چنگی گل/کاشف رفیق

ظلم کرنےوالو ‘‘راؤ انوار’’ کو دیکھو۔۔۔۔

جب انسان کے اندر سے خدا اپنا خوف ختم کردیتا ہے تو پھر وہی انسان بھیڑیے کا روپ دھار لیتاہے جبکہ اللہ کی ناراضگی کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ ظلم کرنیوالا ڈھٹائی کیساتھ ظلم کرتا ہے لیکن اُسے ملال تک نہیں ہوتا یہاں تک کہبے حسی اُس کے چہرے سے عیاں ہوجاتی ہے۔۔۔

ظالم انسان اپنے تکبرانہ عمل کوہروقت دہراتا ہےاُس کے صیح ہونے کی دلیلیںبھی دیتاہےاورطرح طرح کی کہانیاںسُنا کر خود کو سچا ثابت کرتا ہے۔۔۔۔۔اگر آپ نے ایسا کوئی کردار دورِ حاضر میں دیکھنا ہو تو اُس کی تازہ مثال راؤ انوار ہے۔۔۔۔۔

موصوف کی پسندیدہ پوسٹنگ ملیر کی ہے جببھی نکالے گئے واپس آئے تو ملیر کا چارج موصوف کو پلیٹ میں رکھ کردیا گیا،مطلبکچھ تو خاص ہوگا نا ‘‘راؤ’’میں۔۔۔۔یا کسی طاقتور کا لاڈلہ چاند ہوگا جو ہر بار کھیلن کو ملیرکی پوسٹنگ مانگے ہے،

خیرموصوف تو سیاسی وفاداریوں کوتبدیل کروانے اور سیاستدانوںکوذلیل کرنے کے بھی ایکسپرٹ ہیں۔۔۔اگر یقین نہیں تو حضور۔۔۔۔خواجہ اظہار والاڈرامہ یاد کریں۔۔

اور فاروق ستار کو رینجرز کے ڈی جی نے کیا کہا تھا اگر وہ بھی یادنہیں تو میں یاد کروا دیتا ہوں جنابِ من !ڈی جی رینجر نے کہا تھا ‘‘فارق ستار صاحب کیاخیال ہے آپ کو راؤ انوار کے حوالے نہ کردیں’’،،،،،اور ہاں اُس وقت کے ڈی جی رینجرآج بہت ہی اہم منصب پر براجمان ہیں۔۔۔۔۔۔

راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو جعلیپولیس مقابلے میں 17 جنوری کومارا اور ماضی کی روش کو اپناتے ہوئے دہشتگردبنا دیالیکن اس بار رَسی دراز کرنیوالے رَب نےشاید رَسی کو کھینچنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔

ہوا یوںکہ محسود قبائل اور سول سوسائٹی نے ایسا شور مچایا کہ مفروروں کو پکڑ کر قتل کرنیوالاخود مفرور ہوگیا،دبئی بھاگنے کی کوشش میں ناکامی ہوئی تو ‘‘ایسی جگہ ’’میںچھپاجہاں شایدپولیس بھی پوچھ کرجاتی ہوپہلے تو چیف جسٹس نے احتیاط سے کام لیا

لیکن راؤ انوار برآمدنہ ہوا پھرچیف جسٹس صاحب نے سہولت کاروں کو کٹہرے میںلانے کے ریمارکس دئیےتو راؤ انوار سپریم کورٹ میں براّمد ہوگیا،،دہشگردوں کو ہلاک کرنیوالا انوار سپریم کورٹکے پچھلے دروازے سے داخل ہوا اوراپنی ہی پولیس پر بد اعتمادی کرنے لگا مگر عدالت سےریلیف نہ لے سکا،مظلوموں پر عہدوں کے تکبر میں ظلم کرنیوالو‘‘راؤ انوار’’ سے سیکھو۔۔