تلاش/سید خالد گردیزی

عینی شاہد (قسط اول)

آج جب آزادکشمیرمیں نافذایکٹ 74 میں ترامیم اورکشمیرکونسل سمیت جی بی کونسل کےخاتمے کی باتیں ہورہی ہیں توجی چاہاہے کہ عینی شاہد کےطورپران سطورمیں لگی لپٹی کے بغیرآپ کیساتھ ہارٹ ٹوہارٹ بات کروں۔ بات طویل ہوسکتی ہےلیکن جوں جوں آپ آگے بڑھتےجائیں گے توآپ محسوس کرینگےکہ اگریہ باتیں ریکارڈ کا حصہ نہ بنتیں تو شایدبہت اہم کردار اور معاملات آنکھوں سے اوجھل رہتے۔

2006 میں جب ہم نےروزنامہ جموں و کشمیرجوائن کیاتومیں اورشہزادخان اس بات پرمتفق تھے کہ ہم صرف آزادکشمیرکی رپورٹنگ تک محدودنہیں رہیں گےبلکہ دائرہ وسیع کریں گے۔اپنے سینئرز عامر محبوب، امتیازبٹ اورعرفان قریشی مرحوم کی مشاورت سےکنفلکٹ زون پر رپورٹنگ شروع کی توہم نےیواین کے تحت پاکستان اور ہندوستان کےآئین پڑھےاورپھرایل۔او۔سی کے اطراف میں نافذالعمل ایکٹ 1974 اورجموں وکشمیرآئین 1957 کھنگالنےکےبعد تقابلی جائزہ لیاتوہم یہ جان کرحیران ہوئےکہ اندورنی داخلی خودمختاری کے معاملے میں مقبوضہ کشمیر در حقیقت آزاد علاقوں سےدوسوفیصد آگے ہےجبکہ ادھرحال یہ تھاکہ معاہدہ کراچی کےتحت آزادکشمیر سے علیحدہ علاقےگلگت بلتستان میں کوئی معروف نظام ہی موجود نہ ہےاور آزادکشمیر میں نافذ ایکٹ 1974 میں شامل 56 میں سے52 سبجیکٹس اسی ایکٹ کےتحت قائم جموں وکشمیر کونسل کےپاس ہیں۔ ہمیں لگاکہ کونسل تواسلام آباد اور مظفرآبادکےدرمیان پل کا کردار ادا کرنےکیلئےبنائی گئی ہےجومتنازعہ علاقےسےادارہ جاتی رابطے کیلئے ہونی بھی چاہیئے لیکن زیادہ اختیارات کے سبب یہ متوازی حکومت ہےجسکی موجودگی میں آزادحکومت کی پوزیشن ایک “کارپوریشن”سےزیادہ نہیں ہے اور وزیراعظم آزادکشمیر درحقیقت کارپوریشن کےچیئرمین ہیں۔

یہ بہت ہی حساس معاملہ تھا۔ ہم نےاس کو موضوع بحث بنانےکیلئے”آزادکشمیر میں خودکفالت کس طرح ممکن ہے” کےموضوع پرروزنامہ جموں و کشمیر کےدفترمیں 2007 میں پہلی کانفرنس بلائی جس میں موجودہ ممبرقانون سازاسمبلی سردارصغیراحمدخان اورسابق مشیرحکومت اورسردارعبدالرازق خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت نوجوان ماہر معاشیات راجہ مصطفیٰ آزاد اور دیگر احباب شریک ہوئے۔ کئی گھنٹوں بعد شرکاء اس نتیجےپرکہ معاشی خود کفالت کیلئےایکٹ 1974 میں ترامیم نا گزیرہیں۔ اسی طرح کی ایک کانفرنس ہم نےشارجہ اور ابوظہبی میں بھی راجہ اسد خالدکے ساتھ ملکرمنعقدکی تھی اور ماسوائے جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے سردارعبدالواجدخان شرکاء محافل ہمیں پوچھ رہے تھے کہ اس موضوع پرہم کیا بات کریں۔

بعد ازاں ہم نےسینئرقیادت سے پوچھناشروع کیا کہ ایکٹ 74 کی موجودگی میں آزاد کشمیر کتنا آزاد ہےتوادارےبنانے والے اورسینئرترین رہنما، سابق صدر و وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان مرحوم کا کہناتھاکہ اسکا انحصار وزارت عظمیٰ پر براجمان شخصیت پر ہے۔ اگر وزیر اعظم طاقتورہوگا تو آزاد کشمیر آزاد محسوس ہوگا بصورت دیگر آزادی کااحساس کم ہوجائیگا۔ ہمیں یہ بھی محسوس ہواکہ ایک طرف تنازعہ کشمیرہےجس میں اقوام متحدہ کےحوالے سے دونوں ملکوں کااپنااپنابیانیہ اوررائےشماری تک دونوں اطراف آئینی وانتظامی معاملات نبھانے کی ذمہ داری بھی ہے اور کشمیری بھی مختلف ٹولیوں اورنظریوں میں بٹ کرسیاسی، عسکری اور سفارتی محاذوں پر ڈٹے ہوئےجنہیں حق خوداریت کے بیانیے پر اکھٹے ہونےکی ضرورت ہےتو دوسری جانب اندرونی خودمختاری کا معاملہ ہے جس پر”حکمران کلب” توخوش ہے لیکن عام لوگ پس رہے ہیں۔

ہم نے تنازعہ کشمیرپرآرپارکی سیاسی، عسکری اورسفارتی لیڈر شپ لیڈرشپ کو کسی طرح “حق خوداردیت”کےپیج پر لانے کےمقصد کےتحت رپورٹنگ کی توآج ہمیں اوپری سطح پرقیادت”حق خود ارادیت” کےپیج پریکجانظرآتی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ جموں و کشمیرکےاپنےپاؤں پرکھڑےہونے کےبعد مارکیٹ میں آنےوالے اخبارات بھی حصہ ڈالتےگئےحتیٰ کہ گذشتہ بارہ سالوں میں ہمارا یہ سفرروزنامہ کشمیر ٹائمز سےہوتاہوا اب الحمد اللہ 2016 میں جدید بنیادوں پر قائم اولین ڈیجیٹل میڈیا گروپ” سٹیٹ ویوز” تک پہنچ چکاہےجوسائبرورلڈ میں پورے کنفلکٹ زون سےتعلق رکھنےوالےعام لوگوں کےخیالات اورخبریں پاکستان کےچاروں صوبوں اور انگریزی ویب سائیٹ کے ذریعے دنیا میں پھیل رہی ہیں اورپاکستان وہندوستان سمیت دنیامیں ہونے والی تبدیلیاں کنفلکٹ زون میں بسنےوالےعام لوگوں تک تیزی سے پہنچ جاتی ہیں جسکی وجہ سے عام لوگوں کوایک دوسرے کو سمجھنے اورسوچوں میں تیزی سےتبدیلی لانےکاپراسس شروع ہوچکاہے۔

اسی طرح ہم نےگلگت بلتستان اور آزادکشمیرمیں اندرونی خود مختاری کےخیال کےتحت رپورٹنگ کی توسی پیک کی ضرورت کے تحت الحمداللہ گلگت بلتستان امپاورمنٹ آرڈر2009 بنتے اور صوبائی طرزپروہاں کےلوگوں کو حقوق ملنےکی ابتداء ہوتےدیکھی۔ اس موقع پرہم نےنیشنل پریس کلب اسلام آباد کےزیرانتظام سابق صدر افضل بٹ اوراس وقت کے صدر طارق چوہدری کےآئیڈیا پرآزاد کشمیراورجی بی کی قیادت میں موجود اختلاف رائےختم کرنے اور خیالات کےتبادلےکیلئے مشترکہ آل پارٹیزکانفرنس بھی بلائی جس میں اسوقت کےوفاقی وزیر امور کشمیر قمرالزمان قاہرہ اورہاؤس آف لارڈز برطانیہ کےتاحیات ممبر لارڈ نذیر احمدنے نےاطراف کی قیادت کو سنااورانہیں اعتمادمیں لینےمیں مددملی۔ گلگت بلتستان کےلوگوں کو ووٹ کاحق 2009 میں ملاجبکہ آزادکشمیر میں اس وقت کی سیاسی قیادت کی جدوجہد کے نتیحےمیں یہ حق 1970 میں حاصل ہوگیاتھا۔

اب اطلاعات کے مطابق آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کی مقامی حکومتوں کو داخلی خودمختاری دینے کیلئےوزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کواصولی گرین سگنل دیدیاہے لیکن یہ بات یہاں تک کیسےپہنچی اوراب اس پرعمل ہوگا بھی یا نہیں؟ ہوگاتوکیسےہوگا؟ اورلوگوں کواسکافائدہ کیسے ہوگا؟ آگےچل کران سوالوں کےجوابات تلاش کرتے ہیں۔

کیاہوتارہااورکیوں؟
تاریخ کےگوشوں سےحاصل معلومات کےمطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ معاہدہ کراچی کی وجہ سے گلگت بلتستان کے لوگ آزادکشمیرسےکٹ کررہ گئے اوراس کٹھن جدوجہدسےانہیں کچھ حاصل نہ ہوا جو آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے1947 سے شروع کی اور ایکٹ 1970 کےنفاذ تک جاری رکھی۔ صدارتی طرزکے ایکٹ 1970 کےتحت آزاد کشمیر کو داخلی خوداختیاری حاصل تھی اوروفاقی سطح کے اختیارات وفاقی وزارت امورکشمیر کے ذریعے مشق کئے جاتے تھے جوآزادکشمیرکی سیاسی قیادت کوگراں گذرتےتھے تاہم اندرونی طور پر ادارے بنانے سے لیکربیرونی طور پر آزادکشمیر کونئی راہ پرڈالنے کیلئےقوم پرست جماعتوں کی جانب سے دباؤ سمیت غازی ملت سردار ابراہیم خان مرحوم، کےایچ خورشید مرحوم، سردارعبدالقیوم خان مرحوم اور انکےساتھیوں کا کرداربنیادی ہے جس کونفی کرکےآگے بڑھناممکن نہیں۔

المختصریہ کہ وزارت امورکشمیر کا 17 ویں گریڈ کاآفیسرآزادحکومت کے سرپرکیوں بیٹھاہواہے؟ اس جھگڑے اور دیگر سیاسی وجوہات کےباعث پارلیمانی طرزکاایکٹ 1974 نافذ ہواجس میں وفاقی طرز کے سارے اختیارات سمیت اندرونی خود مختاری سے متعلق سبجیکٹس بھی اسی ایکٹ کےتحت قائم ہونےوالے ادارے آزادجموں و کشمیرکونسل کومنتقل کردیئےگئے اورکونسل کواسلام آباد اور مظفر آباد کے درمیان پل قرار دیتے ہوئے قانون سازی سےمتعلق ڈھانچہ یہ بنایاگیاکہ وزیراعظم پاکستان اسکے چیئرمین جبکہ صدرریاست وائس چیئرمین ہوں گے۔ اسکے چھ ممبران آزادکشمیراسمبلی منتخب کریگی جبکہ پانچ وفاقی وزراء اسکے ممبران ہوں گے۔ مالی اور انتظامی طورپرکونسل سیکریٹریٹ کاانچارج وفاقی وزیر امور کشمیر کو بنایاگیا۔ وقت کیساتھ بتدریج ترامیم ہوتی رہیں اور سیاسی قیادت کو جو بہتر لگتا رہا وہ کرتی چلی گئی حتیٰ کہ 1979 میں آزاد کشمیر سےٹیکس اکھٹا کرنےکااختیاربھی کشمیر کونسل کودیدیاگیاجواس لاوےکی بنیادہے جو اب پھٹ پڑاہے۔ طےیہ ہوا کہ کونسل جوفنڈزاکھٹےکرےگی اس کا20 فیصد کونسل کےاخراجات کیلئے ہوگا جبکہ 80 فیصدواپس آزادحکومت کودیاجائیگا۔وقت گذرنے کیساتھ ساتھ اس 20 فیصدکی مد میں اسقدررقم جمع ہوگئی کہ کونسل کےاخراجات اور منتخب ممبران کوبھاری فنڈز مہیا کرنے سمیت کونسل نےاپناڈویلپمنٹ ونگ بنادیا جبکہ پاکستان میں موجود کشمیرپراپرٹی جو کونسل کا سبجیکٹ ہےلیکن اس پردسترس وزارت امورکشمیرکی ہےمگر اس مد میں حاصل ہونےوالےفنڈزکاسراغ پاکستان، کونسل یا آزادحکومت کے بجٹ میں نہیں ملتا۔

جب 2007 میں اس موضوع پربات چیت رپورٹ ہونے لگی توانتظامی اور مالی معاملات میں چادرسےباہر پاؤں پھیلانے سمیت قانونی سازی میں سست روی کی وجہ سےلوگوں کو محسوس ہوناشروع ہواکہ اسلام آباداور مظفرآباد کے درمیان بنایاگیا پل خراب ہوگیاہےجسکوٹھیک کرنے کی ضرورت ہےمگرجب اس خرابی کودورکرنےکیلئے اداروں سےرجوع کیاگیاتوکونسل کیطرف سے جواب آیاکہ کونسل پاکستان کے اداروں کوجوابدہ ہے اورنہ ہی حکومت آزاد کشمیرکوتوپھرایک سخت رائےیہ بنتی چلی گئی کہ یہ پل توہوامیں معلق ہے جسکو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔اس رائےکے ریفرنس کے طورپریہاں دو بڑے واقعات کا ذکرکیاجاسکتاہے۔ ایک واقعہ 2008 میں پیش آیاجب کونسل نےسپریم کورٹ آزادکشمیرکےسینئرجسٹس، جسٹس(ر)منظور گیلانی کی جگہ جسٹس (ر)چوہدری ریاض اخترکو سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا چیف جسٹس بنادیاتوجسٹس منظور گیلانی نےاس فیصلے کوبالاخر سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیاجہاں یہ سوال کیاگیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیارمیں سپیشل سٹیٹس کی وجہ سے آزاد کشمیرکےمعاملات توآتےتوعدالت یہ کیس کیوں سنے؟

اس وقت سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شیخ اکرم ایڈووکیٹ نےدلائل دیئےکہ چیئرمین کشمیرکونسل چونکہ وزیراعظم پاکستان ہیں اور ان کے چیئرمین کونسل کی حثیت سے کئےگئےفیصلےکوچیلج کیا گیا ہےاس لئےسپریم کورٹ یہ کیس سماعت کرسکتی ہے۔ کیس سماعت کیلئے منظورہوااورروم نمبرایک میں سماعت ہوتی رہی لیکن قبل اس سےکہ سپریم کورٹ اس کیس پر فیصلہ دیتی اوراس فیصلے کی بنیاد پرکونسل کی حدود ومعاملات کاتعین ہوتاجگ ہنسائی سے بچنے کیلئےفیصلہ ساز قوتوں کی مداخلت پرجسٹس(ر) منظورگیلانی اورجسٹس(ر) ریاض اخترچوہدری کوچیف جسٹس کاسٹیٹس دیکر ریٹائرڈ کردیاگیا۔ اس دوران آزاد کشمیرمیں دوسپریم کورٹس اوردو چیف جسٹس تھے۔ ایک چیف جسٹس کونسل کےتھےاورایک آزاد حکومت کے۔

یادرہےکہ اس وقت راجہ فاروق حیدرمسلم کانفرنس کیجانب سےوزیراعظم تھےاورصدر ریاست راجہ ذوالقرنین کی عدم موجودگی میں قائمقام صدریاست شاہ غلام قادرنےوزیراعظم راجہ فاروق حیدرکی جانب سےچیف جسٹس ریاض اخترچوہدری کے خلاف ریفرنس منظورکرکے انہیں معذول کردیاتھاجبکہ چیئرمین کشمیر کونسل نے اس ریفرنس کو نہ مانتےہوئےجسٹس (ر)ریاض اختر کوبحال رکھاتھاجسکی وجہ سے دومتوازی سپریم کورٹس چلتی رہیں۔ یادرہےکہ یہی معاملہ آگےچل کرراجہ فاروق حیدر کی حکومت کولےڈوباتھاکیونکہ جسٹس (ر) منظورگیلانی کی حمایت راجہ فاروق حیدربطوروزیراعظم کررہے تھےجبکہ پارلیمانی پارٹی کےسربراہ کےطور پرسردار عتیق احمد خان جسٹس (ر)ریاض اختر کو ریسکیو کرناچاہتے تھے۔اس حوالے سے مجاہد منزل میں منعقداجلاس مجھے بطور صحافی اس لئےبھی یاد ہےکہ اختلافات پرہی ختم ہونے والے اس اجلاس کی خبرکیلئےہم نےباہرکھڑے ہوکرطویل انتظارکیا۔

اس اختلاف کی بنیادپرہی سردار عتیق احمد خان محض نو ماہ بعد راجہ فاروق حیدرکو ہٹاکردوبارہ وزیراعظم بن گئے تھے جبکہ راجہ فاروق حیدر کی حکومت گرنےکے بعد مسلم کانفرنس کی صدارت پر ہونےوالےجھگڑےکی بنیادپر مسلم کانفرنس ٹوٹی اورمسلم لیگ معرض وجودمیں آئی۔ کونسل سے متعلق دوسراواقعہ 2012 میں مالیاتی سیکنڈل کے طورپر روزنامہ جموں و کشمیر میں رپورٹ ہوا جس پر اسوقت کے کمشنرانکم ٹیکس قیصراقبال (موجودہ کمشنرانکم ٹیکس جی بی) اورہرلحاظ سے طاقتورترین حلقہ رکھنےوالے جوائنٹ سیکریٹری قیصرمجید کوگرفتار کرنے کیلئےآزادکشمیر احتساب بیورو کےچیئرمین سید مظہرکلیم کی جانب سےوارنٹ گرفتاری جاری ہوئےتو ایک افسر آزادکشمیرچھوڑگیا اوردوسرے افسر نے صدر آزادکشمیر سرداریعقوب خان کےذریعےچیئرمین احتساب بیورو کوہی تبدیل کرادیا۔

اس موقع پر عامرمحبوب نےبات ختم نہیں ہونے دی بلکہ معاملہ اس حدتک سنگین ہوگیاکہ سابق وفاقی وزیر امور کشمیرمیاں منظور وٹو نے اپنے گھر میں آل پارٹیزکانفرنس بلائی جس میں طے ہواکہ آزادکشمیرمیں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت ایکٹ 74 میں ضروری ترامیم بارے تجاویز بنائے تاکہ حکومت پاکستان سے منظوری لی جاسکے۔ بعد ازاں اندرونی طور پربہت ساری قانونی، انتظامی اور مالیاتی خرابیوں کی ذمہ دار کشمیر کونسل کو ٹھہرایا جانےلگا اور ایکٹ 74 میں ترامیم کرکے آزاد حکومت کو با اختیار کرنےکا بیانیہ زورپکڑنےلگاجبکہ اچانک موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدرکی جانب سےیہ بات سامنے آئی کہ کونسل کوسرےسےختم کر دیاجائےحالانکہ کنفلیکٹ زون اور مرکزکےدرمیان ادارہ جاتی رابطہ کارکیلئےبہرحال ایک واسطےکی ضرورت ہے اور کونسل سے بہترفی الحال کوئی دوسراایسا واسطہ سامنےنہیں آیا جسمیں پاکستان اورآزادکشمیرکی اعلیٰ سطحی نمائندگی موجودہو۔
۔جاری ہے۔