زرداری کے بیان سےدل گرفتہ رضا ربانی نے اہم فیصلہ کرلیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے قریبی ذرائع نے سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا بیان حقائق کے منافی قرار دے دیا۔پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور پی پی رہنما رضا ربانی کےدرمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، آصف زرداری نے رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے سے انکار کردیا ہے اور ان کی ناراضی کی وجہ انہوں نے گزشتہ روز بتائی جس میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ رضا ربانی نے نوازشریف کی آئینی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا۔چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے قریبی ذرائع نے آصف زرداری کے ان کے بارے میں بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

رضا ربانی کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہےکہ بطور چئیرمین سینیٹ آئین کی بالا دستی کا تحفظ رضا ربانی کی اولین ترجیح رہی، حکومت وقت کے خلاف سب سے زیادہ رولنگ رضا ربانی نے دیں جن کی تعداد 73 ہے۔ذرائع نے کہا کہ سینیٹ کی تاریخ میں پہلی باررضا ربانی نے وفاقی وزراء کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کی، بطور چئیرمین سینیٹ رضا ربانی نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کی رکنیت بھی معطل کی اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب نہ کرنے پر چیئرمین سینیٹ نےحکومت کی سخت سرزنش کی جب کہ وفاقی حکومت کومشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی۔

رضا ربانی کےقریبی ذرائع کا کہنا ہےکہ خصوصی کمیٹی کے قیام سے اٹھارہویں ترمیم پہ عمل درآمد کو یقینی بنایا۔چیئرمین سینیٹ کے ذرائع نے مزید کہا کہ وفاقی وزرا کے ایوان میں نہ آنے پر رضا ربانی بطور چیئرمین سینیٹ احتجاجاً کام چھوڑا۔قریبی ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کے بیان پر چئیرمین سینیٹ رضا ربانی دل گرفتہ ہوئے لیکن انہوں نے پارٹی قیادت پر بدستور بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ رضا ربانی کو بطور چیئرمین سینیٹ کے امیدوار نامزد نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کے اہم رہنما نالاں ہیں۔