من کی باتیں/محمد خالد قریشی

سالارِ موٹروے پولیس

پاکستان کی گذشتہ 70 سالہ تاریخ کا بغور تجریہ کریں تو بہت کم شعبے ایسے ہیںجہاںانقلاب آیا،کہیں تو حالات اور سائنسی ترقی کی وجہ سے آیا اور کہیں پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے آیا۔مثلاََ آج بھی اگر PTCL کا لائن فون نمبر لگائیں گے تو ایسی شرائط بتائیں گے کہ آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے اور فون لگانے سے باز رہیں گے۔آج بھی اگر PTCL کی Net سروس یا پھر TV Cable سروس حاصل کریں اور خرابی پر کوئی آتا نہیں،مگر 2 مہینے بعد خود کار نظام سے فون یا پھر SMS آتا ہے کہ Complaint دور ہوگئی؟،اگر ہو گئی تو ’’1 ‘‘ دبائیں،صارف کہتا ہے کہ ایسے نظام کا گلا دبا دیں۔

اس طرح سرکاری بنکوں میں گورنمنٹ کے واجبات جمع کرانے کے لئے لمبی قطار لگی ہوتی ہے اور 80 سالہ پینشن لینے والا سارا دن خوار ہوتا ہے،ساری دنیا میں سینئر سٹیزن کا قانون ہے اور الگ قانون ہے،پاکستان میں 70 سال کے بعد بھی لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں، کیوں نہیں ان کو ATM کارڈ بنا کر دیتے اور ان کے اکائونٹ میں پینشن آجاتی۔اس طرح CDA،RDA،LDA،KDA، اسلام آباد،راولپنڈی،لاہور اور کراچی کے ترقیاتی ادارے ہیں،ان کی کارکردگی ایک سوال ہے،مگر پرائیویٹ سیکٹر نے مختصر وقت میں اپنی اہمیت اور ساخت بنائی،پاکستان میں موٹروے پولیس اور NADRA ایسے ادارے ہیں جہاں کم از کم ایک انقلاب برپا ہوا ہے۔

پاکستان میں موٹروے کا ادارہ غالباََ 1992 ؁ء کے بعد بنا مگر آفرین ہے ایک ’’انقلاب ‘‘ برپا ہے۔موٹروے پولیس کے آئی جی جناب ڈاکٹر سید کلیم امام ایماندار،دیانتدار اور محب وطن آفیسر ہیں۔گذشتہ دنوں کسی دوست کے عزیز کے کام کے حوالے سے G-13 ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی،انتہائی گرم جوشی اور محبت کے جذبوں سے سرشار ملے۔کلیم امام سے تقریباََ 34 سال قبل کا تعلق ہے،G-7 کرکٹ گرائونڈ میں ایک ہی کلب سے کرکٹ کھیلی ،کلیم امام اوپنگ بیٹسمین تھے اور میں فاسٹ بولنگ کرتا تھا۔پھر فیڈرل گورنمنٹ کالج نمبر1 سیکٹرH-8 سے پنجاب یونیورسٹی فائنل کھیلا،کلیم امام کوکبھی بھی میں نے پریشان،اداس اور گھبرایا ہوا نہیں دیکھا،ہر وقت مسکراتا چہرہ تھا۔بڑی سے بڑی ٹیم کے خلاف اوپنگ کرتے ہوئے بے خوف جاتا،کلیم امام کے ساتھ مطیع اوپن کرتا تھا۔کلیم امام ہمیشہ Positive سوچ اور آپروچ کاحامل انسان رہا ہے،اللہ تعالیٰ نے عزت،رتبہ،مقام اور کمانڈ دی ،اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی اور PHD کی ،اپنے خوبصورت نام کے ساتھ ڈاکٹر کا اضافہ کیا۔کلیم امام کی سروس زیادہ کوئٹہ میں رہی،آج موٹروے پولیس کی بہتری کے لئے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اقتدار،اختیار،عزت اور شہرت اللہ سبحان وتعالیٰ کی خصوصی عنایت اور مہربانی کے علاوہ بہت بڑی آزمائش بھی ہے،اللہ سبحان و تعالیٰ سید کلیم امام کو اپنے حفظ و امان میں رکھے،اچھی زندگی اور صحت عطا فرمائے۔انسان کا اصل اس کے چہرے سے نظر آتا ہے،اللہ سبحان وتعالیٰ بھی عنایت اور مہربانی نیتوں پر دیتا ہے،چہرہ دل کا عکاس ہوتا ہے۔آج موٹروے پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہے،پولیس کے شہداء کے نام پر T-20 کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا،یقینا شہداء کو انعام تو اللہ تعالیٰ خود دیتے ہیں کہ ان کو قیامت تک زندگی کی خوشخبری اور جنت کی ضمانت دی جاتی ہے،وہاں اس دنیا میں ان کے لواحقین کو عزت اور احترام دینا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔T-20 شہداء کرکٹ کا فائنل ڈائمنڈ گرائونڈ G-8 میں کھیلا گیا ،جس کے مہمان خصوصی FWO کے ڈائریکٹر جنرل لفٹینیٹ جنرل محمد افضل تھے۔موٹروے پولیس اور اس کے انسپیکٹر جنرل ڈاکٹر سید کلیم امام اس خوبصورت پر وقار فائنل کے میزبان تھے۔PCB کے چیئر مین کے Advisor جناب شیخ شکیل ،ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختراور سہیل تنویر کے علاوہ معزز شہری میڈیا ،اعلیٰ حکام بھی موجود تھے،تمام مہمانان گرامی نے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا۔

جنرل محمد افضل نے بتایا کہ جب ان کے والد شہید ہوئے تو اِن کی عمر صرف 7 سال تھی،آج شہداء کے ورثا کو اللہ تعالیٰ سے امید رکھنی چاہئے کہ اگر یتیمی کے باوجود انتہائی کم سنی میں والد کا سایہ اُٹھ گیا،مگر اللہ تعالیٰ کے کرم سے آج پاک فوج میں ’’جنرل‘‘ ہیں۔اس لئے اپنے مقصد ،کیریئر اور تعلیم کے لئے حوصلہ بلند رکھیں۔اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں انعام اور اکرام سے نوازے گا۔تقریب میں شرکت اپنے لئے اعزاز سمجھا ،شعیب اختر نے کہا کہ جب معلوم ہوا کہ شہداء کے نام پر کرکٹ میچ ہے تو سب کام چھوڑ کر بھاگتا ہوا آیا۔شیخ شکیل نے کہا کہ شہداء کے ورثا کے لئے اور شہداء کے نام پر اسلام آباد کے تمام کرکٹ گرائونڈ حاضر ہیں،ہر قسم کا تعاون کریں گے۔

شیخ شکیل نے کہا کہ آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ صاحب نے ایک تقریب میں کہا کہ اس سال راولپنڈی سے کم از کم دو لڑکے قومی ٹیم میں جانے چاہئیں،شیخ شکیل خود بھی کرکٹر رہے اور اسلام آباد کرکٹ کے لئے لازوال خدمات ہیں۔تقریب کے میزبان ڈاکٹر کلیم امام نے خود اپنے خطاب میں کہا کہ عہدے، اقتدار ،عزت،مقام صرف اللہ سبحان و تعالیٰ کا خصوصی کرم ہوتا ہے۔اہم عہدے پر براجمان تمام پولیس افسران کو مخاطب کر کے کہا کہ اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کریں ،عوام کی دل سے خدمت کریں ،ایمانداری اور دیانتداری سے اپنے فرائض ادا کریں۔اپنی کرکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود اوپنگ بیٹسمین تھے اور شیخ شکیل فاسٹ بولنگ کرتے ہیں،شہداء کے ورثا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں،ان کے والد،عزیزوںاور بزرگوں نے اپنے فرائض، ملک و قوم کے لئے اعلیٰ ترین قربانیاں دی ہیں،’’شہید‘‘ہمیشہ زندہ ہیں،ان کے لواحقین کے لئے ہر ممکن مدد کریں گے۔

ان شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایسی تقریب کا انعقاد باقاعدگی سے ہو گا،کرکٹ ٹورنامنٹ کے علاوہ ’’شہداء‘‘ کو خراج تحسین پیش کر نے کے لئے بہتر سے بہتر تقاریب کا انعقاد کیا جائے۔ڈاکٹرسید کلیم امام نے ایک ملاقات میں بتایا کہ شہداء جوانوں اور افسران کے لئے کم قیمت کے ہائوسنگ پراجیکٹ یا پھر فلیٹس کا منصوبہ بنانا چاہتے ہیںجو کہ Joint Venture ہونا چاہئے۔حکومت پاکستان کو بھی تمام فورسز کے شہداء کے لواحقین کے لئے شہداء فائونڈیشن کا قیام عمل میں لانا چاہئے تا کہ ان کے لواحقین کے لئے عملی اقدامات ہو سکیں ۔
’’شہداء کے لئے‘‘
’’ہم سرد ہوا کے باسی ہیں
شہید بھی ہیں غازی بھی ہیں
ہم کرنل،کیپٹن،میجر بھی
حوالدار ،نائیک،سپاہی بھی
ہم چھوڑ گئے دم توڑ گئے
ہم برف کی چادر اوڑھ گئے
بابا کی آنکھ کے تارے بھی
ہم ماں کے راج دولارے بھی
ہم بیٹے ،باپ اور بھائی بھی ہیں
ہم منا ،انکل ،ماہی بھی
ہم دور بھی مجبور بھی ہیں
اور زخموں سے ہم چُور بھی ہیں
جب برف سے اُٹھتے جائیں گے
ہم جلدی لوٹ کے آئیں گے‘‘