تلاش/سیدخالدگردیزی

۔ ۔ ۔ رونادھونا۔ ۔ ۔

سینٹ آف پاکستان کےالیکشن کی گہماگہمی چیئرمین سینٹ کے انتخاب تک پہنچی تو “تبدیلی”کو برہنہ ہوتےدیکھ کرآذان علی نےشرم سے آنکھیں موندھ لیں۔شرمندگی کے دباؤ اور نیندکےغلبےنے ملکر اسے گہری نیندکی وادی میں پہنچادیا۔نہ جانےوہ کب سے سویا پڑاتھاکہ اچانک اسکےدماغ میں روشنی بھرتی چلی گئی-اس نےدیکھاکہ وہ مظفرآباد دو میل پل کےپاس کھڑاہے جہاں ایک طرف دریائےنیلم کارنگ سرمئی اور دوسری جانب دریائےجہلم سفید ہوگیاہے۔اس نےذراجھانک کردیکھا تودونوں دریاؤں سےلوگ بالٹیاں بھررہےتھے۔وہ لوگوں کے قریب گیااورپوچھاکہ یہ دریاؤں کے پانی کارنگ کیوں تبدیل ہو گیا ہے اورآپ لوگ بالٹیوں میں کیا بھر رہے ہیں؟وہاں موجودلوگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کراسےدیکھتےہوئےبولے۔

بچے!دریائےنیلم میں شہدبہہ رہا ہے اوردریائےجہلم میں دودھ۔اس نے پوچھاکہ یہ کیسےہوگیاتووہ بولے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نےگاڑی سٹارٹ کی اورسڑکوں پربھگاناشروع کی تویہ دیکھ کر حیران رہ گیاکہ تمام سڑکیں اماراتی سڑکوں کیطرح کشادہ اورصاف ستھری ہوگئی ہیں۔وہ گاڑی بھگاتا ہوا اپنےگاؤں ٹال کیاٹ تک چلاگیا مگرحالات یکسر بدل چکےتھے۔آذان نےیہ بھی نوٹ کیاکہ سڑکوں کےدرمیان اورکناروں پربنے خوبصورت گرین ایریامیں دنیاکی فکروپریشانیوں سےآزادلوگ بیٹھے ہوئےہیں اورانکےچہرےگلاب کے پھول کیطرح کھلےہوئےہیں۔بزرگ خواتین وحضرات بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔نوجوان تاش اور لڈوکھیل رہےہیں۔ساتھ بنے پارک میں بچےاچھل کود رہےہیں۔

وہ حیران ہوتےہوئےآنکھیں ٹمٹا کر لوگوں سے پوچھنے لگاکہ آپ کی ٹائم اورفنانشل فریڈم کےساتھ صحت کارازکیاہےتوجواب ملاکہ ۔ ۔ ۔ ۔وہ تجسس میں پڑگیاکہ یہ تبدیلی کیسےآگئی۔ہرگھرمیں خوشحالی کیسے آگئی ہے؟آزاد کشمیرمیں سوشل سیکوریٹی کب سےمہیا ہونی لگی؟ بے روز گاری الاؤنس کب سےدیاجانےلگا؟آذان یہ سب دیکھ کر بےہوش ہونے والاتھاکہ قریب ہی موجودمنرل واٹرکی بوتل چہرےپرانڈیل کر خطا ہوتےہوئےاوسان بحال کرنےمیں کامیاب ہوااورآگے چل پڑا۔اس نے دیکھاکہ کوہالہ میں دنیا کا جدید ترین سوئمنگ پول بناہوا ہے۔لوگ وادی جہلم سے دودھ اورشہد میں تیرتےہوئےکوہالہ پہنچتےہیں اورزیر زمین بنی ہوئی بلٹ ٹرین میں سوارہوکر میرپور کیطرف نکل جاتے ہیں۔

آگےچل کروہ مظفرآبادکےاندر سرکاری ہسپتال ایمز پہنچاتوصاف ستھرےہسپتال میں خوش پوش نرسیں اور خوش اخلاق ڈاکٹرز انتہائی کم تعداد میں ہسپتال کارخ کرنےوالےمریضوں کے سامنے بچھے جارہےہیں اور نازو نخرے سےمعائنہ و علاج کررہےہیں۔ہسپتال سےنکل کروہ یونیورسٹی پہنچا تواسےلگاکہ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچ گیاہے جوتہذیب اور جدید علوم کاحسین امتراج ہے۔پرائمری،مڈل،ہائی سکولوں اور کالجوں میں تو جیسے انقلاب آ گیا ہو۔وسیع وعریض اورجدید جلال آباد پارک میں موجودلوگوں کودیکھ کر اسکی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔نٹرول کرکٹ سٹیڈیم تورہاایک طرف وہاں بڑےسپورٹس جم خانہ میں نوجوانوں کوکھیلوں میں مشغول دیکھ کرہسپتال ویران ہونےکاراز اسےمعلوم ہوگیا۔اس نےمختلف سرکاری دفاتر کےبھی چکرلگائےسرکاری ملازمین تندہی سےفرائض منصبی ادا کرنے میں مشغول دیکھے۔ہرشخص چہرےپرمسکراہٹ سجھائے نرم لہجےمیں بات کر رہا تھا۔

اسےخیال آیاکہ کیوں نہ لگے ہاتھوں وزیراعظم ہاؤس بھی دیکھ لے۔وہاں پہنچا تو وزیر اعظم ہاؤس کسی محل کا منظر پیش کررہاتھا۔گیٹ پرباوردی دربان کھڑے تھے جو ہر کسی کیلئےفوراًگیٹ کھول دیتے تھے۔لوگ تھیلےکاندھوں پر لادے محل سےباہرنکل رہےتھےتوآذان نے پوچھاکہ آپ کون لوگ ہیں اوران تھیلوں میں کیاہے؟جواب ملاکہ ہم ریاست کےعام شہری ہیں اوران تھیلوں میں اشرفیاں ہیں۔وہ بھی اندرداخل ہو گیااور منظر دیکھ کراسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

شہنشاہ برونائی کی طرز پر سونے کاتاج سر پر سجائے سونے کی کرسی پربراجمان آزاد ریاست کے “راجہ” اپنی کابینہ اورمن پسند بیوروکریسی کےجھرمٹ میں رعایا کو سونےکی اشرفیاں تھیلوں میں بھرکردےرہےہیں۔شہنشاہ آزادکشمیرکےدربارمیں سلام کی ہمت کر کے اس نے پوچھا کہ حضورآخر یہ تبدیلی کیسے آ گئی؟آزاد ریاست ویلفیئرسٹیٹ کیسے بن گئی؟شہنشاہ آزادکشمیر نےسگریٹ کاگہراکش لیااورمونچھوں کوتاؤ دیتےہوئےبولے۔ ہم نے کسی کی “خواہش”کی تکمیل کرتے ہوئےآزادجموں و کشمیر کونسل فتح کرکےوہ پل گرا دیا جو غداروں نےبنایا تھا۔یہ سب آزاد کشمیرکےآزاداوربااختیارہونے کے ثمرات ہیں۔

وہ مارےخوشی کےانگلیاں دانتوں میں دبائےساتھ ہی موجود صدر ہاؤس پہنچاتووہاں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔صدر ریاست پریشانی کےعالم میں چندلوگوں کےدرمیان ٹہل رہے تھے اورکہہ رہے تھےکہ شہنشاہ ریاست نےکونسل فتح کرکےریاست کانقشہ ہی بدل دیاہے۔راجہ نجابت اب تم بتاؤ کہ میں اس سےبڑاکام کیسے کروں؟مقبوضہ کشمیرکوآزادکراکے ویلفیئرسٹیٹ میں کیسے شامل کروں۔راجہ نجابت نےجواب دیاکہ یہاں بہت ٹینشن محسوس ہورہی ہے۔آپ آئیں برطانیہ چل کر “ماحول”بناتےہیں اورسوچتےہیں کہ شہنشاہ ریاست سےبڑا کام کیسےکیا جائے۔راجہ نجابت کی بات سن کر صدرریاست رک گئےاورقہقہ لگاتے ہوئےبولےکہ “گڈآئیڈیا۔”

قہقہ اتنازوردارتھاکہ اسکی آنکھ کھل گئی۔باہرنکل کردیکھتا ہے کہ کونسل ختم ہوگئی تھی۔آزاد حکومت با اختیارہوچکی تھی مگر کچھ بھی تونہیں بدلا تھا۔وہی پریشان حال لوگ۔وہی اداروں کی زبوں حالی۔وہی نااہلیت۔ٹوٹی پھوٹی سڑکیں۔خواتین کےسروں پرگھڑے۔بدبودارہسپتال اوران میں ذلیل ہوتےہوئے مریض۔وہی حکومت۔وہی افسر شاہی اور وہی رونا دھونا۔

اس دوران آذان علی کو سعادت حسین منٹو کی تانگے والےمنگو کی کہانی یاد اگئی جس میں منگونےاپنی ایک سواری سےنئےقانون کےبارےمیں خبر سنکر ایک گورےکوپیٹ ڈالا اورگنگنانے لگاکہ وہ دن گئےجب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتےتھے۔اب نیاقانون ہےمیاں نیاقانون!
گورےکوپیٹنےکی وجہ سےتھانےمیں بندہونےاورچھترول کرانےکےبعد باہرآیاتواداس لہجےمیں بولا کہ “نیاقانون کچھ بھی نہیں ھے۔ قانون وہی پراناہی ہے”