من کی باتیں/محمد خالد قریشی

شہباز شریف کی آزمائش!

پاکستان میں مارچ کا مہینہ بہت اہمیت کا حامل رہا ہے،قرار داد پاکستان 1940 ؁ء کو 23 مارچ کو منظور ہوئی،مارچ کو سیاستدان اپنے مخالفین کے لئے ’’ڈبل مارچـ‘‘ بھی قرار دیتے ہیں،اگر گذشتہ 5 سال کی صورتحال دیکھیں تو ایک عام شخص بھی سمجھتا ہے کہ جو کچھ آنے والے ماہ وسال میں ہونا ہے ،اس کا عکس یقینا 31 مارچ تک واضع ہو جائے گا۔اگر مسلم لیگ (ن) نے پاکستان کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا ہے تو مسلم لیگ کو ’’ن‘‘ سے ’’ش‘‘ کی جانب جانا ہو گااور یقینا’’بیانیہ‘‘ بھی تبدیل ہو گا۔اداروں سے تصادم سے مفاہمت کی جانب آنا ہو گا،کچھ چیزیں بہت خاموشی سے ہو رہی ہیں اور یقینا جاری رہیں گے۔اس سے کچھ لوگ ناراض ہوں اور کچھ خوش،’’عدالت عالیہ‘‘ ایک مقدس ادارہ ہے،اس کی حرمت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو گااور نہ ہی ہونا چاہئے۔پاکستان کی سرزمین کو ہر قسم کی دہشت گردی اور فساد سے پاک کر نے کا عظم ہو چکا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے خود کو پاکستان کی سیاست سے عملاََ الگ کر دیا ہے،اس کا بر ملا اظہار بھی ہوا اور لوگوں نے بہت خواہش کے باوجود محسوس بھی کیا،کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے۔اس کی زد میں جو بھی آئے گا ’’رگڑا ‘‘ جائے گا،بیرون ملک بے نامی اور نامی جائیدادیں اور بنک اکائونٹ سے سرمایہ واپس آئے گا۔’’صادق اور امین‘‘ پاکستان کی مستقبل کی سیاست کا محور اور مرکز ہو گا،ایسے حالات میں مسلم لیگ کی نئی قیادت اور صدارت کو گذشتہ 34 سالہ روایتی سیاست اور سیاستدان تبدیل کرنے ہوں گے،’’ووٹ‘‘ کو عزت دینی ہو گی۔مگر’’ووٹ‘‘بھی عزت اور حرمت والا ہونا چاہئے،لوگوں کے شناختی کارڈ حاصل کر کے ایک شخص کئی کئی لوگوں کے ووٹ ڈالنے والا کلچر ختم ہونا چاہئے۔ایک معروف اینکر پرسن اور کالم نگار نے کہا کہ پارلیمنٹ ہائوس میں اچانک عقب سے مجھے کسی نے پکڑ لیا اور انتہائی جذباتی اور شدت سے کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت کو سمجھائیں کہ ممتاز قادری کی پھانسی کو ملتوی کریں،موصوف جناب کیپٹن صفدر تھے جو کہ اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے داماد ہیں۔اینکر پرسن نے کہا کہ آپ کی حکومت ہے آپ بات کریں،مگر انھوں نے کہا پروگرام کریں،ٹاک شو کریں،کالم لکھیں کہ ایسا ہوا تو برا ہو گا،مسلم لیگ حکومت عذاب کا شکار ہو گی۔

محترم کیپٹن صفدر کی تقریر جو کہ اسمبلی میں کی گئی اس میں ان کا موقف واضع اور دو ٹوک تھا۔اللہ تعالیٰ اس کا اجر ان کو یقینا دے گا،’’غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے‘‘،پھر اسی اسمبلی میں ختم نبوت کی شق کو ختم کیا گیا،اس میں بے مقصد تاویلیں دی گئیں،آج دن تک راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ نہ آئی،مگر دلوں کے حال اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں،اب جب محمد نواز شریف نے اپنی جانشین کے لئے اپنی بیٹی محترمہ مریم نواز کو آگے لائے تو ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لئے ان کا نام بھی سامنے آیا۔کیپٹن صفدر نے واضع طور پر کہا کہ وہ اس حوالے سے چوہدری نثار علی خان سے بات کریں گے وہ ان کی درخواست کی حیا کریں گے۔

محترم نواز شریف نے لودھراں الیکشن کے بعد پنجاب ہاؤس میں ایک پارٹی میٹنگ میں کہا اگر اسی میٹنگ میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ موٹروے سے جائیں ذرا کھڑے ہو جائیں اور پھر طنزاََ کہا کہ کچھ نے کہا کہ ہوائی جہاز سے جائیں۔محمد نواز شریف کی اس بات سے واضع ہو گیا کہ مسلم لیگ میں سنجیدہ لوگ یہی مشورہ دے رہے تھے کہ محاذآرائی نہ کی جائے جو کہ بہت اچھی بات ہے مگر چند نوجوان جو کہ صرف 2013 میں مسلم لیگ کے ترجمان بنے اور ایسے بنے کہ 34 سالہ موقف تبدیل کرا دیا،21 اکتوبر 1999 کی پوزیشن میں کھڑا کر دیا بلکہ عوامی اجتماعات میں 70 سالہ سیاسی ناانصافیوں کی بات شروع کر دی حالانکہ ان میں سے 34 سال تو اداروں کے ساتھ مسلم لیگ کھڑی رہی،نواز شریف صاحب کی سیاست ہی صرف پاکستان اور اداروں کا احترام تھا،کسی ایک شخص کی ناانصافی کا بدلا پورے پاکستان سے کیوں ؟۔

محمد نواز شریف اور ان کے خاندان سے پر خلوص محبت والا رشتہ رکھنے والے ہمدرد قلم کار بھی آج یہی مشورہ دیتے ہیں کہ مسلم لیگ میں تقسیم نہ کریں اگر کوئی عقل کا اندھا سیاسی لوٹوں اور مفاد پرستوں کو چوہدری نثار جیسے محب وطن اور اصول پرست پر ترجیح دیتے ہیں تو یہ صرف سیاسی خود کشی ہے، چوہدری نثار پر کرپشن، بدعنوانی، اقراء پروری کا کوئی معمولی نشان نہیں۔ حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ چوہدری نثار ہی جیسے چراغ جلیں گے تو مسلم لیگ کی روشنی ہو گی ورنہ طویل تاریکی ہو گی۔

محترم عطاالحق قاسمی صاحب نے 26 فروری کو جو کالم لکھا تھا صرف اسی کو مشعل راہ بنا لیں کہ ماڈل ٹائون کے قطار در قطار شریف فیملی کے گھر اتحاد اور اتفاق کا عملاََ نمونہ تھے۔آج شریف فیملی میں اس کا فقدان کیوں ہے،کیوں کیپٹن صفدر صاحب محترمہ مریم نواز کی صدارت کی بات کرتے ہیں، نواز شریف صاحب اپنی ایمانداری سے بتائیں کہ آج آپ کو اپنی فیملی میں وہ کردار ادا کرنانہیں چاہئے جو کہ محترم شریف صاحب ادا کرتے تھے،جن کی ایک ’’تالی‘‘ کھانے کے میز پر ساری فیملی کو اکٹھا کر دیتی تھی،آج عطا الحق قاسمی صاحب کو کیوں کہنا پڑا کی مسلم لیگ میں اتحاد نظر ہی نہیں آئے گا بلکہ سارے پاکستان کو محسوس ہو گا،جب مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف دل و جان سے ایک ہوں گے ،گھر مضبوط اور توانا ہو گا تو پارٹی بھی مضبوط ہو گی۔

آج محمد نواز شریف کی سوچ اور آپروچ الطاف حسین اور شیخ مجیب الرحمن جیسے لوگوں سے مختلف ہونی چاہیے۔اگر مسلم لیگ میں پاکستان کی نظریاتی اساس ختم ہو گی تو پھر اس مسلم لیگ کو بانی پاکستان قائد اعظم کی مسلم لیگ کیسے کہیں گے؟۔محمد شہباز شریف کا اصل امتحان پارٹی اور خاندان دونوں محاذوں پر ہے۔شہباز شریف سمجھدار،دانا،حکمت والے سیاستدان ہیں۔چوہدری نثار علی خان جیسے محب وطن سوچ کے حامل لوگ ان کے ساتھ ہیں،مسلم لیگ بچ گئی تو حکومت آتی جاتی ہے،مسلم لیگ اگر تقسیم ہو گئی تو اس کا بڑا نقصان پاکستان کا ہو گا۔آج پاکستان کو بچانا ہے تو پاکستان کی فیڈریشن کی حامل قومی سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
شہباز شریف صاحب
BEST OF LUCK!