عظیم بطل حریت کے ایچ خورشید مرحوم اورتحریک آزادی کشمیر

نقطہ نظر
ہمایوں زمان مرزا
پرائیویٹ سیکرٹری با نی پاکستان قا ئد اعظم محمد علی جنا ح ؒسابق صدر آزاد کشمیر جناب کے ایچ خورشید کی برسی 11 مارچ کو دارالحکومت مظفرآباد منائی جائے گی۔ تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ کے صفحات ہمیں ایسے ،مجاہدوں، شہیدوں اور غازیوں کی تاریخ ساز قربانیوں سے جگمگاتے نظر آئیں گے جنہوں نے حریت کشمیر کو اپنے مقدس خون سے روشناس کیا۔ ہماری قومی تحریک آزادی دراصل ان ہی عظیم اور باکردار لوگوں کی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے جس پر کوئی بھی مجاہد اور بہادر عوام فخر کر سکتی ہے۔ ان ہی فرزندان وطن اور حریت کشمیر کے نقیبوں میں ایک محترم اور معزز نام اصول پسند کشمیری سیاستدان جناب خورشید الحسن خورشید کا ہے۔ جو بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کے سیکرٹری اور آزاد جموں و کشمیر کے صدر بھی تھے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے جناب کے۔ایچ۔خورشیدکو قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقع نصیب ہوا۔

مختلف سیاسی اور قومی سطح کی تقریبات میں ان کی موجودگی میں اظہارِ خیال کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔جناب کے۔ایچ خورشید ،جناب ممتاز حسین راٹھورجب مظفرآباد میں سیاسی جدوجہد کے دوران گرفتا ر ہوئے تو راقم بھی ان ادنیٰ سے سیاسی کارکنوں میں شامل تھا۔ جناب کے۔ایچ۔خورشید(مرحوم)3 جنوری 1924 ءکو سرینگر میں مولوی محمد حسن کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام خورشید حسن رکھا گیا۔ مولوی محمد حسن ریاست جموں و کشمیر کے ممتاز اساتذہ میں شمار کیے جاتے تھے۔ آپ گلگت مڈل سکول کے صدر معلم تھے۔ خورشید حسن نے ابتدائی تعلیم گلگت میں حاصل کی۔ میٹرک 1939 میں سری پاتاپ ہائی سکول سرینگر سے کیا اور سکول میں اول رہے۔ گھر کا ماحول علمی تھا اور دین کی تعلیم بھی برابر کی اہمیت رکھتی تھی۔ 1941میں ریاست میں ایک ہی سیاسی تنظیم نیشنل کانفرنس تھی۔ قرارداد پاکستان کو عوام سے متعارف کرانے والی کوئی تنظیم نہ تھی۔

انہوں نے کچھ اور طالبعلموں سے جو مطالبہ پاکستان کے حامی تھی سے مل کر مسلم سٹوڈنٹس یونین کے نام سے مسلما ن طلباءکی تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے اور بھی بہت سے بانی لوگ شامل تھے۔ یہ نصف صدی پہلے کی بات ہے بہرحال نوجوان طلباءکی اس تنظیم نے وادی کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی غنڈہ گردی کے باوجود مطالبہ پاکستان کو متعارف کرانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ نیشنل کانفرنس میں شامل نہیں تھے۔ ان کی اور ان کے عقیدت مندوں کی ہمدردیاں اس تنظیم کو حاصل تھیں۔ خورشید حسن خورشید تنظیم کے بانی سیکرٹری تھے۔ یہیں سے ان کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ بحیثیت طالب علم ایک طرف وہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے دوسری طرف تعلیم کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔ آپ بچپن سے ہی ملکی معاملات اور سیاسی نشیب و فراز سے آگاہ رہتے تھے۔ 1941 ئ میں آپ نے دوران تعلیم ہی ریاست کی واحد سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے متوازی مسلم طلباءکی پہنچان کیلئے دیگر ہم خیال طالب علموں کے ساتھ مل کر ”مسلم سٹوڈنٹس یونین“کے نام سے ایک موثر سیاسی آواز اٹھائی۔ آپ ہمیشہ ایک نمایاں طالب علم رہے آپ کے اساتذہ اور خاندان ہمیشہ آپ کی صلاحیتوں پر نازاں رہا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی برصغیر کے ممتاز سیاسی وعلمی شخصیات سے آپ کی شناسائی اور قربت ہو چکی تھی ممتاز اہل علم و دانش ڈاکٹر تاثیر جیسی بڑی شخصیات کالج کے زمانے میں آپ کے استاد اور آپ کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ دوران تعلیم ہی آپ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور ان کی بے مثال ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے شناسائی حاصل کر چکے تھے۔

آپ کی صلاحیتوں اور اپنے کام اور کاز سے لگن ہی واحد وجہ تھی کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی نگاہ گوہر شناس نے اپنے انتہائی اہم سیاسی و نجی معاملات کی ذاتی طور پر دیکھ بھال کیلئے جناب خورشد کو اپنے پرائیویٹ سیکرٹری ہونے کا اعزاز بخشا اس سے بڑھ کر آپ کی ذات کیلئے قائداعظم کے یہ الفاظ کہ (پاکستان میں نے میرے سیکرٹری اور اس کے ٹائپ رائیٹر نے بنایا ہے )آج بھلا اور کون سا ایسا خوش نصیب ہے جس کے باعث بانی پاکستان حضرت قائداعظم جیسے عظیم شخص کے ایسے تعریفی الفاظ ہوں۔ قائداعظم کی قربت کے باعث مسلم لیگ کے تمام راہنما آپ کی شخصیت اور مرتبے سے آگاہ تھے اور آپ کا بجا طور پر احترام بھی کرتے تھے اس حقیقت کے باوجود کے قیام پاکستان اور کشمیر کی دھرتی کی تقسیم کے باعث آپ مہاجر ہونے کے استقاق کے باوجود معتدد حکومتوں اور مسلم لیگی راہنماؤں کی خواہش کے باوجود کسی قسم کی جائیداد الاٹ نہ کروائی۔

بانی پاکستان کی وفات کے بعد مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خواہش نما حکم کی تعمیل پر آپ مزید اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ گئے اور نمایاں کامیابی کے ساتھ ”بیرسٹر“کا امتحان پاس کیا یوں آپ کا شمار پاکستان اور آزاد کشمیر کے نامور وکلاءکی فہرست میں درخشاں ہے۔جناب خورشید ایک بااصول سیاسی مدبر اور اعلیٰ پائے کے دانشور اور قانون دان تھے مسئلہ کشمیر کی باریکوں اور سیاست کی پچیدگیوں سے بخوبی واقف تھے اور مسئلہ کشمیر کو جس زوایہ نظر سے آپ نے دیکھا گزرتے وقت نے ہمیشہ اس کی صداقتوں اور ضرورتوں کو ثابت کر دیا ہے۔ 1959ئ میں آپ کو کشمیر کی صدارت کی پیشکش کی گئی جسے آپ نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے حکم پر اس منصب کیلئے آمادہ ہو گئے اور یوں مئی 1959 ئ میں آپ آزاد حکومت کے صدر بنے۔

آپ کی صدارت کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اس لحاظ سے اہم مقام رکھتی ہے کہ آپ کبھی بھی اپنے فرائض میں کسی کی مداخلت قبول نہ کرتے تھے پاکستان کے اعلیٰ حکام بھی آپ سے وقت لیے بغیر ملاقات نہ کر سکتے تھے۔ آپ کی سب سے بڑی خواہش اور سیاسی جدوجہد کا محورو مرکز کشمیری عوام کی آزادی اور ریاست جموںو کشمیر کے تشخص کی بحالی تھا کاش کہ پاکستان کے حکمران ان کی باتوں پر غور کرتے تو شاہد کشمیری قوم اس صدمے اور جبر سے بچ نکلتی جس کے باعث آج ایک لاکھ سے زائد شہداءکشمیر نے اپنی قیمتی جانوں کے نذارنے پیش کیے اور ایک کروڑ سے زائد کشمیری 7 لاکھ سے زیادہ بھارتی افواج کے جبر و تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جناب خورشید حسن خورشید نے جو نظریہ دیا وہ تمام آئینی اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں یقینا ایک دورس نتائج کا حامل فلسفہ ہے مگر پاکستان کی وزارت امور کشمیر کے نابالغ ہونےاور اسے سمجھنے میں بہت تاخیر کر دی اور یہی سے اختلافات شروع ہو گئے۔ جناب خورشید ملت نے کہا تھا کہ آزاد حکومت کو مہاراجہ ہری سنگھ کی جانشین حکومت تسلیم کرتے ہوئے پاکستان دیگر ممالک سے بھی اس کی حیثیت کو منوانتے ہوئے اقوام متحدہ کا ممبر بنوائے تاکہ ایک آزاد حکومت اپنے مقبوضہ علاقہ جات اور اپنے ہم وطنوں کی آزادی کیلئے موثر کردار ادا کر سکے مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اوراختلافات بد گمانیوں میں بدل گئے اور یوں 1964 ئمیں آپ کو صدارت سے مستعفیٰ ہونا پڑا کشمیر میں ان کے ہم خیال دانشوروں،قانون دانوںاور سیاسی کارکنوں نے ان کے افکار کی روشنی میں ”جموں و کشمیر لبریشن لیگ“کی بنیاد رکھی۔جناب کے ایچ خورشید انتھک محنتی انسان تھے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ آپ کشمیری عوام کے ”درویش راہنما“تھے آپ نے کبھی بھی جاہ جلال کی تمنا نہ کی نہ آپ کی بڑی برادری کے نام نہاد رہنما تھے اور نہ ہی آپ کے پاس حرام کی دولت کی فراوانی تھی مگر اس کے باوجود آپ نے ہمیشہ خود داری کا بے مثال مظاہرہ کیا آپ شاعر فرزند کشمیر علامہ اقبال ؒ کے اس شعر کی عملی تعبیر تھے۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

”رازداں“کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ عوامی حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد کے مواقع پر کئی متعدد مرتبہ جناب خورشید حسن خورشید کی رائبری میں اپنا قومی کردار ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا ایسے ہی ایک موقع پر احتجاج کرتے ہوئے دارالحکومت مظفرآباد سے ”رازداں“بھی ان کے ساتھ زینت زندان بنا۔جناب کے ایچ خورشید”رازداں“کو جناب پروفیسر خان زمان مرزا کے فرزند ارجمند کی حیثیت سے بھی جانتے تھے اور والد گرامی کے ساتھ ان کی کئی علمی ادبی و سیاسی مجلسیں چلتی تھیں جن میں ”رازداں“کے ذمہ محفل کو گرم رکھنے کیلئے سامان خوردِ نوش مہیا کرنے کے علاوہ اپنی سیاسی و صحافتی تشنگی دو رکرنے کیلئے پاس بیٹھنا بھی سعادت مندی تھی مگر بحث میں شرکت سے بوجہ ”برخورداری“محروم تھا مگر جیل نے حفظ مراتب میں برابر کر دیا۔ جناب کے۔ایچ خورشید (مرحوم )کشمیر کے ان چند ناموردانشوروں ، اور سیاسی راہنماؤں میں شامل ہیں کہ جن کی قربت پر انسان ہمیشہ نازاں رہتا ہے۔

کشمیر اور پاکستان میں ایک بڑا طبقہ آپ کے حلقہ دوستاں میں شامل ہے۔ آپ کی باتیں اہل علم و سیاست کی راہنمائی کا باعث ہوتیں تھیں آپ ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود آپ میں تکبر نام کی چیز نہ تھی ساری زندگی آپ نے عام انداز میں بسر کی اور پروٹوکول کی بلاوجہ سختیاں اور پابندیاں آپ کو قطاً گوارہ نہ تھیں۔ آپ نے ساری زندگی کرائے کے مکانوں میں گزارا دی حالانکہ آپ کے ایک اشارے پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کئی بڑی بڑی عالی شان کوٹھیاں آپ کے مہاجر ہونے کے استحقاق کے نام پر الاٹ ہو سکتی تھیں آپ نے اپنے پیچھے کوئی بینک بیلنس نہیں چھوڑا 64 سالہ کامیاب، قابل فخر اور رشک زندگی گزارنے کے بعد جب 11 مارچ 1988کو ایک عام مسافر کو چ میں سفر کے دوران المناک حادثے میں جان بحق ہو گئے تو آپ کی جیب سے کل (37)روپے کا اثاثہ بر آمد ہوا آپ کے جسد خاکی کو انتہائی احترام اور شان و شوکت سے دارلحکومت مظفرآباد لایا گیا۔ 50 ہزار سے زائدانسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس عظیم کشمیری راہنما کے جنازے میں شریک تھا۔اور ہزاروں اشکبار آنکھوں نے اس عظیم قائد کو آسودہ خاک کیا اور مظفرآباد میں آپ کے نام سے منسوب خورشید لائبریری کے احاطہ میں ہی آپ کا مزارِ آپ کی عظمتوں کی دلیل 8اکتوبر 2005ءکے قیامت خیز زلزلے سے بھی محفوظ رہا۔

جناب کے ایچ خورشید کے چاہنے والے یوں تو ہر لمحہ انہیں یاد رکھتے ہیں مگر ان کی برسی کی تقریبات ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک موثر طریقہ ہوتیں ہیں۔”رازداں“ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اب تک کی تمام برسیوں کے مواقع پر اشک باروں میں شامل ہوتا ہے۔ آج کشمیر کا بچہ بچہ ایسے انمول خورشید کے بچھڑ جانے پر افسردہ وملال ہے جناب خورشید ملت کے پائے کا کوئی رہنما آج ”رازداں“ کو نظر نہیں آتا کہ جو دانشور بھی ہو،عوام دوست بھی ہو اور سب سے بڑھ کر عوام کے دکھوں کا مدواہ کرنے والا درویش بھی ہو۔بقول شاعر :
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا