قلم کی جنگ/عقیل احمد ترین

یتیم سیاست اورمقبول قیادت

وطن عزیز ایک با ر پھر اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچا ر ہے ، ملک اس وقت دو قسم کے طبقات ، رائے اور کلاس میں تقسیم ہو چکا ہے ، شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد پاکستان میں سیاست دو واضح دھڑوں میں منقسم نظر آتی ہے ، اس با ر پہلی بار ہوا ہے کہ دائیں بازو کی سیاست کی نما ئندگی ایک جما عت کر نے لگی ہے جبکہ با ئیں بازو کی سیاست اس وقت کئی دھڑوں میں بٹی نظر آتی ہے ، دائیں با زو کی اس طا قتوراور مرکزی سیاست پرنقب لگانے کی کوشش با ربا ر ہو رہی ہے اسی لئے شاید کبھی تحریک یا رسول اللہ کی پشت پناہی کی جاتی ہے تو کبھی عوامی ملی لیگ کا جھنڈا بلند کیا جاتا ہے ، چونکہ ملک میں اس وقت دو قسم کے انتخابات کا موسم چل رہاہے ، تو ہر طرف سیاست کی بسنت لگی اور طرح طرح کی رنگ برنگی سیاسی پتنگیں اڑتی اور چلاتی نظرآرہی ہیں.

1999سے قبل کے جرائم میاں نواز شریف کا کڑی سزا ، جلا وطنی کا ٹنے کے با وجود پیچھا نہیں چھوڑ رہے ، دوسری طرف پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹا سک فورس نے گرے لسٹ میں شامل کردیا ہے (اس موضو ع پر الگ سے لکھوں گا) میں نے کئی باخبر اور حکومتی معاملا ت، و عسکری حلقو ں میں اثر اور خبر رکھنے والوں سے پوچھا کہ کیاکو ئی بتا سکتا ہے کہ آخر یہ لڑا ئی ہے کیا ؟ کیوں مسلم لیگ ن فیورٹ ہو نے کے با وجود فیورٹ نہیں ہو پا رہی ؟ میاں نواز شریف یا انکی فیملی سے ایسا کیا ہو گیا ہے کہ تاثر یہ دینے کی نوبت پہنچ گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی رسک قرار پا نے لگے ہیں ؟ لیکن بدقسمتی سے کسی کے پاس اسکاکو ئی اطمینان بخش جو اب نہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ میا ں نوا ز شریف ایک ہیو ی ویٹ سیاسی لیڈر ہیں ، انکے ساتھ جو ہو رہا ہے ، اس بحث میں پڑے بغیر کہ وہ صحیح یا غلط انکی مقبولیت میں اضا فہ کا با عث بن رہاہے ، اینکرز اور میڈیا ہا ؤسز جو حالات کی نبض کو عام اور سیاسی رنگیلوں سے تھوڑا زیا دہ جانتے ہیں انکا موڈ اور بدلا بدلا انداز بتا رہاہے کہ وہ عوامی رائے کیخلا ف جا کر میاں نواز شریف کو مزید گندا نہیں کرسکتے ، نواز شریف کا بیا نیہ اس وقت نہ صرف بکنے لگا ہے بلکہ اب وہ بھٹو ، نیلسن منڈیلا، اور خمینی فیم کی طرف چل نکلے ہیں ، یہ پہلی با ر ہواہے کہ ایک حکومتی شخصیت کواور ایک ایسی پارٹی جو حکومت میں اسکو اتنی عزت عوام دے رہی ہے ، فیصل آباد، سرگودھا، لودھرا ں ، پشاور اور ہری پور کے عوامی جلسے اس با ت کا ثبوت ہیں کہ عوام کی اکثریت پانامہ ٹرائل کو ایک سازش سمجھ رہی ہے.

دوسری طرف دیکھا جا ئے تو اس وقت پا رلیمنٹ معلق ہے ، اسکی شنوائی نہیں ہو رہی ، ملک میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ عدلیہ اور پا رلیمنٹ میں سے سپریم کو ن ہے ؟ یہ سوال بھی اٹھا ئے جا رہے ہیں کہ قانون سازی کرنے والا زیا دہ سمجھ دار ہے یا اسکی تشریح کرے والا ؟ کچھ لو گ یہ سوال بھی اٹھا نے لگے ہیں کہ اگر تشریح کرانے والا فورم عزت اور تقدیس والاہے ؟ تو پھر قا نون سازی کرنیوالامقدس کیوں نہیں ؟صورتحال یہی رہی تو پھر ہم دیکھیں گے کہ پا رلیمنٹ اور عدلیہ آمنے سامنے کھڑے ہو نگے ، جہاں عدلیہ پا رلیمنٹ کی طرف سے اپنے ممبران کو تحفظ دینے کی کوشش کو ناکام بنا ئے گی وہاں پا رلیمنٹ عدلیہ میں تقرریوں او رترقی کے معاملا ت کو ریگو لیٹ کرنیکی کو شش کریگی ، آئین پاکستان اس با ت کی اجازت نہیں دیتا ہے کو ئی خلا ف آئین قانون بنا ئے یہی پر وہ سپریم کو رٹ کو پا ور فل کر تا ہے لیکن دوسری طرف وہ کسی بھی فورم کو پا رلیمنٹ کے بنا ئے قانون کو کا لعدم قرار دینے سے روکتا بھی ہے ، اب یہاں پر ایک با ریک لائن ہے کہ جب اس قانون کی تشریح کی با ری آتی ہے تو وہ بطور آئین و قانون ایکسپرٹ صرف عدالت عظمیٰ ہی کرسکتی ہے اور یہی پر وہ سقم یا پاور ہے جو بیک وقت اختیا رات کے توازن کا با عث بھی ہے اور اداروں کے درمیان لڑائی کی بھی، ایسی ہی لڑائی پھر سول نا فرمانی ، اور خانہ جنگی کی طرف قوموں کو لیجا تی ہے ، ملک میں تما م اداروں کا اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ضروری ہے، میری رائے میں نواز شریف کو نشانہ بنایا جا رہاہے، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کوتمام ترتحفظات کے باوجود قانون کا ساتھ دینا چا ہئے ، اور اپنا فوکس عدالتی جنگ پر ہی رکھنا چاہئے ، اس طرح سے عدالتوں پراور دوسرے اداروں پر دبائو بڑھے گا لیکن اگر وہ ایک طا قتور سانڈ کوسرخ جھنڈی دکھا کر مشتعل کرینگے تو پھر وہ انکے ساتھ ساتھ بہت سارے معصوموں کو بھی زخمی کرسکتا ہے ۔

عوام کے اندر یہ بات راسخ ہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کو جیل بھجوا دیا جا ئیگا کیونکہ ما ضی کے سارے فیصلے اسی طرز کے فیصلے کی منظر کشی کر تے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ عوام ، میڈیااور سول سوسائٹی کے اندر اس طر کی سوچ ہی شریف فیملی کی جیت ہے ، کیونکہ ججز ، جرنیل اور بیورو کریٹ تو ریٹائر ڈ ہو جاتے ہیں لیکن سیاستدان اور صحا فی کبھی ریٹا ئرڈ نہیں ہوتا جب تک دونوں کی زبان اور قلم چلتی رہتی ہے وہ عوام کے اندر زندہ رہتا ہےاور یہی اسکی زندگی کا حاصل حصول ہو تا ہے ، اس لڑائی نے بڑھنا کیسے ہے ؟ اسکی ایک جھلک پنجاب میں احد چیمہ کی گرفتا ری کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہے ، گڈگورننس ، ترقی اورعوامی مسائل کے حل کیلئے جو کریڈبیلٹی پنجاب حکومت کی ہے وہ چا روں صوبوں میں سے کسی کی نہیں، اورنج ٹرین، میٹرو، لینڈ ریکارڈ کمپوٹرایزڈ ، اور فوڈ ایکٹ میں ایکٹو ازم پنجاب حکومت کی کارکردگی کی روش مثالیں ہیں ، اوے یہ صرف اکیلا شہباز شریف کرسکتے ہیں اور نہ ہی حمزہ یا میاں نواز شریف ! اسکے لئے یقینا ایک متحرک ، براق نما ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے ٹیم کپتان کی سوچ کو سمجھے اور اس پر عمل درآمد کرائے ۔ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی ٹیم کا ایسا ہی ایک رکن احد چیمہ بھی تھا ، احد چیمہ کو ن ہے ؟کہتے ہیں کہ وہ 28ویں کامن کا ایک ہو نہا ر اور فاسٹ با ئولر ٹا ئپ کا آفیسر ہے جسکا کیرئیر صرف سترہ سال پر محیط ہے لیکن اسکی پرفا رمنس اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں اتنی جانداررہی کہ وہ ہمیشہ اہم پوسٹو ں پر ہی رہا ، وہ 212کے کامنرز بیج کا سب سے ہو نہا ر افسر سمجھا جا تا تھا ، چیمہ ایک ممتاز سکالر بھی تھا جس نے سوشل سائنس اور پبلک پالیسی میں لندن سے ماسٹر کیا تھا ، اس نے اکنامکس اور صحا فت میں بھی ما سٹر ڈگری لی ، بعد ازاں قانون داں بھی بنا ایل ایل بی کر کےوہ پہلے شعبہ تعلیم کا سربراہ رہا ، پھر ورلڈ بینک کو بھی جوائن کیا ، بطور ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے ادارے میں اصلاحا ت لائیں اور اسکو پنجاب کا فعال ترین ادارہ بنایا جس نے بعد ازاں لاہور کے انفراسٹرکچر کو مثالی بنا کرپیش کیا ،یہ وہی احد چیمہ ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب کے لاہورمیٹرومنصوبے کو ریکارڈ دس ماہ کی مدت میں فنکشل کر کے میاں شہباز شریف کی آنکھ کا تارا بھی بنا ، اسی منصوبے کی تکمیل پر احد چیمہ کو ستا رہ امتیاز بھی ایوارڈ کیاگیا ، پھر اس نے قا ئد اعظم تھرمل کمپنی کے ہیڈ کے طور پرکام کیا اور ملک کو 1200میگا واٹ بجلی بنا کر دی ، ایک شخص جس کی کریڈٹ پر ایسی خدمات ہوں اسکو اگر میاں شہباز شریف کا قابل اعتماد آفیسر سمجھ کر لپیٹا جا ئے تو پھر کیا پیغام جائیگا؟

اس وقت ملک میں خصوصی حا لات چل رہے ہیں،اداروں پر انتقام لینے کا الزام ہے ، کہنے والے کہتے ہیں کہ احد چیمہ کو گرفتار کرنیکا مقصد یہ ہے کہ میاں شہباز شریف کو اس سکینڈل میں ملزم بنا یا جا ئے ، اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر احد چیمہ نے کو ئی کرپشن کی تھی تو اس کو ایسے وقت کیوں پکڑا گیا جب پنجاب میں پاکستان پیپلز پا رٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو جوڈیشل اور الیکشن ایکٹوازم پر لگا یا گیا ہے ،بیوروکریسی کسی بھی ملک کی آنکھ اور ہا تھ ہو تے ہیں ہم کو وہ اسباب جاننا ہونگے کہ جس سے پنجاب کی بیوروکریسی بدکی ہے سول سیکرٹریٹ کی تالہ بندی اور سول سرونٹس کا ہڑتال کرنا نیک شگون نہیں ، دیکھا جا ئے کہ وہ کون ہے جو ایک ایک کرکے ہر شعبے کو متنا زعہ بناکر ملکی جڑیں کھوکھلی کررہاہے ، اگر نیب تھرو پراپر چینل نہیں آیا تو اسکو بھی اپنا قبلہ درست کرلینا چاہئے اور اگر بیوروکریسی کسی تحقیقات میں رکاوٹ بن رہی ہے تواسکو بھی فکس یاجائے ، کیونکہ ایسے اقدامات ہی فیڈریشن کی کمزوری کا باعث بنتے ہیں ، احتساب ہو نا چاہئے اور کڑا ہو نا چا ہئے لیکن اسمیں اس قسم کا تا ثر نہیں دینا چا ہئے کہ کو ئی ادارہ کسی کو فکس کرنے کی کوشش کررہاہے.

ویسے بھی نیب کی کریڈیبیلٹی اس وقت کمپرومائز ہو چکی ہے ، سندھ ، کے پی کے اور پنجاب میں اس پر جانبداری کے الزام لگ چکے ہیں ۔ ایسے میں نیب کو چا ہئے کہ وہ اپنی کریڈیبیلٹی کو بہتر کرے ، وہ کسی بھی بلیم گیم کا حصہ نہ بنے ، اسکے پاس اپنا سیٹ اپ موجود ہے ، اس سیٹ اپ کو خودانحصا ری کی طرف لیجانا چا ہئے ، نیب کے پاس نوازش علی عاصم جیسے زیرک اور تجربہ کارآفیسرموجود ہیں جو اسکی امیج بلڈنگ کیلئے کام کرسکتے ہیں ، دیکھا جائے تو نیب کے کندھوں پر اس وقت سے سے زیا د ہ زمہ داریاں آتی ہیں ، اسکو اس تاثر کی ہر ممکن نفی کرنا ہو گی کہ وہ کسی کی ڈکٹیشن پر کام کررہاہے ،اگر نیب اور اسکی عدالتیں fairٹرائل کرنے میں کامیاب ہو جا تی ہیں تو میں سمجھتاہوں کہ اداروں کا ممکنہ تصا دم رک سکتاہے۔ اسلئے چیئر مین نیب جناب جا وید اقبال کو ڈکٹیشن ، دبائو کا تاثر ختم کرکےشفافیت ثابت کرکےعوام کااعتماد جیتنا چاہئے ، ویسے بھی ملک میں سیاست ، بلڈرز، ہاؤسنگ سوسائٹیز کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے شعبے ہیں جہا ں پر نیب کو کا م کرنیکی ضرورت ہے ، جیسے زندگی بچانے والی جعلی ادویات ، ناقص گھی ، جعلی ڈگریوں کا کاروبار !ان جیسے اور بیشمار شعبوں میں عوام کو لوٹا جا رہاہے لیکن نیب ، ایف آئی اے ، اور دوسرے ادارے ا س پر خاموش ہیں ، ہا ئوسنگ سوسائٹیز اور سیاستدان ایک ایسا یتیم اور لا وارث شعبہ ہے کہ ہر کوئی ان پر چڑھ دوڑتا ہے ۔ نیب کو چا ہئے کہ وہ ان دو شعبوں کے علاوہ بھی با قیوں پر کام کرے اور بد دعائو ں کی جگہ قوم کی دعائیں بھی لے.