حقوق نسواں ،قوانین اور سزائیں

حقوق نسواں سے مراد ایک عورت،بچی،اور بالغ لڑکی کے وہ حقوق ہیں جو تمام تر اخلاقی اور بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوں۔جیسے کے جینے،آزادی حق رائے،ملازمت،شادی،ازدواجی زندگی،وراثت، جائیداد اور تعلیم جیسے بنیادی حق ہیں جو اسے ایک مرد کے برابر حاصل ہیں۔

ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر بہت ساری تنظیمیں،کالم نگار، ٹی وی شوز اور بہت سے شہروں میں خواتین کو عالمی طور پر خراج دینے کے لئے اپنے اپنے طریقے سے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔میرا مقصد ہمیشہ ایسے موضوع رہے ہیں جن سے پوری قوم کو نہ سہی مگر معاشرے کے کسی ایک بھی فرد کو اخلاقی اور قانونی شعور حاصل ہو سکے۔کسی بھی گھر میں ایک لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے بنیادی سب حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے بچوں کو ہر طرح کی تعلیم دی جائے۔مگر ایک اہم تعلیم” خواتین کے معاشرے میں بنیادی اور قانونی حقوق کا اسے خود علم ہونا ہے۔جسکا ہر بالغ لڑکی کو جاننا ضروری ہے۔مگر اس کے متعلق خواتین کو باشعور کرنے کے بارے میں شاید کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ خواتین نے کتنے میدان سر کئیے اور کتنی ترقی کی نازل طے کی 8 مارچ کے حوالے سے ان موضوعات پر لکھنے والے بہت زیادہ لوگ موجود ہیں مگر میرے نزدیک ایک عورت کو اپنا بنیادیاختیارات کا آج کے دن کے حوالے سے علم ہونا زیادہ ضروری ہے۔

انسان کو باشعور کرنے کے لئے سب سے پہلے اسے اپنے حقوق کے بارے میں پتہ ہونا چاہئے تاکہ پیدا ہونے والی مشکلات سے بہتر طور پر نبٹا جا سکے۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے اس کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اسکا تصور ویکیپیڈیا کے مطابق ہمیں یونان دور کے آٹھویں صدی قبل مسیح اور پانچویں صدی قبل مسیح آرکیک دور میں بھی ملتا ہے جہاں خواتین کو کچھ حد تک آزادی حاصل تھی۔ڈیلفی، گورٹن، تھیسلے، میگارا اور سپارٹا یونان کے قدیم شہروں میں خواتین زمین و جائداد کی ملیکیت کا حق رکھتی تھیں تاہم آرکیک دور کے بعد خواتین کا سماجی مقام بہت گر گیا تھا اور بہت سے ایسے قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا جو جنسی لحاظ سے ان میں کافی فرق پیدا کرنے کا باعث بھی بنا۔ایتھنز میں بھی خاتون کا شادی سے پہلے باپ یا بھائی ہی قانونی سربراہ ہوتا تھا اور اسے جائیداد کے حوالے سے بھی محدود اختیارات حاصل ہوتے تھے اسلام کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو خواتین کو سب سے زیادہ اختیار اسلام نے دئیے.جس میں عورت کو وارثت سے لیکر عائلی اور خانگی زندگی تک ایک مکمل دائرہ اختیار دیا گیا۔

مغرب میں حقوق نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی طرف سے عورت کے لیے women کی اصطلاح کے استعمال جاتی ہے جو انہوں نے جنسی امتیاز سے عورت کو آزاد کرنے کے لیے کیا۔ مختلف اَدوار میں حقوق نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین میں (1820۔1906)۔سوسن بی انتھونی کا نام نمایاں ہے جس نے (NWSA) National Woman’s Suffrage Association امریکہ کے موجودہ شہر نیو یارک میں قائم کی۔ اور اسے 1872ء میں صرف اس جرم کی پاداش میں کہ اس نے صدارتی انتخاب میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کی کوشش کی، جیل جانا پڑا۔ 1961ء میں صدر جان کینڈی نے خواتین کے حقوق کے لیے کمیشن قائم کیا جس کی سفارشات پر پہلی مرتبہ خواتین کے لیے زچگی کی چھٹیاں اور سستے بچوں کے ڈے کیئر سینٹر کی منظوری دی گئی۔

پاکستان میں عورت کی اپنے حق کے لئے باقاعدہ سفر کا آغاز 1947 کے بعد ہی سے محترمہ فاطمہ جناح اور دیگر اسوقت کی بہت سی قابل خواتین کے ساتھ شروع ہوا۔عورتوں کو معاشرے کا باقاعدہ فعال رکن بنانے اور اپنا دفاع کرنے کے لیے بیگم رعنا لیاقت علی خان نے ویمن نیشنل گارڈز بنائی اور پاکستانی خواتین فوجی تربیت حاصل کرنے لگیں، لیکن رجعت پسند حلقوں کے دباوکی وجہ سے اس ادارے کو جلد ہی ختم کر دیا گیا۔ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں اسوقت بھی محترمہ شائستہ اکرام اللہ اور بیگم جہاں آرا شاہنواز خواتین کی نمائندہ تھیں اور انکی اسوقت کی کوششوں سے شریعت کا اسلامی پرسنل لاء کا بل منظور ہوا جس میں خواتین کے جائداد میں حصے کو تسلیم کیا گیا تھا۔۔یہ قانون سارے شہریوں کو خواہ وہ مرد ہوں یا عورت مساوی معاوضے،و حقوق کی ضمانت دیتا تھا 1948میں یہ قانون منظور ہو گیا۔اور 1951میں نافذ العمل ہوا۔ 2004 میں پیپلز پارٹی کی رکن شیریں رحمان کی طرف سے خواتین کے لئے ایک ایکٹ پیش کیا گیا جس کا نام قانون برائے تحفظ نسواں ایکٹ 2004 تھا جس میں حدود آرڈیننس کے حوالے سے ترامیم کی گئیں۔اس ایکٹ کو باقاعدہ منظور پرویز مشرف نے کیا تھا اس قانون کے تحت پاکستانی پارلیمان نے خواتین کے استحصال، جبری یا قرآن سے شادی، ونی اور حق وراثت سے محرومی کے بارے میں جرائم کا تعین کیا کہ مجرموں کو دس دس برس قید اور دس لاکھ تک جرمانے کی سزا دی جائے گی اور یہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گ۔لیکن اسلامی نظریاتی کونسل160 اس ایکٹ کو نامنظور کر کے اس میں کافی حد تک ترامیم کر چکی ہے۔ پاکستان میں پنجاب میں خواتین کے لئے باقاعدہ قانون سازی کر کے بل کی منظوری دی گئی ہے جس میں خواتین کو کافی حقوق حاصل ہو چکے ہیں اس سارے پس منظر کو مختصر لکھنے کے بعد مجودہ ترامیم شدہ قوانین میں سے پاکستانی خاتون کو کیا قانون حاصل ہیں اور انکے حوالے سے کیا سزائیں ہیں وہ بھی ملاخظہ کریں۔

خواتین کے تحفظ کے لئے بنائے جانے والے قانون۔عورتوں کے جنسی استحصال اور امتیازی سلوک کے خلاف قانون (prevention of anti women practices) میں رسومات کے خلاف قانون میں رسومات کے خلاف قانون (دفعہ 310/A کے تحت کوئی بھی شخص کسی بھی رسم و رواج یا اپنے کسی جرم کے نتیجے میں کسی بھی عورت کو،ونی،سوارا یا صلح کی خاطر کسی بھی شخص کے حوالے یا اس سےشادی کے لئے مجبور کرےگا تو اسے سات سال کی سزا ہو سکتی ہے اور یہ سزا کسی بھی صورت میں 3 سال سے کم نہی سکتی۔دفعہ 498/A جو کہ قانون حق وراثت کے متعلق ہے کے تحت قانونی اور شرعی لحاظ سے کسی شخص کی وفات کے بعد سب سے پہلے مرنے والے کے ذمہ اگر کوئی قرض ہے تو اس کی جائیداد میں سے سب سے پہلے وہ قرض ادا کیا جائے اور مرنے والے کی بیوہ (اگر ایک سے زیادہ بیویاں تھیں تو تمام بیوگان) کا حق مہر ادا کیا جائے اگر مرنے والے کی کوئی اولاد نہیں تو بیوہ کو کل جائیداد کا چوتھا حصہ ملے گا اگر اولاد ہے تو بیوی کو کل جائیداد کا آٹھواں حصہ ملے گا اگر وہ شوہر کی وفات کے بعد سسرال میں نہیں رہتی تو بھی جائیداد میں اس کا حصہ ختم نہیں ہوجاتا اسی طرح اگر وہ شوہر کے مرنے کے بعد دوسری شادی کرلیتی ہے تب بھی وہ اپنے پہلے شوہر کی جائیداد میں اپنے حصے کی حقدار ہے اس کا حصہ کوئی اس سے واپس نہیں لے سکتا وہ وراثت میں ملنے والی اپنے حصے کی جائیداد کو فروخت کرسکتی ہے یا جس طرح چاہے استعمال کرسکتی ہے اگر مرنے والے کا کوئی بیٹا بھی ہے تو ہربیٹی کو بیٹے کے ملنے والے حصے کا کم از کم آدھا حصہ ضرور ملے گا یعنی اگر بیٹے کو زمین میں سے دس کنال کا حصہ ملتا ہے تو ہر بیٹی کا حصہ پانچ کنال ہوگا اگر بیٹے کو نقد رقم ایک لاکھ ملتی ہے تو ہر بیٹی کو پچاس ہزار ملیں گے اور دونوں کی جائیداد میں حصہ ہوتا ہے اس قانون کے تحت ہر وہ شخص جرم کا مرتکب ہو گا جو کسی جائداد کے مالک کے فوت ہونے کے بعد حصے دار عورت کو دھوکہ دہی یا کسی بھی صورت میں جائداد سے محروم کرے گا۔

عورت حق نہ ملنے کی صورت میں مقدمہ درج کروا سکتی ہے۔اس قانون کے تحت مجرم کو 10 سال قید اور 10 لاکھ جرمانے کی سزا ہو گی جو کسی بھی صورت 5 سال سے کم نہی ہو گی۔دفعہ 498/C کے تحت کوئی بھی شخص کسی عورت کو قران سے شادی کرنے پر مجبور کرے یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا۔ اسے 7 سال کی سزا اور 5 لاکھ تک جرمانہ کی سزا ہو گی ۔دفعہ 367 جنسی زیادتی کے متعلق ہے اس دفعہ کے تحت ایک عورت کےجنسی تشدد اور زیادتی میں ملوث شخص کو سزائے موت کی سزا یا کم سے کم 10 سال قید اور زیادہ سے زیادہ 25 سال کی سزا ہے۔اور یہ ناقابل تصفیہ جرم ہے۔ مجرم پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اجتماعی زیادتی کی صورت میں ملوث تمام تر افراد کو سزائے موت یا عمرقید کی سزا دی جاسکتی ہے۔اسی طرح Work place Act 2010 میں کام کی جگہ پر عورتوں کے حقوق اور ہراساں کرنے کے خلاف سزائیں موجود ہیں اس قانون کے تحت عورت کو ملازمت کرنے والی جگہ پر پیش آنے والے کسی بھی واقع سے متعلق یعنی کے کسی بھی افسر یا ساتھ میں کام کرنے والے فرد کی طرف سے کسی بھی جنسی میلان کی طرف راغب کرنا اور اسے ڈرانا شامل ہے اس میں جرم ثابت ہو جانے پر مجرم نوکری سے برخاست بھی ہو سکتا ہے اور اسے وقتی طور پر معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔ جرمانے کی سزا کے علاوہ قید کے سزا بھی شامل ہے۔ دفعہ 332کے تحت کسی بھی تیزاب سے چہرہ بگاڑنے کی صورت میں یا کسی بھی جسمانی اعضاء کو کاٹنے یا معذور کرنے کی صورت میں عمر قید کی سزا اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہے۔یہ سزا کسی بھی صورت میں 14 سال سے کم نہی ہو سکتی۔

اسی طرح نکاح نامہ پر عورت کے حقوق کی شرائط موجود ہیں جن کا ادراک ہمارے معاشرے کی خواتین کو بالکل بھی نہیں ہے فارم پر 25 شقیں ہوتی ہیں۔پہلی بارہ شقیں دلہا دلہن کے کوائف پر مشتمل ہیں۔ شق نمبر 13 تا 16 حق مہر سے متعلق ہیں۔ حق مہر لڑکی کا حق ہوتا ہے مگر کہہ دیا جاتا ہے کہ شرعی حق مہر لکھ دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ 5 ہزار لکھا جاتا ہے۔ شق نمبر 17 کسی خاص شرط کے بارے میں پوچھتی ہے۔ شق نمبر 18 یہ ہے کہ آیا شوہر نے طلاق کا حق بیوی کو تفویض کر دیا ہے، اگر ہاں تو کن شرائط کے تحت۔ شق نمبر 19کہتی ہے کہ آیا شوہر کے طلاق کے حق پر کسی قسم کی پابندی لگائی گئی ہے؟ شق نمبر 20 میں سوال ہے کہ آیا شادی کے موقع پر نان و نفقہ، بیوی کے ماہانہ خرچے وغیرہ سے متعلق کوئی دستاویز تیار کی گئی ہے۔ شق نمبر 21 اور 22 مرد کی عائلی حیثیت اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں پہلی بیوی سے اجازت سے متعلق ہے۔

باقی دو شقوں میں نکاح خواں اور شادی کے اندراج کی تفصیلات دی جاتی ہیں۔ جہاں باقی شقوں کے آگے تفصیلات لکھی جاتی ہیں، وہاں 13 تا 22 نمبر شقوں پر لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔ یہ سب شقیں خواتین کے حقوق سے متعلق ہیں اور انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔پنجاب میں تحفظ حقوق نسواں ایکٹ 2015ء کے مطابق نکاح رجسٹرار کو نکاح نامے کے تمام کالم پُر کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ کالم چھوڑ نے کی صورت میں 3 ماہ قید جبکہ1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائیگی۔ پہلی بیوی سے بغیر اجازت شادی کرنے پر شوہر کو 1سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ ایکٹ کے مطابق مقدمے کی صورت میں باپ ہر ماہ کی 14تاریخ کو بچے کوخرچہ دینے کا پابند ہو گا بصورت دیگر مقدمہ سے شوہر کا تعلق ختم کر دیا جائے گا۔

یہ سب قوانین پاکستانی تعزیرات ہند میں باقاعدہ طور پر درج ہیں اور ترامیم شدہ قوانین اور انکے حوالہ جات کے حوالے سے کسی مستند کتاب یا انٹرنیٹ پر تفصیلی طور پر اسکا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ والدین،اساتذہ اور عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی سب تنظیموں کا یہ فرض ہے کے وہ موجودہ دور میں خواتین کو اپنے حقوق سی آگاہی اور انکے صیح استعمال کا ادراک فراہم کریں۔تا کے پاکستانی خواتین بھی باشعور قوموں کی فہرست میں شامل ہو کر ایک مظبوط کردار ادا کر سکیں۔ خواتین سے یہ گزارش ہے کے ان سب باتوں سے اپنی بیٹیوں کو ضرور آگاہ کریں کیونکہ پہلا قدم اپنے حقوق کی آگاہی ہے۔تبھی معاشرے کی خوبصورتی اور اسکے توازن کا معیار بھی قائم رہ سکتا ہے۔