تلاش/سید خالد گردیزی

دھکا اورچھکا (آخری قسط)

آزادحکومت کو با اختیار بنانے کے پراسس بارےیہ سطورلکھےجانے کے تک اطلاعات یہ ہیں کہ وزیراعظم آزادکشمیر نےمبینہ طورپر 15 مارچ تک کشمیرکونسل کےخاتمےکاوقت دیاہےجبکہ نومولود گلگت بلتستان کونسل ختم ہورہی ہے اور دونوں علاقوں کوغیراعلانیہ طور پر صوبائی طرزپرڈیل کیاجائےگا۔ اس حوالےسےایک مضبوط تاثرقائم ہو رہا ہےکہ بیک ڈورڈپلومیسی کے تحت تنازعہ کشمیرکوختم کرنے کیلئےدونوں ممالک تینوں بڑے سٹیک ہولڈرزکی خواہشات کومدنظررکھتے ہوئےکام کوآگےبڑھارہے ہیں۔

دوسراتاثراندرونی سطح پر ملکی سیاسی حالات کےپیش نظرقائم ہورہا ہےکہ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نےسابق وزیر اعظم نوازشریف کےکہنےپرپاؤں ماراہے۔ دونوں تاثرات کےگہرے ہونے تک ہم سامنےکی بات کرتےہیں اور وہ بات یہ ہےکہ وزیراعظم پاکستان کےبارےمیں مشہور ہےکہ کسی ڈوبتے کوتالاب سےنکالنےکیلئے چھلانگ لگانے پر جب لوگ انکوداد دینے اور تالیاں بجانے لگتےہیں تووہ کہتےہیں کہ یہ سب توٹھیک ہےلیکن یہ بتاؤ کہ “مجھےدھکا کس نےدیا تھا”۔

اس دوران وزیراعظم پاکستان نے وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر کو کہا کہ میرےپاس وقت کم ہے جو لینا ہےوہ لے لیں توپھرپہلےہی جارہانہ موڈ میں کریز سے باہر نکلے ہوئےوزیراعظم آزادکشمیرنےفل ٹاس بال دیکھ کر کشمیرکونسل ختم کرنےکا چھکا دےمارا۔ یقیناً یہ راجہ فاروق حیدر کی سیاسی اننگز کا سب سے بڑا چھکا ہے جسکے بارے میں لوگوں کوعلم ہوا تو پورا آزاد کشمیرتالیوں سےگونج اٹھالیکن اب صورتحال یہ ہےکہ سٹروک اتنا زور دارتھاکہ گیندسٹیڈیم سے ہی باہر چلی گئی۔ کافی دنوں سےسب گیند تلاش کرتےپھررہےہیں مگرگیندہےکہ مل ہی نہیں رہی جبکہ وزیراعظم پاکستان حسب معمول لوگوں سے یہ پوچھ رہےہیں کہ مجھے دھکا کس نےدیاتھا۔

بعض لوگ یہ ہوائی اڑارہےہیں کہ آزادحکومت کوبااختیاربنائےجانےکے معاملےمیں خوشی کےشادیانےبجانے کی بجائےہم شاید ذاتی مقاصد کے لئےحکومت آزادکشمیر کی مخالفت کررہےہیں. جو احباب ہمارے اعتراضات پر اس کنفوژن کاشکار ہیں انکےاطمینان کیلئےعرض ہےکہ ان سطورکےآغازمیں ہم نےریفرنسز کیساتھ بتایاکہ قوم پرست جماعتوں کے نظریات توکونسل ختم کر کے مادر پدرآزادی کے حوالے سے واضع ہیں مگرہم ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے باعزت اور باوقار طریقے سے آزاد حکومت کوبااختیار بنانے کیلئے ایکٹ 1974 پر اس وقت سوالات اٹھانا شروع کئے تھے جب آج کے بعض سیاستدان اس موضوع پربات کرنےسےبھی کتراتے تھے۔ ان کی روٹیاں پک رہی تھیں اس لئےانہیں فکرنہ تھی کہ آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کےعام لوگوں کے حالات زندگی کیسےبدلیں گے۔

آج جب یہ موضوع ٹاک آف دی ٹاؤن ہےتوہمارانہیں خیال کہ اس روئے زمین پرکوئی ایساشخص موجود ہےجوعام لوگوں کی زندگی بدلنے کی غرض سےآزادحکومت کو بااختیاربنانےکی مخالفت کرتا ہو لیکن حکومت کو بااختیار بنانے کے لئے کشمیر کونسل کےخاتمےکا مقبول ہوتاہوانعرہ لگانے والے وزیر اعظم آزادکشمیر سمیت انکی حمایت کرنےکااعلان کرنےوالی صرف دو جماعتوں تحریک انصاف آزاد کشمیر کےصدربیرسٹرسلطان محمود اور جماعت اسلامی کے سابق امیر عبدالرشیدترابی سے یہ پوچھنا ہمارافرض اورحق ہےکہ ایکٹ 1974میں ترامیم کر کے کشمیر کونسل سےضروری اختیارات لینا توسمجھ میں آتا ہے مگرسرےسے کشمیرکونسل ختم کرکےوفاقی حکومت کیساتھ کیا ایسا نیا عمرانی معاہدہ ہونے جارہا ہےجو اندرونی حق خودارادیت کی تعریف پرپورااترتے ہوے مکمل اور حقیقی داخلی خود مختاری کی ضمانت دیتاہو؟

اگراندرونی حق خودارادیت کی تعریف پرمعاہدہ ہونےجارہاہےتواس میں گلگت بلتستان کی پوزیشن کیاہوگی؟ کیامعاہدہ کراچی ختم ہو رہاہےاور32 ہزارمربع میل پر پھیلے متنازعہ علاقےپرایک ہی حکومت ہوگی؟ اگرنیاعمرانی معاہدہ نہیں ہو رہا تو اس صورت میں کشمیرکونسل ختم کرکےوفاقی حکومت کیساتھ آئینی۔ مالیاتی اورانتظامی لحاظ سے ایسا کونسا “واسطہ” بنایا جارہا ہےجس میں 1970 کی طرح ایک مرتبہ پھر ایک جوائنٹ سیکریٹری کی سطح کے آفیسرسےاوپر اٹھ کرکوئی حکومت کوڈیل کریگا؟اورکیالوگوں کوتھوڑےعرصےبعد ایک مرتبہ پھر باعزت واسطےکیلئےکونسل یا کونسل جیساادارہ بنوانے کیلئے کوشش کرنی پڑےگی؟

کیا کونسل کو1979 میں جنرل (ر) حیات خان مرحوم نےایک نوٹیفیکشن کرکے آزاد کشمیر سے ٹیکس اکھٹاکرنےکااختیارنہیں دیا تھا؟ اگردیاتھاتواس نوٹیفیکشن کومنسوخ کرنابھی آزادحکومت کیلئے مسئلہ ہے؟

اگرکونسل ختم ہوتی ہےتوکیاٹیکس اکھٹاکرنےکے اختیارسمیت پاکستان میں موجود کشمیری پراپرٹی، منگلا ڈیم، نیلم جہلم اور کوہالہ ہائیڈل منصوبوں پر کنٹرول بھی آزاد حکومت کاہوگا؟

آزادحکومت کےپاس جواختیارات ہیں انکادرست استعمال کرکے اداروں کو مضبوط بنانےسمیت ریاست کوفلاحی ریاست بنانے کے معاملےمیں کسی نےروک رکھاہے؟

چلیں ہم مزیدگہرائی میں نہیں جاتےمگراوپری سطح پرہمیں بتایا جائےکہ کونسل ختم کرنےکی صورت میں اگراندرونی حق خودارادیت کی بنیادپرنیاعمرانی معاہدہ بھی نہیں ہورہاتوکیاآزادکشمیرمکمل آزاد ہورہا ہے؟ اگریہ بھی نہیں ہو رہا اور وزیراعظم پاکستان سمیت وفاقی وزارتوں کے ساتھ ڈائریکٹ بزنس ہوگاتوکیاقومی اداروں میں ووٹ کےحق کیساتھ نمائندگی مل رہی ہےاورسپیشل سٹیٹس بحال رکھتے ہوئےآزادکشمیراورگلگت بلتستان عبوری طورپرصوبائی طرزپرکام کریں گے؟

یہ ہماری نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ہےجس پر ہمارے سوالات کوعوام کیجانب سے سوالات سمجھاجائےکیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہماراحکمران کلب اگراہلیت کے ایفل ٹاورپربیٹھاہوتاتوواپڈا آزاد کشمیرکوچوتھےدرجےکاعلاقہ قرار دیکربارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ نہ کرتا۔ آزادکشمیرکےلوگ پاکستان کےدیگر علاقوں کی طرح پورابل اداکرتےہیں لیکن آزاد حکومت چونکہ واپڈا کی مقروض ہےاس لئے انکی قسمت میں اندھیرا لکھاہواہے۔

لوگوں نےمیرپورمیں ڈیم بنانے اور پھراپ ریزنگ کیلئے دو مرتبہ قربانیاں دیں۔ان قربانیوں کے نتیجے میں حکمران طبقےکی عدم دلچسپی کے سبب کل ضرورت تقریباً چار سو میگاواٹ بجلی بھی نہ مل سکی۔ مظفرآبادکےلوگ ایک مرتبہ پھرنیلم جہلم ہائیڈل منصوبے کی صورت میں دریاؤں کونالےبنانے سمیت ماحولیاتی آلودگی اپنی قسمت میں لکھ کرقربانی دے رہے ہیں۔اس منصوبےکافیزون شروع ہوکر 242 میگاواٹ بجلی پیداکرنا شروع ہو گیالیکن ہمارےحکمران بجلی لے سکےاورنہ ہی اب تک واٹر یوزج چارجزاورنیٹ ہائیڈل پرافٹ بارے معاہدہ کرسکے۔ لوگ چوتھی مرتبہ بھی کوہالہ ہائیڈل منصوبے پرقربانی دینگے مگر اس قربانی کےعوض کم ازکم ان کو لوڈشیڈنگ کےعذاب سے نکالنے کیلئے آزاد حکومت کیاکررہی ہے؟

یہ توصرف ایک محکمےکی کہانی ہے۔ ابھی آزادحکومت پرکونسل کا چیک موجودہےاور آزادکشمیرمیں ہائیکورٹ کےپانچ ججز تعینات ہو رہےہیں۔ قانون کے مطابق پندرہ نام چیئرمین کونسل کو بھیجنے اور انہیں ان پندرہ میں سےپانچ ججز اہلیت اورقابلیت کی بنیادپرتعینات کرنےکی منظوری دینےکاموقع دینے کی بجائے مبینہ طورپر چاراعلیٰ شخصیات کی سفارش پرسردار اعجاز، چوہدری خالد یوسف، چوہدری شبیر، اعجاز رضا، انعام ایڈووکیٹس کےنام فائنل کرانےکی کوشش کی جارہی ہے۔ کیاآزادکشمیر میں باقی برادریوں کےوکلاء کی نامزدگی کیلئے انہیں پہلےاپنی برادریوں کےلوگ وزیر اعظم، صدر، چیئرمین ایم ڈی اے بنوانے اور عدالتوں میں بٹھانا پڑیں گے؟

اسی طرح بنیادی قسم کے محکمے یعنی صحت اورتعلیم کی زبوں حالی کاذکرکرکےآپ کااوراپناموڈمزیدخراب کرنےوالی بات ہے مگران حالات کے باوجودآزادکشمیر کو داخلی خود مختاری دلانے کے لے شاہدہی کوئی اعتراض کرے۔ سب اس بات بر متفق ہوں گےکہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک عوام کی بہتری کیلئےآزاد کشمیر میں بہتر اور بااختیار نظام حکومت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ حکومت کوچاہیئےکہ آزادکشمیر کی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائے۔ اسی طرح مشاورت کی مشق گلگت بلتستان میں بھی ہو جسے آزاد حکومت لیڈکرے۔ پھر ایک مشترکہ کانفرنس بلاکرتمام سٹیک ہولڈرز کواس بحث میں شامل کرےاوروہ کرےجوسب کہتےہیں۔
مزید پڑھیں: عینی شاہد (قسط اول)
مزید پڑھیں: عینی شاہد (قسط دوئم)
مزید پڑھیں: عینی شاہد(قسط سوئم)