تلاش/سید خالد گردیزی

عینی شاہد (قسط دوئم)

ہم نےیہ بھی دیکھا۔
یورپین پارلیمنٹ نےآزادخطہ کو فنڈنگ کیلئےنامزدکیاتوانہوں نے اپنی ایک ممبرایمانکلسن کوفیکٹ فائینڈنگ کیلئےپاکستان بھیجا جنھوں نےیہاں آزادکشمیرکی ساری سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقات کےبعد ایک رپورٹ 2006 میں یورپین پارلیمنٹ میں فائل کی تھی جس میں اسلام آباد اور مظفرآباد سمیت گلگت کےدرمیان آئینی، مالیاتی اورانتظامی امور کی زبوں حالی کوآشکارکیا تھا۔ اس رپورٹ کے باعث ہماری جگ ہنسائی بھی ہوئی تھی لیکن ریاستی سیاسی قیادت نے اس کو مسترد کیاتھا۔ یہ رپورٹ گوگل پرموجودہے۔ کوئی بھی شخص سیاست کا دوہرا چہرہ دیکھنےکیلئے یہ رپورٹ اوراس پر ردعمل کےطورپراخبارات اٹھا کردیکھ لے۔

2011سے2016 تک ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کشمیرجدیدبنیادوں پر زور پکڑگئی تو لوگوں کوشدت سےاحساس ہوا کہ عالمی سطح پرکشمیریوں کا کیس ازخود کشمیریوں کی جانب سے پیش کرنےکےحوالےسے آزاد حکومت نےاپنےہاتھ باندھ رکھے ہیں جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے صوبوں کوداخلی خود مختاری دیئےجانےکےبعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کوبااختیار بنانے کے حوالے سےآزادکشمیر اورگلگت بلتستان کے صحافیوں اور میڈیا کےیک نکاتی ایحنڈے کی وجہ سے سول سوسائٹی اورسوشل میڈیا صارفین کیحانب شعوری طورپر بھی بہت زیادہ پیش رفت سامنے آئی۔

اس سلسلے میں 2011 میں جسٹس (ر) منظور گیلانی کی تنظیم (اے۔آر۔جے۔کے)نےسول سوسائٹی کی سطح پرطویل مشاورت کے بعد تجویزدی کہ دونوں علاقوں میں موجودنظام کو سمیٹ کر پاکستان کےآئین کے آرٹیکل 257 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے متعلق چارسبجیکٹس میں ان علاقوں سےمتعلق حق خودارادیت ملنےاوررائے شماری ہونےتک عبوری طورپرمزید سبجیکٹس شامل کرکےصوبوں کی طرزپرمقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے اورانہیں وفاقی اداروں میں بھی بھرپور نمائندگی دی جائے۔ کچھ اعتراضات کیساتھ یہ تجویز خاصی مقبول ہوئی اورموجودہ حالات بھی اس امرکی نشاندہی کررہےہیں کہ ماسوائے پاکستان کےآئین میں تبدیلی اوروفاقی اداروں میں ووٹ کے حق کےیہی کچھ ہونےجارہا ہے جو منظور گیلانی نےتجویزکیاتھا۔

اسی طرح 2013 میں سردار ذوالفقارعباسی اورارشاد محمود کی تنظیم (سی۔پی۔ڈی۔آر)نےبھی وسیع پیمانے پر مشاورت کی اورموجودہ سسٹم میں ریفامز کیلئےتجاویز سامنےلائیں۔

2012 میں آفس میں موجود تھا تواس وقت روزنامہ جموں و کشمیر کےایڈیٹرجاویدہاشمی نےایک نوجوان سردارجاویدحیات سے مجھے ملایا جوان معاملات پرمیرا کوئی کالم پڑھ کر ڈھونڈتے ہوئے دفتر پہنچ گئے۔ انہوں نےبتایاکہ وہ پی ایچ ڈی کیلئےکنفلکٹ زون میں بہترحکومتی نظام کےموضوع پر ریسرچ پیپر تیارکررہےہیں جسکے لئےمجھےاپناصحافتی کام ان سے شیئرکرناہے۔ مجھ سےجوخدمت ہوسکتی تھی وہ میں نےکی۔ بعدازاں انہوں نےاس موضوع پرپیپرتیارکیا اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے تناظر میں پہلی بارداخلی حق خودارادیت کا تصورپیش کیا۔ انہوں نےتحقیق سے ثابت کیا کہ دنیا کےمتنازعہ خطوں کو اگر اندرونی خودمختاری حاصل نہ ہو تو وہاں صحیح معنوں میں جمہوریت آسکتی ہے اور نہ ہی مضبوط ادارے تشکیل پاسکتے ہیں۔

اپنی تحقیق میں نئےعمرانی معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جاوید نے تقریباً 9 حوالے دیکر بتایا کہ داخلی خودمختاری کے تحت ہی آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں بہترین نظام قائم کیا جاسکتاہے۔ ڈاکٹرجاویدحیات کی تحقیقات، نتائج اورتجاویز پر مشتمل کالم دنیاکےنامورجریدوں میں شائع ہوا اوراب ان کی تحقیق کتاب کی صورت میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی پبلیکشن کی جانب سےشائع ہونےجارہی ہے جبکہ اس ضمن میں پیپلزپارٹی کی آزادکشمیر میں قائم حکومت کی جانب سے سابق وزیرمطلوب انقلابی کی سربراہی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کےممبران پرمشتمل کمیٹی نےبھی ایکٹ 1974 میں ترامیم بارے تجاویز تیارکیں اورانہیں اسمبلی میں پیش کرکےمنظوری لینے کےبعدحکومت پاکستان کےحوالےکیں جن پر پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت عملدرآمد سےقبل ہی ختم ہوگئی اور2016 میں مسلم لیگ برسراقتدارآگئی۔
.جاری ہے۔
مزید پڑھیں: عینی شاہد (قسط اول)