شریف برادران اور چودھری نثار کے درمیان برف پگھلنے لگی

لاہور(سٹیٹ ویوز) مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھالتے ہی شہباز شریف سیاسی میدان میں متحرک ہوگئے اوراپنی نئی ٹیم بنانے کیلئے ملاقاتوں اور اور چودھری نثار کی ملاقات ہی پارٹی قیادت سے غلط فہمیوں کے ازالہ کا پیش خیمہ بنے گی اور شہباز شریف بھی حسب روایت اپنے بڑے بھائی اور دوست کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مسلم لیگ ن کے صدر بننے کے بعد پارٹی قیادت اور چودھری نثار علی خان کے درمیان اختلافات ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے جس میں پارٹی کے بعض سینئر عہدیداروں نے اہم کردار ادا کیا اور وہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ برف پگھلی، اچھی خبر مل سکتی ہے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق آئندہ دو تین روز میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی چودھری نثار سے ملاقات متوقع ہے جو پارٹی قیادت کیساتھ اختلافات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریگی۔دوسری جانب مشکل حالات اورآئندہ انتخابات سے قبل پارٹی کے ناراض ارکان کو منانے اور غلط فہمیاں دور کرنے کا فیصلہ ہوا اور اس حوالے سے پیشرفت وزیراعلیٰ شہبازشریف کرینگے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کسی بھی بڑی جماعت میں قیادت کے حوالے سے صرف نظر برتنے پر ناراضی ہو جاتی ہے جس کو بڑا دل کر کے دور کیا جا سکتا ہے جس کا احساس پارٹی کے اندر پایا جاتا ہے ، چودھری نثار ناراض نہیں ، غلط فہمیاں ہیں ، پارٹی قیادت سمجھتی تھی مشکل صورتحال میں مخلص اور سینئر رہنماؤں کی جانب سے تحفظات کا اظہار پارٹی میں انتشار کا باعث بن سکتا ہے ، اس لئے ذمہ دارانہ طرزعمل اختیار کیا جائے جس کو چودھری نثار نے محسوس کیا اور ان کے بعض بیانات پر پارٹی قیادت نالاں ہوئی لیکن شہبازشریف سمیت بعض سینئر رہنما چودھری نثار کو پارٹی کیلئے اثاثہ سمجھتے ہوئے انہیں کھونا نہیں چاہتے جبکہ چودھری نثار متعدد بار یہ کہتے نظر آئے کہ وہ نوازشریف اور شہبازشریف کی قیادت میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں البتہ مریم نواز کی قیادت پر ان کے تحفظات تھے۔

اب شہبازشریف کے پارٹی صدر منتخب ہونے کے بعد ایک بار پھر چودھری نثار کو منانے اور انہیں ساتھ لے کر چلنے کی تحریک شروع ہو گئی ہے، شہباز شریف اور چودھری نثار کی ملاقات کے بعد دونوں رہنما نواز شریف سے ملیں گے ، قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں چودھری نثار سپیکر ایاز صادق ، پارٹی کے وزرا اور ذمہ داروں سے ملتے جلتے نظر آئے ، انہوں نے شہباز شریف کے انتخاب کو مشکل حالات میں جماعت اور قیادت کیلئے نیک فال قرار دیا اور کہا کہ اچھی اور سیاسی بات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔