پاکستان کو کس حکمران نے کتنا مقروض کیا؟

لندن(رانا سرفراز سے)بیرونی قرضوں کے لحاظ سے پاکستان کو آٹھ ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کون سا حکمران کتنا قرضہ چھوڑ کر گیا۔ قیام پاکستان سے ایوب خان کے مارشل لاء تک۔ پاکستان پر کل قرضہ تقریباً 350 ملین ڈالر پاکستان کو اپنے قیام کے ساتھ ہی قرضہ لینے کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ ایوب خان کا دور پاکستان پر کل قرضہ تقریباً 170 ملین ڈالرایوب خان نے تقریباً 180 ملین ڈالر بیرونی قرضہ ادا کر کے پاکستان پر کل قرضہ کم کروا دیا تھا۔ بلکہ پاکستان نے پہلی بار دوسرے ممالک کو قرضے دینے شروع کیے جن میں جرمنی جیسا ملک بھی شامل تھا۔

بھٹو کا دور پاکستان پر کل بیرونی قرضہ ۔6341 ملین ڈالربھٹو کے تباہ کن جمہوری دور میں پاکستان نے پہلی بار بڑے بڑے قرضے لینے شروع کیے۔ بھٹو دور میں بظاہر ایسے کوئی منصوبے بھی نظر نہیں آتے جہاں یہ رقم کھپائی گئی ہو۔ جنرل ضیاء الحق کا دور کل بیرونی قرضہ 12913 ملین ڈالرجنرل ضیاء واحد فوجی حکران تھا جس نے تقریباً 6572 ملین ڈالر کے بیرونی قرضے لیے۔ لیکن جنرل ضیاء مسلسل گیارہ سال تک روس جیسی سپر پاور کے خلاف جنگ کرتا رہا، ایٹمی پروگرام کی تکمیل کی اور ایف 16 طیارے خریدنے کے علاوہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھوٹے ڈیم بنائے۔

یوں بظاہر ان قرضوں کا جواز نظر آتا ہے۔ بے نظیر اور نواز شریف کا دورکل بیرونی قرضہ 39000لین ڈالردونوں منتخب جمہوری حکمرانوں نے مجموعی طور پر صرف دس سال کے عرصے میں 26090 ملین ڈالرکا تباہ کن قرضہ لیا۔ جبکہ ان دس سالوں میں ڈھائی سو ارب روپے کے ایک موٹر وے کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ پرویز مشرف کا دورکل بیرونی قرضہ 34000ملین ڈالر پرویز مشرف کے 8 سالہ دور میں بیرونی قرضوں میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ اس نے تقریباً 5000 ملین ڈالر کے ریکارڈ قرضے کم کروائے۔

آصف زرداری کا دور کل بیرونی قرضہ 48100ملین ڈالرآصف زرداری اینڈ کمپنی نے صرف پانچ سال میں 14100 ملین ڈالر کا قرضہ لے کر پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ نواز شریف کا موجودہ دورکل بیرونی قرضہ تقریبا 84000 ملین ڈالر نواز شریف اب تک صرف چار سال کے قلیل عرصے میں 35900 ملین ڈالر کا کمر توڑ قرضہ لے چکے ہیں جو پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں لیے گئے کل قرضے کے برابر ہے۔ بظاہر اس سوائے 700 ملین ڈالر کی لاگت سے بننے والے میٹرو کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔

یوں آمرانہ ادوار میں کل 6772 ملین ڈالر کا قرضہ لیا گیا جبکہ 5180 ملین ڈالر کا قرضہ چکتا کیا گیا۔ یوں آمروں نے پاکستان کو کل 1592 ملین ڈالر کا مقروض کیا۔جبکہ جمہوری حکمرانوں نے پاکستان کو کل 82408 ملین ڈالر کا مقروض کیا۔
جمہوری ادوار میں لیے گئے قرضوں کا محض سود ہی آمروں کے کل لیے گئے قرضوں سے زیادہ ہے۔ ابھی چند ماہ بعد پاکستان کو صرف سود کی مد میں 11000 ملین ڈالر ادا کرنے ہیں۔