وہ کشمیری نوجوان جو پاکستان بنانے میں قائد اعظم محمدعلی جناح کامعاون بنا

میر کاررواں
تحریر : محمد اسلم میر
تحریک پاکستان میں کشمیریوں کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے پرایئویٹ سیکرٹری کا انتخاب بھی کشمیر سے ہی کیا تھا۔ عظیم قائد کے اس عظیم دست راست نے صاف ستھری سیاسی زندگی سے ثابت کیا کہ وہ آج بھی ریاست جموں و کشمیر کے غیر متنازعہ لیڈر ہیں۔۔پاکستان بنانے میں میری مدد میرے ٹائپ رائٹر اور سیکرٹری نے کی۔ جی ہاں یہ الفاظ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے آزاد کشمیر کے سابق صدر اور تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن خورشید حسن خورشید کے بارے میں کہے تھے۔ تحریک پاکستان کے عروج کے سالوں میں ایس پی کالج سرینگر کے اس ہونہار طالبعلم نے دیگر آزادی پسند طلبہ کے ساتھ ملکر مسلم سٹوڈنٹس یونین کی بنیاد رکھی اورکشمیری طلبہ کو منظم کیا جس پر انہیں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جالندھر کنونشن میں کشمیری طلبہ کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔نواب بہادر یارجنگ کی وفات کے بعد مسلم کانفرنس کا ایک وفد قائد اعظم سے ملنے گیا جس میں کے ایچ خورشید بھی شامل تھے جنہیں قائد اعظم نے اپنے ساتھ بطور پرائیویٹ سیکرٹری کام کرنے کو کہا۔

کے ایچ خورشید نے جہاں قائد اعظم کے ساتھ رہ کر تحریک پاکستان میں جاندار کردار ادا کیا وہاں انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کو حق رائے دہی دلانے میں بھی جدوجہد کی۔ 1946 میں جب تحریک پاکستان فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی تو اس دوران قائد کے دست راست کے ایچ خورشید کو اپنی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی۔ قائد اعظم نے کے ایچ خورشید کو سرینگر میں والدہ کے جنازہ میں شرکت کر نے کی اجازت دی جس پر کے ایچ خورشید نے قائد سے کہا کہ ان کی والدہ کو سرینگر میں دفنانے والے کافی لوگ ہیں لیکن اس وقت جب تحریک پاکستان آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے تو اس موقع پر میں جناب قائد آپ کو اکیلا نہیں چھوڑاجا سکتا ۔ یوں کے ایچ خورشید اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کیلئے سرینگر نہیں جاسکے بلکہ
تحریک پاکستان کے کام میں قائد کے ساتھ ہی مشغول رہے۔

ایوب خان نے کے ایچ خورشید کو یکم مئی 1959 کو آزاد کشمیر کا صدر تعینات کیا اور 5 اگست 1964 کو وفاقی حکومت سے اختلافات پر انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ کے ایچ خورشید 3 جنوری 1924 کو آبی گزر سرینگر میں پیدا ہوئے اور 11 مارچ 1988 میرپور سے لاہور عام مسافر ویگن میں سفر کے دوران جی ٹی روڈ پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گے۔ کے ایچ خورشید آزاد کشمیر کی سیاست میں ایمانداری اور صلاحیتوں کے اعتبار سے آج بھی کوئی ثانی نہیں رکھتے ۔ ریاست جموں و کشمیر کے اس عظیم لیڈر کو سابق صدر آزاد کشمیر میر واعظ محمد یوسف شاہ کے قریب اپر اڈا مظفرآباد میں سپرد خاک کیا گیا۔ کے ایچ خورشید کا مزار قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کی طرح تعمیر کیا گیا جہاں آج بھی دنیا بھر سے ان کے پرستار اور عقیدت مند انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے آتے ہیں۔۔