تلاش/سید خالد گردیزی

عینی شاہد(قسط سوئم)

آئینی کمیٹی کی تجاویزبمقابل کونسل اختتام

2016 کےعام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ کی حکومت قائم ہونےاورراجہ فاروق حیدرکےوزیراعظم بننےسےقبل چونکہ آزاد حکومت کو با اختیار بنانے کا پرچارراجہ فاروق حیدر نےکررکھاتھااس لئےجب پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہوکرمسلم لیگ برسراقتدارآئی توراجہ فاروق حیدرپربطوراپوزیشن لیڈراورمسلم لیگ آزادکشمیرکےصدریہ دباؤ بڑھ گیاکہ وہ اپنی حکومت سےپارلیمانی آئینی کمیٹی کی تجاویزپرعملدرآمدکرائیں جس پر سرتاج عزیزکی سربراہی میں بنی کمیٹی نےبھی کافی حدتک کام کرلیاتھا لیکن راجہ فاروق حیدر آزاد حکومت کوبااختیاربنانےکےپر جوش حامی ہونے کے باوجودپیش رفت نہ کراسکےحتیٰ کہ وہ برسراقتدارآگئے اور ایکٹ 74 میں ترامیم کامعاملہ انکےگلےمیں ہڈی بنکرپھنس گیا جسےوہ نگلنےیا تھوکنےکی پوزیشن میں نہ تھے۔

راجہ فاروق حیدرکےوزیراعظم بننےکےبعدایکٹ 74 میں ترامیم کےتناظرمیں مسلم لیگ سمیت تمام جماعتوں کےممبران پرمشتمل آئینی پارلیمانی کمیٹی کی تجویزکردہ ترامیم پرعملدرامد کرانےکی بجائےراجہ فاروق حیدر کبھی کہتےکہ وہ وزارت امور کشمیرختم کرائینگے تولوگ انگلیاں دانتوں میں دبانےلگتےاورپوچھتے کہ پاکستان کے آئین کےتخت بنی وزارت امور کشمیرکوکیسےاورکیوں ختم کرائیں گے؟

کبھی وہ کہتےہیں کہ کشمیر کونسل ختم کرائیں گےتولوگ کہتےکہ کیاآزادکشمیرمکمل آزادکرانا چاہتے ہیں؟اگرمکمل آزادنہیں کرانا چاہتے اورخصوصی حیثیت برقراررکھتے ہوئےپاکستان کےآئین میں دفعہ 257 میں ترمیم کرکےرائےشماری تک عبوری طورپرصوبائی طرز پرحقوق نہیں لینا چاہتے تو پھرکونسل ختم کراکرایک مرتبہ پھر 1970 سے 1974 کےدورمیں جاکر ایک آفیسرکےماتحت کیوں آنا چاہتےہیں؟ یادرہےکہ ایکٹ 1970 کےتحت آزادحکومت بااختیارتھی لیکن اسلام آبادسےادارہ جاتی رابطہ بذریعہ وزارت امورکشمیرہوتاتھااور ایک آفیسردرحقیقت آزادکشمیر اصل کا حکمران تھا۔اس واسطے کو غیرمعتبرقراردیکرکونسل قائم کی گئی جس میں پاکستان اور آزاد کشمیرکی بھرپورنمائندگی ہےتاہم وقت گذرنےکیساتھ اس میں بعض خرابیاں پیداہوئیں جنکوآسانی سے ٹھیک کیاجاسکتاہےاورآزادحکومت وفاقی سطح کےسبجیکٹس کو چھوڑکر وہی اختیارات واپس لیکر بااختیار ہوناچاہتی ہےجوکبھی کونسل کودیئےتھے۔

بہرحال آج کی قسط میں ہم ان تجاویز پربات کرتےہیں جوآئینی کمیٹی نے صحافیوں، سول سوسائٹی، وکلاء، ججز اور دیگر سٹیک ہولڈرکےمشورے سے تیارکیں تھیں۔ سابق وزیرچوہدری لطیف اکبر کی بیماری کی وجہ سےمطلوب انقلابی کی قیادت میں قائم کمیٹی نے آزاد حکومت کو بااختیاربنانےکیلئے کے لئے22 تجاویز دیں جن کےمطابق ایکٹ 74 میں ترامیم ہوجائیں تو پھرماہرین آئین وقانون کے مطابق آزادحکومت بااختیارہوجائےگی اور کشمیرکونسل ختم کرکےاسلام آباد اورمظفرآبادکے درمیان آئینی۔مالیاتی اورانتظامی ڈسپلن قائم کرنےکی خاطرکوئی غیرمعروف ذریعہ بنانےکی ضرورت باقی نہ رہےگی۔ ان تجاویزکےمطابق مختصراًیہ کہ

1۔ایکٹ 1974 میں پاکستان کے آئین کی طرح زندگیوں کواسلامی طورپرقرآن وسنت کےمطابق گذارنے کی شق کوشامل کیاجائے۔

2۔پاکستان کےآئین 1973کی طرز پرآزاد کشمیرمیں جوڈیشل تقرریاں جوڈیشل کمیشن اورپارلیمانی کمیٹیوں کےذریعےکی جائیں۔

3۔انسانی حقوق اورفرائض کو پاکستان کےآئین کیطرزپرکیاجائے۔

4۔چھ سےسولہ 16 سال کےبچوں کومفت تعلیم کوایکٹ کاحصہ بنایا جائے۔

5-چیف الیکشن کمیشن اورممبران کا تقررپاکستان کےآئین کی طرز پر کیا جائے۔

6۔اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کمیشن کےتحت پاکستان کی ذمہ داریوں کےعلاوہ تمام اختیارات آزادحکومت کومنتقل کئےجائیں اورکونسل ممبران کی لسٹ جو تھرڈشیڈول میں درج ہےسمیت اختیارات کی منتقلی کوبھی آئین پاکستان کی طرزپرریفارم کیاجائے۔

7۔آزادکشمیراسمبلی میں سٹیوں کی تعدادآبادی کےتناسب بڑھائی جائےاورسال میں 60 اجلاس ہوں۔

8۔کابینہ کےممبران کی تعدادکل ممبران کا25 فیصدہو۔

9۔دومشیر۔دوسپیشل اسسٹنٹ اور پانچ پارلیمانی سیکریٹری ہوں۔

10۔کونسل اورحکومت میں ملازمت کیلئےایک پبلک سروس کمیشن ہوجبکہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرکی مشاورت سے چیرمین تعینات ہوگا۔

11۔سروسزٹربیونل کونسل اور حکومت کامشترکہ ہوگا۔

12۔قدرتی وسائل کوآئینی تحفظ دیاجائیگاجسکےلئےایکٹ 74 میں نئی شق شامل کیجائےگی۔

13۔کسی بھی آرڈیننس کی تجدید پاکستان کےآئین کی طرزپرہوگی۔

14۔ایسی جائیدادیں جوکسی کی ملکیت نہیں وہ حکومت کی ملکیت ہیں۔

15۔لینٹ آفیسران ڈپوٹیشن پالیسی کےتحت پاکستان سے آئیں گے۔

16۔ایکٹ 1974 میں ترمیم کیلئےدوتہائی اکثریت چاہیئےہوگی۔

17۔جوائنٹ سیشن اسمبلی اور کونسل کےممبران کاہوگا۔

18۔صدرریاست اسمبلی اورکونسل کاامیدوارنہیں ہوگا۔

19۔بنیادی حقوق کومعطل کرکے اسمبلی کوختم نہیں کیاجاسکتا۔

20۔صدرریاست سات دن میں ہر قانون پرایڈوائزکےپابندہونگے

21۔قانون کولاگوکرنےکیلئےاختیارات صدرریاست کےہیں چہ جائیکہ یہ اختیار باہمی رضامندی سے وزیر اعظم کودیاجائے۔

22۔احتساب بیورواورمحتسب کوختم کرنے سمیت چیئرمین زکوت کونسل کی تعیناتی ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے کیجائے جیسے صوبوں اوروفاق میں کی جاتی ہے۔