حریت رہنما سید علی گیلانی نے بھارت کی بڑی پیشکش ٹھکرا دی

سرینگر (سٹیٹ ویوز ) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارت کی طرف سے مذاکرات کی تازہ پیش کش رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک بھارت تنازعہ کشمیر کو اس کے تاریخی پس منظر میں حل کرنے پراپنی رضامندی ظاہرنہیںکرتا اس وقت تک مذاکرات ایک لایعنی عمل ہوگا۔

کشمیر میڈیاسروس سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاگیاکہ بھارتی حساس ادارے انٹیلی جنس بیورو( آئی بی ) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے حیدر پورہ سرینگر میں سیدعلی گیلانی کی رہائش گاہ پر انکے ساتھ ملاقات کے دوران انہیں مذاکرات میں شمولیت کی دعوت دی ۔

بیان کے مطابق سید علی گیلانی نے اس موقع پر آئی بی کے عہدیدارپر واضح کیا کہ بھارت نے جموں کشمیر پر فوجی قبضہ کررکھا ہے جسے کشمیریوںنے تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ اس کے خلاف برسرِ جدوجہد ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیریوں کا مطالبہ بالکل صاف اور واضح ہے کہ انہیں ایک آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جائے۔

حریت چیئرمین نے آئی بی افسر کو قابض بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوںپر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 70برسوں کے دوران چھ لاکھ سے زائد کشمیریوںکو شہید ، ہزارون کو معذور ، دس ہزار سے زائد لوگوں کو لاپتہ جبکہ لاکھوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ اس وقت ہزاروں کشمیری جیلوں ، تھانوں اور تفتیشی مراکز میں بند ہیں اور بھارت جبر و استبداد کی پالیسی پر مسلسل عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن کشمیر میں اس نے اظہار رائے کی آزادی کا حق قطعی طو ر پر سلب کر رکھا ہے اور حریت رہنمائوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ز ایکٹ اور دیگر کالے قوانین نافذ ہیں جبکہ حریت رہنمائوں اور کارکنوں کو جیلوں میں بدترین مظالم کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ جبر و استبداد کے اس ماحول میں مذاکرات ایک سود مشق ہو گی۔