اسلام آباد آلودگی کا شکارکیوں؟

گذشتہ دنوں ٹاک شو میں ماحولیات کے وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان آئے۔آلودگی ،سموگ اور دھویں کے حوالے سے ان کا موقف اور وزارت کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا تو موصوف نے کمال ہوشیاری سے فرمایا کہ آلودگی کے خاتمے کے لئے فیصل آباد اور لاہور کی صنعتوں کو بند کرا دیا گیا ہے،ایسا وزیر اگر یورپ ،جاپان یا پھر چین کا ہوتا تو شاید پھانسی پر لٹکا دیا جاتا،ٹاک شو میں خاتون ہوسٹ نے پوچھا کہ چند انگریزی کی ہدایات اور احکامات جاری کرنے کے علاوہ آپ کی وزارت نے کیا کیا ہے؟ تو مذکورہ وکیل نے انگریزی کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ عدالت کا جو فیصلہ آیا (جو کہ نواز شریف کا تھا)وہ بھی انگریزی میں تھا اس پر بھی ذرا تنقید کریں۔

سوال کچھ اور تھا جواب کچھ اور ،ایسے وزیر کو ماحولیات کی جگہ ’’مخلوقیات کاوزیر‘‘ بلکہ ’’جو کر‘‘ ہونا چاہئے۔سوال صرف اتنا ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد،لاہور اور پنجاب چند سالوں سے دھند اور سموگ کا شکار ہے،چین میں بھی سموگ ہے مگر وہاں (Coal ) کوئلے سے بجلی پیدا ہوتی ہے،صنعتوں کو چلایا جاتا ہے ،اربوں کی آبادی ہے۔ بھارت بھی آلودگی کا شکار ہے،دھند اور سموگ کا راج ہے،وہاں بھی صنعتوں کے لئے کوئلے سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ لاہور ،فیصل آباد، گوجرانوالہ اور وزیر آباد بھی صنعتوں کی وجہ سے مشہورہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا خوبصورت دارالحکومت ’’اسلام آباد‘‘ جو کہ پہاڑوں اور درختوں کے جھرمٹ میں ہے، یہاں دھند اورسموگ کیوں آگئی؟

CDA کی غلط حکمت عملی سے پہلے شہر اسلام آباد ’’پولن الرجی‘‘ کا شکار ہے،جہاں جنگلی شہتوت کی بہتات ہے،جس کی وجہ سے پولن کا تناسب مارچ ،اپریل میں پاکستان میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ مگر 20 کلو میٹر گردونواح میں نہیں ہوتا اور گذشتہ 20 سالوں سے اضافہ ہوا ہے،ایسا کیوںاور کس وجہ سے ہے؟، تحقیقات کرائیں، یہاں بہت ریسرچ سینٹرز ہیں،اس کا سد باب تو پاکستان کی حکومت نے کرنا ہے،اداروں نے کرنا ہے،امریکہ کا صدر ’’ٹرمپ‘‘ تو نہیں آئے گا۔ CDA کا ادارہ اپنے اخباری اشتہارات میں نمایاں طور پر اسلام آباد کے رہائشیوں کو اپنے قوانین اور بائی لاز پر عمل در آمد کے لئے ایک لائن لازمی لکھتا ہے۔عوام الناس اپنی غیر قانونی تعمیراتی سر گرمیوں سے اجتناب کریں،بصورت دیگر مروجہ قوانین کی روشنی اور ’’سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات‘‘ کی روشنی میں سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس کا مطلب ہے کہ عوام الناس کو پیغام دے رہے ہیں کہ ’’سپریم کورٹ‘‘ کا پریشر ہے ورنہ CDA پہلے بھی یہاں تھا اور قوانین تو 1960 کا آرڈینینس تھا یا پھر 1992 کا زوننگ ریگولیشن بھی تھا۔2005 کا بلڈنگ کورڈ تھا پھر2016 میں بلڈنگ بائی لاز آئے، مگر CDA نے چشم پوشی کیوں کی؟۔

سپریم کورٹ آف پاکستان Google Earth سے معلوم کریں کہ اسلام آباد کی حدود میں کب کب اور کہاں کہاں آلودگی کا سبب بننے والے اقدامات ہوئے۔زون – 3 میں سیمنٹ فیکٹری کا NOC کب اور کیوں جاری ہوا؟۔ہزاروں کی تعداد میں پہاڑوں پر سٹون کریشر ز کب اور کیوں لگے؟۔سڑکوں اور تعمیرات کے نام پرہزاروں کی تعداد میں درخت کب اور کیوں کاٹے گئے؟۔گندے نالوں کے گرد غیر قانونی کچی آبادیاں کب اور کیوں بنیں؟۔جہاں اسلام آباد کے درختوں کو کاٹ کر جلایا جاتا ہے جو کہ فضا کو آلودہ کرتے ہیں ،گذشتہ دنوں CDA نے اخبارات میں اشتہار دیے ،CDA نے Public Notice میں لکھا کہ ’’CDA زوننگ ریگولیشن 1992 ؁ء کے تحت زون – 3 میں ’’ہریالی اور گرین کیریکٹر‘‘ کو مکمل اور تحفظ دیا جاسکے اور خلاف ورزی پر ان افراد / ڈویلپرز کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے‘‘،اور لکھا کہ ’’سپریم کورٹ کے احکامات کے تناظر میں بھر پور اقدامات اٹھا رہے ہیں اسے اشتہار میں مزید لکھا کہ ’’زون-3 میں وائلڈ لائف (پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزوریشن اور مینجمنٹ) آرڈینینس 1979 کی سیکشن 21 کے تحت نوٹیفائی کیا گیا،تمام لوگوں اور عوام الناس کو مطلع کیا گیا کہ تعمیرات اور درختوں کی کٹائی سے باز رہیں،اس سے ہریالی اور جنگلات کو نقصان ہو رہا ہے۔ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے،مزید لکھا کہ ’’سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پنجاب حکومت نے بھی اشتہار دیا ،دھواں ،گرد اور دھند کی آمیزش کو ’’سموگ‘‘ کہتے ہیں۔’’سموگ‘‘دھند لا بادل سے مت ڈریں صرف احتیاط برتیں،احتیاطی تدابیر دوران سموگ ’’پانی پئیں،زیادہ وقت گھروں میں گزاریں،گھروں کی صفائی گیلے کپڑے سے کریں،گھروں سے نکلتے وقت چشمے لگائیں،آنکھوں کو پانی سے دھویں۔واہ رے واہ شہباز شریف صاحب یہ ہے آپ کا پڑھا لکھا پنجاب؟۔شرم تم کو مگر نہیں آتی،سپریم کورٹ آف پاکستان سے دست بستہ گذارش ہے کہ کم از کم اسلام آباد کی حد تک ’’So Moto ‘‘ ایکشن ضرور لیں کہ اسلام آباد میں آلودگی کی وجہ کیا ہے؟۔ CDA آرڈینینس 1962 اور زوننگ ریگولیشن 1992 کی خلاف ورزی کس نے اور کب کی؟۔ اسلام آباد شہر کے اندر سے 42 سے زائد کچی آبادیوں میں تقریباََ 2 لاکھ انسان اپنے چولہے کس سے چلاتے ہیں؟،میری تمام تر ہمدردی ان مکینوں کے ساتھ ہے کہ ان کو Sui Gas مفت دیں یا پھر گیس سلنڈر ضرور دیں مگر درختوں کو کاٹنے کی اجازت تو مت دیں۔ پہاڑ اور گندے نالوں کے قریب تجاوزات سے روکیں،ان کچی آبادیوں میں گائے ،بھینس اور بکریاں کس قانون کے تحت ہیں جو کہ اسلام آباد کو سر سبز ہونے ہی نہیں دیتے،سملی ڈیم اور راول ڈیم کے گردونواح میں آبادیاں کیوں اور کیسے بنی ہوئی ہیں؟۔

CDA اور ہائوسنگ سوسائٹیوں نے کہاں STP سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے؟،ساری دنیا میں آلودگی،ماحولیات پر کام ہو رہا ہے،کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانے بند ہو رہے ہیںلیکن پاکستان میں کھل رہے ہیں۔فرنس آئل پر صنعتی یونٹ اور بجلی گھر بند ہو رہے ہیں لیکن پاکستان میں شروع ہو رہے ہیں۔اسلام آباد کے سیکٹروں میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے زمین میں دبایا جاتا ہے،یا پھر کھلی فضا میں رکھ کر آگ لگا ئی جاتی ہے،اسلام آباد کا حسن پہاڑ،درخت اور قدرتی چشمے تھے مگر مارگلہ ہلز ٹیکسلا سے لے کر قائداعظم یونیورسٹی کے عقب تک تعمیرات کا سیلاب ہے۔اسلام آباد کے اندر اگر کوئی غلطی سے مکان بنا لے تو ساری زندگی اپنے مکان کا Complition حاصل نہیں کر سکتا،کچی آبادی،G-12 ،F-12 میں مکان بنائیں نقشہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ساری دنیا میں پہاڑوں پر تعمیرات کے قوانین ہیں،جہاں نا گزیر حالات میں صرف سنگل سٹوری گھر اور وہ بھی لکڑی سے بنائے جاتے ہیں تا کہ پہاڑوں پر تعمیرات کا وزن نہ پڑے،سیوریج سسٹم نہیں ہوتا Waste ڈسپوزیبل ہوتا ہے،پانی کا استعمال کم ہوتا ہے۔CDA کا کام تھا کہ پہاڑوں اور جنگلات کو تحفظ فراہم کریںمگر CDA نے خود زون – 3 نیشنل پارک ایریا میں دامن کوہ پر Monal ریسٹورنٹ قائم کیا ۔سپریم کورٹ آف پاکستان کو کم از کم اسلام آباد کی حد تک ماحول کو بہتر کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنے ہوں گے ،ذمہ دار عناصر کے خلاف کاروائی کرنا ہو گی۔سپریم کورٹ Environment کی بہتری کے لئے نگرانی کرنی ہو گی،شہریان اسلام آباد کو آگاہی مہم چلانی ہو گی،اسلام آباد کو تحفظ فراہم کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔
’’Green & Clean Islamabad‘‘