شہر راولاکوٹ کے توجہ طلب مسائل

دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جو مختلف مسائل کا شکار نہ ہو، لیکن وہاں کے عوام اور حکومت مل کر مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ مسائل ہوتے ہیں اور کچھ خود پیدا کر لئے جاتے ہیں۔ مسائل کے حل کو تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہم زیربحث کالم میں پورے ملک کے مسائل کا احاطہ نہیں کر سکتے، لیکن کم از کم اپنے شہر کی حد تک تو کچھ مسائل کی نشاندہی ضرور کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ یہ وہ مسائل ہیں جو ہر اعلیٰ، ادنیٰ، صاحب اختیار و اقتدار اور عوام و خواص سب کے سامنے ہیں۔ ہمارے ایک دوست سردار خان قیوم خان سابق صدر انجمن طلباء اسلام حال مرکزی نائب امیر جمعیت علماء جموں کشمیر نے بھی ان مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔

ہمارا شہر راولاکوٹ ہے جس کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے، اسے وادی پرل بھی کہتے ہیں۔ نہایت ہی خوبصورت اور دلکش مناظر سے بھرپور شہر ہے۔ 1947ء میں ڈوگروں کے خلاف پہلی آواز یہاں ہی سے بلند ہوئی۔ یہ ڈوگروں کے لئے بھی اہم رہا ہے۔ یہاں تاریخی شخصیت نے جنم لیا ہے، غازی ملت سردار ابراہیم خان بانی صدر آزاد حکومت ریاست جموںکشمیر کا آبائی شہر ہے۔ یہاں ہی سے مختلف راستے ایک طرف راولپنڈی تو دوسری طرف پونچھ شہر کو جاتے تھے۔ راولاکوٹ سے ہی گزر کر ڈوگرہ فوج باغ، ٹائیں، دھیرکوٹ، کوہالہ جاتی تھیں۔ پیرپنجال کا احوال جن سیاحوں نے کیا ہے، زمانہ قدیم میں اُن کی گزرگاہ یہی راولاکوٹ تھا۔ کئی صوفی بزرگ یہاں سے گزر کر کشمیر گئے ہیں۔ غرضیکہ اگر صرف اس کی تاریخی حیثیت پر بات کی جائے تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ آج سے تیس سال پہلے یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ شہر بڑھتا گیا اور سپلائی بازار سے لے کر مین بازار راولاکوٹ تک اب تقریباً ایک ہو چکا ہے۔ آبادی کے باعث اب یہ شہر گنجان ہوتا جا رہا ہے۔ زندگی کی جدید سہولیات تعلیم و صحت اور ملازمت، تجارت کے لئے باہر کے لوگوں نے شہر اور مضافات میں رہائش اختیار کر لی ہے۔ شہر منصوبہ بندی کے تحت نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے یہاں سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلہ کے بعد سڑکوں اور سرکاری عمارات کے لئے نئی منصوبہ بندی کی گئی۔ بعض رِنگ روڈ بھی بنائی گئیں، لیکن اس کے باوجود ٹریفک کا نظام بہتر نہ ہونے کے باعث عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ پارکنگ نہ ہونے کی وجہ سے خریدار اپنی گاڑیاں مین روڈ پر ہی لگاتے ہیں۔

کچہری روڈ، بینک روڈ بھی پارکنگ بنی ہوئی ہیں۔ بالخصوص CMH روڈ اور نالہ بازار سڑک پر پارکنگ کے باعث عوام کا پیدل چلنا مشکل ہو گیا ہے۔ صبح سکول جانے کے وقت ٹریفک بے ہنگم ہوتی ہے، ٹریفک پولیس یوں غائب ہوتی ہے جسے گدھے کے سر سے سینگ اور یہ صورتحال سکولوں کی چھٹی کے وقت بھی مختلف نہیں ہوتی ہے۔ ایمبولینس اور دیگر گاڑیوں کے لئے گزرنا بھی بہت مشکل ہے۔ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کا چلنا نہ صرف محال ہے، بلکہ جان بھی جا سکتی ہے۔ اگر سپلائی بازار تا چاندنی چوک بائی پاس روڈ بنا دی جاتی تو ٹریفک کا یہ ہجوم ختم ہو سکتا تھا۔ لیکن نہ جانے عوام سے زمین حاصل کرنے کے باوجود اس منصوبہ پر عمل کیوں نہیں ہو سکا۔ جبکہ ممبرقانون ساز اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان بھی لوگوں کے احتجاج پر موقع پر آ چکے ہیں اور منصوبہ کا جائزہ لے چکے ہیں۔ اسی طرح گاڑیوں کے شہر کے باہر اڈوں کی منتقلی کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ بالخصوص غریب، غرباء اور بیمار افراد کا ہسپتال پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اگر شہر کے اندر مختلف روٹس کی گاڑیوں کو پندرہ منٹ کا سٹاپ دیا جاتا تو عوام کو سہولت ہوتی اور یوں اُن پر مالی بوجھ بھی نہ پڑتا۔ حکومت و انتظامیہ کا کام عوام کو سہولیات دینا ہوتا ہے نہ کے ان کے لئے مسائل پیدا کرنا۔ سڑک پر پارکنگ کے علاوہ ریڑی بانوں نے فٹ پاتھ پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کہیں سبزی فروخت ہو رہی ہے تو کہیں فروٹ، کہیں مچھلی، کہیں مرغ، کہیں کپڑے اور کہیں دیگر اشیائ۔ راولاکوٹ CMH روڈ مین بازار تک پورا راولپنڈی کا راجہ بازار لگتا ہے۔ ان جگہوں پر مچھلی، مرغ اور سبزی فروخت ہونے سے گندگی کے ڈھیر جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔

CMH کے باہر روڈ پر کوڑادان بنایا گیا ہے۔ کوڑا اگرچہ وہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے، لیکن کچرا سڑک پر پڑنے سے اس کی بدبو کے باعث لوگوں کا پیدل چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گندگی کی صورتحال پورے شہر میں ایک جیسی ہے۔ کسی ایک جگہ کو مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح لگتا ہے جیسے بلدیہ کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔ PDA دفتر کے چند سو میٹر کے فاصلہ پر کوڑاکرکٹ پڑا ہے جو صاف نظر آتا ہے۔ انتظامیہ بھی بے بس نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے اس شہر کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ دکانداروں کے ایک ہی چیز کے مختلف دام ہیں، پوچھنے والا کوئی نہیں۔ جہاں ان کے مسائل کے حل کے لئے ارباب اقتدار کو توجہ دینا چاہیے، وہاں لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اعلیٰ حکام تک اپنے مسائل پہنچائیں اور حل کے لئے کوشش کریں۔ صفائی کو ہمارے دین نے نصف ایمان قرار دیا ہے۔ اس پر ہم کتنا عمل کرتے ہیں، ہمیں خود بھی اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔ کم از کم اپنی دکان، گلی کے سامنے صفائی رکھیں، جگہ جگہ کوڑا نہ پھینکیں۔ یہ بلدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں مختلف جگہوں پر کوڑا دان لگائیں اور بروقت کوڑا اٹھائیں تو کچھ حد تک بہتری آ سکتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ بلدیہ اڈہ کے ساتھ بعض شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچرا ایک جگہ جمع کرنے کی روایت ڈالی ہے، لیکن بلدیہ نے اُن سے کوئی تعاون نہیں کیا۔ جو بلدیہ حکام اور انتظامیہ کے لئے لمحہء فکریہ ہے۔ اب جبکہ ذاکر شیرافضل نے بلدیہ ایڈمنسٹریٹر بنے ہیں، اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس طرف خصوصی توجہ دیں گے۔ راولاکوٹ شہر ہمارا شہر ہے۔ ہم نے اسے خوبصورت بنانا ہے۔ اسے صاف ستھرا رکھنا ہے۔ اب ٹورازم کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ اگر شہر کے یہ مسائل یونہی رہے تو یہاں کون سیاحت کرنے آئے گا؟ یہ وہ چند توجہ طلب مسائل ہیں جن پر یہاں کے شہریوں کو سیاست دانوں کو، تاجر تنظیموں کو، سول سوسائٹی کو اور بالخصوص اربابِ اختیار و اقتدار کو خصوصی توجہ دینا چاہیے، تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی آ سکے۔