چنگی گل/کاشف رفیق

پرویز خٹک کا زرداری سے بدلہ

جس طرح تحریک انصاف پاکستان میں سوشل میڈیا کی متحرک پارٹی بن کر اُبھری اِسی طرح زرداری کے نام کیساتھ مفاہمت جیسی ٹرم بولی اورلکھی جاتی ہے،،چونکہ زرادری آنےوالا الیکشن لڑنے کے بجائے خریدنے کی پلاننگ کر بیٹھا ہے اس لیے مفاہمت کا چورن پرانا ہوگیالیکن ہمارے روایتی سیاسی پہلوان اب بھی زرداری کی مفاہمت کے گن گا رہے ہیں جبکہ مفاہمتی جادوگر اب مجبوریوں،خواہشوں،عہدوں اورشُودوں کا خریداربن چکا ہے متحدہ کےووٹوں کوخریدا،خیبرپختونخواہ کے کھلاڑیوں کونوٹوں سے ڈھیر کیا،بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت پر شب خون مارا،فاٹا کے ارکان کوبھی سہانے خواب دکھانے کا فارمولہ لگایا،اسٹیبلشمنٹ کو بچہ جمہورا بننے کا یقین دلایاتو ہی سینٹ کے چیئرمین بنانے کی بڑھکیں ماریں.

سب کچھ پلان کے مطابق چل رہاتھا کپتان نے اپنے سینیٹرز بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے توسط سےزرداری کی گودمیں ڈال دئیے تھےخوشی برداشت سےباہرہوئی تو زردری کے کارِخاص ڈاکٹر قیوم سومرونے 58 ارکان کی حمایت کا نعرہ بھی لگادیالیکن خیبرپختونخواہ میں جوڑ توڑ کے ماسٹر پرویزخٹک کا اللہ بھلا کرے جنہوں نے زرداری کی ساری خوشی کو سُوگ میں بدل دیاتحریک انصاف کےکورگروپ میں پرویز خٹک نے پیپلزپارٹی کے امیدوارکو ووٹ دینے کی مخالفت کردی جس کی وجہ 2018 کا الیکشن بتائی جبکہ اصل وجہ ہارس ٹریڈنگ کا بدلہ لینا تھا پرویزخٹک کی اس رائے پرتمام پارٹی ارکان متفق ہوگئے لیکن سوال یہ پیدا ہواکہ حکمت عملی کیا ہو جس پر پرویز خٹک نے تحریک انصاف کے سینیٹرز کو بلوچستان کےچیئرمین ،فاٹا کےڈپٹی چیئرمین کو ووٹ دینے کی تجویز دی جو متفقہ طورپر مان لی گئی یوں پرویز خٹک نےمفاہمتی خریدار سے اپنے ایم پی ایز خریدنے کا بدلہ پورا کرلیا۔