بے شرم /سید وسیم عباس

کیہڑے پاسے جاواں ۔۔منجی کیتھے ڈاواں

پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے آپ کو کچھ چیزیں میراث میں ملتی ہیں ان میں سرفہرست ہے آپشنز۔لیکن ان آپشنز کا آپ کو رتی بھر بھی فائدہ نہیں ہوتا الٹا ان آپشنزنے آپ کی زندگی مزید اجیرن بنا رکھی ہے ۔ہرکوئی اپنی دکان کھول کر بیٹھا ہوا ہے اوراپنا چورن بیچنے میں مصروف ہے ۔کل گھر کے ماہانہ استعمال کیلئے اشیاء خوردنوش لانے کیلئے ایک بڑے گروسری سٹور جانے کا اتفاق ہوا بیٹے کا ڈائپر طلب کرنے پر کاؤنٹرپرکھڑی دلفریب خاتون کی جانب سے آپشنز کی بھرمار کردی گئی کسی کمپنی کا ڈائپرایک دن میں ایک ہی کافی تو کسی کمپنی کاڈائپرخوشبوئیں بکھیرتا نظرآیا غرض کہ اچھے خاصے سوئے ہوئے دماغ میں بے جا”وسوسوں” کو انڈیل دیا گیا ۔وہاں سے کچھ آگے صابن لینے لگا تو کسی اچھے ہسپتال کی پڑھی لکھی نرس سے مشابہہ رکھنے والی خاتون نے کہا کہ یہ والا صابن لیں یہ 99فیصدجراثیم مارتا ہے جبکہ دوسراصابن 99.99فیصد جراثیم ختم کرتا ہے ہم نے سوچا کہ ایک جراثیم کوزندہ چھوڑنے کا خطرہ ہم کیوں مول لیں لہذا 99.99 فیصدجراثیم مارنے والے صابن کا انتخاب کیا ۔گھی خریدا تب بھی آپشنزاورآفرز،چاول،چینی ،پتی ہر چیز میں اتنے آپشنز دیکھ کر دماغ کا کیلکولیٹرتقریباًفیوزہوچکا تھاخود کوکوسنا شروع کیا کہ اتنے آپشنز والے سٹورکا انتخاب ہی کیوں کیا۔

اب آتے ہیں اصل بات پر پاکستان کی سیاسی صورتحال کاحال بھی انہی آپشنز جیسا دکھائی دیتا ہے مذہبی جماعت،سیاسی جماعت،طلباء کی جماعت،لوٹوں کی مشترکہ جماعت غرض اتنے آپشنزکہ آپ سوچنے پرمجبورہوجاتے ہیں کہ ان میں سے سچا کون ہوگا اورجھوٹاکون،آپ نوازشریف کا آپشن منتخب کریں تو “پٹواری “ہونے کا طعنہ آپ کا منتظر،آپ عمران خان کاآپشن منتخب کریں تو آپ کو “یوتھیا،برگر”ہونے کی جلی کٹی سننے کو ملتی ہیں،مذہبی جماعتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں تو کہتے ہیں لڑکا ہاتھ سے نکل گیا ہے مولویوں میں اٹھنے بیٹھنے لگاہے ،اب توایسی جماعتیں بھی معرض وجود میں آچکی ہیں جن کا حال پی ایس ایل کی فرنچائزز جیساہے ہرٹیم مطلب ہر پارٹی سے ایک ایک کھلاڑی اپنے مطلب کا لیا جا رہا ہے اور ایک مضبوط ٹیم تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایک بات تو سمجھ میں آچکی ہے کہ مملکت پاکستان میں آپ ان میں سے کسی آپشن کا انتخاب نہیں کرسکتے کیونکہ اس کے بعد آپ کو لیڈروں اوروزیروں پرجوتے اورسیاہی پھینکنے کیلئے ہمہ وقت تیاررہنا ہوگا اورمیرے اورآپ جیسا عام شہری یہ سب افورڈنہیں کرسکتا۔کیا ہم سب لوگ آپشنزسے پاک ہوکر کسی ایک نقطہ پرمتفق نہیں ہوسکتے جہاں آپ کویہ ڈر نہ ہوکہ کوئی آپ کو پٹواری ،یوتھیایا حلوہ مولوی کا طعنہ نہیں دے گااب تو سیاسی گالم گلوچ بھی وجود میں آچکی ہے ہرپارٹی کے پاس سیاسی گالیوں کااپنا سٹاک تک موجود ہے گوں کہ آپشنزکی بھرمارہی بھرمار ہے ۔

مجھے تو اس گروسری سٹور اوراس ملک میں فی الحال کوئی فرق نظرنہیں آیا یہاں بھی ایسے سیاستدان موجود ہیں جو 99.99فیصدپیسہ خودکھاجاتے ہیں جب کہ بچ جانے والی وسیع رقم عوام پر خرچ ہوتی ہے۔کچھ لیڈرایک پارٹی میں ایک دن نکالتے ہیں تو کچھ اپنی سیاسی خوشبوؤں سے پوری پارٹی کو سیراب کرتے ہیںاب ہم سب کو مل کر آپشنز سے پاک ملک کی جانب بڑھنا ہوگا جس میں آپ صرف اپنے دل ودماغ کی سنیں نہ کے آپشنزاورآفرزپرغورکرنا آپ کی مجبوری بن جائے۔