڈا میں ہا ئی کمشنرطا رق عظیم نے ایک ملا قا ت میں کیا جس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ کو بھا رتی مظالم با رے شواہد پیش کئے گئے. پاکستان گز شتہ ستر سال سے کشمیریوں کی آواز عالمی برادی میں بلند کررہا ہے ۔ اس حوالے سے خود کشمیری حریت لیڈرز بھی اپنا کیس بہت اچھی طرح سے پیش کررہے ہیں، پاکستان کی سینیٹ کشمیرپر دنیا بھر میں اپنے وفود بھیجتی ہے تا کہ دوسرے ممالک کے سینیٹرز اور پارلیمانی لیڈرز کو مسئلہ کشمیر با رے آگا ہ کیا جا سکے ، اسکی ایک بنیاد ی وجہ یہ ہے کہ بھا رت نے ایک عرصہ سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدودجہد کو دہشتگرد ی سے تشبیہ دینے کی کوشش جا ری رکھی ہو ئی ہے لیکن پاکستان نے اسکو ہر فورم پر موثر جواب دیا ہے ، اور اب بھا رت مختلف محا ذوں پر پسپا بھی ہو رہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس نے کھسیانے ہو کر نہتے کشمیریوں پر اپنا غصہ نکالنا شروع کردیا ہے ۔

یہ تو روز اول کی طرح روشن اور عیاں حقیقت ہے کہ بھارت چاہے کشمیر کا انچ انچ با رود اور گولیوں سے بھون دے وہ کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کا جذبہ سردکرسکتا ہے نہ ہی ان کے دلوں سے پاکستان اور اس سے الحاق کی حب و محبت کم یا ختم نہیں کرسکتا ، کشمیر میں ہو کیا رہاہے اور وہاں سے آنیوالی داستانوں اور ظلم و جبر کی سختیوں کی کہانیاں کتنا افسانہ کتنی حقیقت ہے؟ آج کل مقبوضہ کشمیر میں بھا رتی ظلم و جبر کا بہا دری سے مقابلہ کرنے اور اسکا شکا ر ہونیوالی فیملیز کیلئے اپنا جان مال نچھا ور کردینے والے ظفر اکبر بٹ اسلام آبا دمیں موجود ہیں ، ظفر اکبر بٹ جموں و کشمیر سالویشن مومنٹ کے سربراہ ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھا رتی مظالم کو بے نقا ب کرنے کیلئے سینہ سپر ہے ، انکے بھا ئی الطا ف احمد بٹ پاکستان میں موجود ہیں جو اس پار سے آنیوالی کشمیری فیلملیز کی دیکھ بھا ل کرتے ہیں اور خود بھی اسلام آبا د کے سفارتی حلقوں میں کشمیر کی آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں ۔

ظفر بٹ کو آزادی کی آواز بلند کرنیکے کیلئے کن مشکلا ت کا سامنا اور بھا رتی و سٹیٹ کی بربریت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ جان کر اور سن کر رونگٹھے کھڑے ہو جا تے ہیں ۔ظفر اکبر بٹ اس وقت کشمیریوں کی واضح آوازو ں میں جناب علی گیلانی ،جناب میر واعظ عمر فاروق، جناب یٰسین ملک، محترمہ آسیہ اندرابی میں سے ایک ہیں اور نسبتا دوسری لیڈر شپ کے مقابلے میں جوان ہو نے کے وہ ہر اس جگہ پہنچ جا تے ہیں جہاں پر بھا رتی مظالم ہو تے ہیں ، اسلئے اس وقت ظفر اکبر بٹ ان کشمیری رہنمائوں میں شامل ہیں جن کی آواز سے دہلی لرزتا ہے ،ظفر اکبر بٹ نے پاکستان میں آکر صحافیوں ، مدیران اخبا رات ، اینکرز اور کالم نویسوں سمیت غیر ملکی سفا رتکاروں سے ملاقا تیں کیں اور عالمی برادری کو انکے کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں کو یاد کرایا ، وہ پاکستانی صحا فت کے بڑے ناموں سے بھی ملے ، انکو پورا پورا سیشن دیا اور کشمیر کی اصل صورتحال با رے آگا ہ کیا ، انکا شکوہ تھا کہ پاکستان کا میڈیا کالم نویس اورصحا فی کشمیر کاز کی اس طرح سے ترجما نی نہیں کررہے جس طرح سے کرنیکا حق ہے ، انہوں نے ایک موقع پر بڑا تا ریخی جملہ بھی کہا کہ ہم کشمیری جانیں دینے ، خون بہانے سے نہیں تھکتے تو پھر اہل پاکستان، حکومت ، اور میڈیا کیوں کشمیریوں کی آوازبننےمیں تھک گیا۔

اسی طرح کی ایک بیٹھک پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ نے رکھی جسمیں نوائے وقت سے جناب مجید نظا می مرحوم کے سپاہی اور میگزین ایڈیٹر ڈاکٹر زاہد چغتا ئی نے وا ضح کیا کہ پاکستان ، پاکستان کا میڈیا اور کو ئی بھی با شعور پاکستانی مسئلہ کشمیر بھول نہیں سکتا اور نہ ہی وہ کشمیریوں کی آوازبننے سے رک سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم کو ہندووٗں کیخلا ف نہیں بلکہ ہندوانہ زہنیت کیخلا ف ہو نا چا ہئے کیونکہ اس ہندوانہ سوچ نے پاکستان کو نقصان پہنچا نے کی ہمیشہ کو شش کی ، ظفر اکبر بٹ کوپاکستانی دانشوروں ،اہل قلم نے یہ یقین دلایا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،کو ئی بھی اسکو پس پشت نہیں ڈال سکتا ،تا ریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی کشمیر کو پس پشت ڈالنے کی کو شش کی وہ مٹ گیا ، ظفر اکبر بٹ اصل میں کشمیریوں کے پاکستانیوں با رے احساسات کی ترجما نی کرتے رہے ، اور انکوعام طا لبعلم سے لیکر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف ، چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن،سینیٹ کی قا ئمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین سینیٹر جنرل عبدالقیوم ، پاکستا ن کی صحا فی برادری کے جید فورم نیشنل پریس کلب ، پی ایف یو جے نے یہ با ور کرایا کہ کشمیر صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ وہ ہر پاکستانی کا دل ہے میںکسی حد تک ظفر اکبر بٹ کی با توں سے متفق ہوں کہ ہم کو مسئلہ کشمیر کیلئے جو کرنا چا ہئے وہ ہم نہیں کرپا رہے ، یہ سچ ہے کشمیر میں جاری تحریک آزادی اس وقت اب یا کبھی نہیں کی نہج پر ہے ، پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر فوکس کرنا ہوگا ، یہ طے ہے کہ جس دن پاکستان نے پہلے کی طرح کی دلچسپی کشمیر میں لیناشروع کردی ، بھا رتی سرکا ر اپنے پنجے وہاں زیا دہ دیر تک نہیں گا ڑھ سکے گی ، اور اسکے اثرات ہم افغانستا ن میں بھی واضح طور دیکھ لیں گے۔ انشا ء اللہ