کنٹرول لائن کاقریبی علاقہ مظاہرین اورپولیس کےدرمیان میدان جنگ بن گیا

راولاکوٹ (سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) پاکستان اوربھارت کے زیر اہتمام کشمیر کےدرمیان قائم لائن آف کنٹرول پر آئے روز بھارتی گولہ باری اورلوگوں کےشہیداورزخمی ہونے کےخلاف عالمی ضمیرکو جھنجوڑنےاورآزادحکومت کےناقص انتظامات کےخلاف جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سمیت دیگرقوم پرست جماعتوں کے اظہار یکجہتی مارچ کو سہڑا پل پر روک دیا گیا۔

آزادکشمیرپولیس کی جانب سے مظاہرین کو ایل او سی کی جانب بڑھنے سے روکنے کیلئےآنسو گیس کا استعمال کیاگیا۔ پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ مظاہرین نے پولیس چیک پوسٹ کوآگ لگا دی۔ کنٹرول لائن کا قریبی علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔آخری اطلاعات تک تصادم جاری ہے۔ آنسوں گیس کے استعمال سے صحافیوں سے متعدد افراد متاثر ہونے کی اطلاع ہے۔

یاد رہےکہ لبریشن فرنٹ اورقوم پرست جماعتوں کو ایل اوسی کی جانب مارچ سے روکنےکیلئے انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذکر رکھاتھا لیکن انتظامیہ نے مظاہرین کو ایک حدتک جانےدیاجسکے بعد اب مظاہرین اورپولیس کےدرمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ جھڑپوں کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ نہتےمظاہرین ایل اوسی کی جانب بڑھ رہے ہیں اورانتظامیہ کی ہدایت کے مطابق پولیس انہیں آگے بڑھنےسےروک رہی ہےتاکہ انڈین آرمی کو انہیں زخمی یا شہید کرنےکاموقع نہ ملے۔

ویڈیو دیکھیں: