قلم کی جنگ/عقیل احمد ترین

نوازشریف جیل گئے تو نیلسن منڈیلا بن کر نکلیں گے !

مجھے کیوں نکالا ؟کی شا ندا ر کامیابی کے بعد یہ سنجرانی کون ہے ؟کا شو اب ملکی سیاست پر چل رہا ہے ،پاکستان کی سیاسی بساط تیزی سے تبدیل ہو رہی ہو یا نہ ہو لیکن جس رفتار سے اقامہ کے جرم میں نااہل قرار دئیے گئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قا ئد میاں نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز کے شکریہ لودھراں ، شکریہ گوجرانوالہ ، شکریہ سانگلہ ہل اور شکریہ فیصل آباد کے ٹویٹ قوم کی سماعتوں سے ٹکرا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اس بار کا سکرپٹ لکھنے والوں سے یاتوکو ئی چوک ہو گئی ہے یا انہوں نے پاکستانی سیاست کے معروضا ت میں سے کسی ایک چیز کو نظرانداز کردیا ہے کہ سیاست کی کیسٹ ہی الٹی چل پڑی ہے ،نظریاتی سیاست کا سوئم ہوچکا اب چہلم کی تیاریاں ہیں ،کرسی کے کھیل نے اصولی سیاست کواس چوہے دان میں جا پھنسایا ہے جہاں پر بڑے بڑے شرفا ء کی پگڑیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

، مسلم لیگ ن اس کی لیڈر شپ اور سوشل میڈیا ٹیم یہ بات عوام کے زہنوں میں کند کرنے میں کا میاب ہو گئی ہے کہ کو ئی طا قت شریف خاندان کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چا ہتی اسی لئے وہ ان کیخلاف جال بن رہی ہے ،وہ کیوں ایسا کررہی ہے ؟اسکا جواب بہت سادہ ہے لیکن ہما رے زہین سیاسی رہنما ئوں نے اسکو اس قدر الجھا دیا ہے کہ ہر طرف کنفیوژن ہے ، اپنے ایجنڈے مقصد کے حصول کیلئے اس طا قت کے پاس پاکستا ن پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں دوایسی سیاسی طا قتیں موجود تھیں جو نظرئیے اور منشور میں ٓگ اور پانی کی طرح الگ الگ سیاسی کیمیا رکھتی تھیں لیکن انکوا نہوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے دو دن کیلئے ایک چھتری تلے نہ صرف اکٹھاکردیابلکہ مسلم لیگ ن سے چیئرمین سینیٹ کی سیٹ چھین کر اسے سیاسی طور پر نا قابل تلا فی نقصا ن بھی پہنچادیا۔

اس سے پہلے کہ میں یہ لکھوں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سے آنے والے دنوں میں کیا ہونے جا رہاہے ؟اور اس حوالے سے یہ کیا افواہ نما خبریں اور تجزئیے ما رکیٹ میں موجود ہیں ؟ یہ کہ کیا پانامہ کے عالمی سازشی لیک سے میاںنواز کو کو ئی نقصان ہو گا یا نہیں؟ یہ لکھتا چلوں کہ اس وقت ملک میں دو طرح کے مباحثے ہو رہے ہیں، اول یہ کہ شریف برادران واقعی لٹیرے ہیں اور انہوں نے ملک کو لوٹا اور خود اربوں پتی بن گئے ،جبکہ ایک بحث یہ ہے کہ ملک میں شریف برادران با قی کی لیڈرشپ کے مقابلے میں بہتر ہیں وہ ملک میں کام بھی کررہے ہیں ، سی پیک ، ملک سے اندھیروں کا خا تمہ انکا بڑا جرم ہے اسی لئے وہ قابل پس زنداں ٹھہرے ، اسمیں اول الذکر قسم کے لو گ اپنے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ آخر میٹرو بس، اورنج لائن ، اور بڑے بڑے اوور ہیڈبرجز اور انٹر چینج کیوں ضروری ہیں ؟اور ہسپتال بنانا، صاف پانی فراہم کرنا ، اور انصاف مہیا کرنا کیوں ترجیح نہیں ؟پھر اسی دلیل کی سپورٹنگ میں کہتے ہیں کیونکہ بڑے پراجیکٹس میں کک بیکس اور کمیشن ملتاہے اسلئے شریفس یہ بنائے جا تے ہیں ، یہ کہنے والے یا تو حساس اداروں کے ریٹائر ڈافراد ہیں یا پھر تحریک انصاف کے فتویٰ بریگیڈسے انکا تعلق ہے ، حیران کن بات یہ ہے کہ ایساکہنے والوں میں بعض وہ بیورو کریٹس بھی شامل ہیں جو کسی دور میں نواز شریف یاشہبا ز شریف کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کام کرتے رہے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف جو لو گ میاں نواز شریف کی نااہلی کو ملک کو ترقی کی موٹر وے پر گامزن کرنے سے جوڑتے ہیںاورانکے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں ، انمیں سے اکثر وہ لوگ ہیں جن کو ہم خاموش ووٹ کے نام سے جانتے ہیں، ان میں سے بھی اکثریت انکی ہے جو نواز شریف سے یہ گلہ بھی کرتے نظر آتے ہیںکہ انہوں نے کیوں ایک عاشق رسول ﷺممتاز قادری کو پھانسی ہونے دی ،؟ انمیں سے بہت سارے ممتاز قادری شہید کی پھانسی کا براہ راست زمہ دار میاں نواز شریف کو سمجھتے ہیں ، اسی طرح اس خاموش اکثریت کا یہ بھی گلہ ہے کہ نواز حکومت نے ختم نبوت ﷺکے معاملے کوکیوں چھیڑا ؟اور اس پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟ غیر جانبدار تجزیہ کا ر کے طور پر ختم نبوت ﷺکے ایشو پریہ لوگ جتنا نواز شریف کو زمہ دار سمجھتے ہیں اتنا ہی انکو گلہ ہے کہ اس پر عمران خان ، مولانا فضل الرحمن اور آصف علی زرداری نے بھی کیوں کو ئی ایکشن نہیں لیا ؟

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت میاں نواز شریف کو اپنے عدل کے بیانیہ سے زیا دہ ختم نبوت ﷺکے معاملے پرفوکس کرنااور قوم کے دلوں میں ا ٹھتے سوالات کاٹھوس جواب دینا چا یئے ، وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے اس خاموش ووٹ کو بچا لیں بصورت دیگر جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انکی کو ئی وضا حت اور ایکشن کسی کام نہیں آئیگا ، اس وقت قوم میاں نواز شریف کے با رے میں سافٹ کا رنر رکھتی ہے لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ متذکرہ بالا دو اہم ترین سوالوں کا جو اب بھی چا ہتی ہے ، شہر میں یہ افواہ ہے کہ شاید نوازشریف اور انکی صاحبزادی کو الیکشن کے نزدیک گرفتار کر لیا جائے ، اس کیلئے اڈیالہ جیل میں رنگ و روغن بھی کرایا گیاہے اور اسکے ساتھ ساتھ اسلام آبا د کی نئی جیل کا افتتا ح بھی کر لیا گیا ہے ، یہاں یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ افواہ سچی کیسے ہو سکتی ہے ؟اس کیلئے ہم کو گزشتہ چھ ماہ کو پرکھنا ہو گا ، ماضی کا ریکار ٖڈ بتاتا ہے کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ نواز شریف کی اصل منزل جیل ہی ہے ،یہاں سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف یا مریم نواز کو گرفتا ر کرنے سے مسلم لیگ ن کو عا م انتخابات میں ہرایا جا سکے گا ؟

اس سوال کا جواب گز شتہ ایک ماہ میں ہونیوالے ضمنی الیکشن ہیں جہاں پر شیر کا نشان نہ ہو نے کے با وجود مسلم لیگ ن کا حما یت یا فتہ جیتتا آیا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ میاں نواز شریف کیساتھ اس وقت اللہ رب العزت کی کریمی کے ساتھ ساتھ انکی ماں کی دعا ئیں ہیں ،اس لئے اگر وہ جیل گئے تو پھر وہ ایک آدھ ما ہ ہی میں پاکستان کا نیلسن منڈیلا بن کر آئینگے ، جسکو روکنا کسی طا قتور سے طا قتور بریگیڈ کے بس میں نہیں ہوگا ، اور اسکا اگر کسی کو کو ئی شک ہے تو وہ سلیم ضیاء سے پوچھ لیںکہ نواز شریف کیسا شخص ہے ؟ جہاں تک سوال ہے میاں شہبا ز شریف کے مسلم لیگ ن کے صد بننے اور اسپر اس سوال کا کہ وہ کیسے میاں نواز شریف کے بیانیہ کیساتھ چلیں گے تو اسکا جواب یہ ہے کہ کیا امین فہیم کے پی پی پی پی کے صدر بننے سے بینظیر بھٹو یا آصف علی زرداری کا بیا نیہ بدل گیا تھا ؟بیانیہ ہمیشہ قا ئدین کا چلتاہے اور شہباز شریف نواز شریف کو اپنا قائد دل و جان سے مانتے ہیں ،انکو بھی پتہ ہے کہ وقت آگیا ہے کہ جب میاں نواز شریف نے کسی کھمبے کو بھی کھڑا کرنا ے تو اسکو ووٹ پڑ نے ہیں جیسے 70کی دھائی میں بھٹو کے نام پر پڑے تھے ! اب تو سیاسی پنڈت کہنے لگ پڑے ہیں کہ نواز شریف کو اس نااہلی نے نقصان نہیں پہنچایا بلکہ مقبول بنا یا ہے اور ملک میں تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کو ایکسپوز کیا ہے !

اس ساری لڑائی میں ملک کا جو نقصان ہو رہاہے وہ کسی کو نظر نہیں آرہا ، اس وقت ڈالر جو روپے کو دھوبی پٹخے لگا رہا ہے اور ملکی زرمبادلہ اکیس بلین ڈالر دے گھٹ کر صرف بارہ بلین ڈالر رہ گیا ہے اسکی وجہ میاں نواز شریف خود کوحکومت سے با ہر کردیا جانے بتاتے ہیں ،حالانکہ بظا ہر یہ دعویٰ خود میں ایک مخول ہے لیکن جمہوریت کے ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ ملکی معیشت جمہوریت کے ساتھ ساتھ مضبوط سیاسی نظام کے تسلسل سے نتھی ہو تی ہے اور ملک میں تو نظام حکومت عملا جام ہی ہے ، حکومت اور اسکے وزیروں مشیر وں نے ڈر اور خوف کی وجہ سے کام میں لگا ئی جانیوالی روایتی سپیڈوں میں کمی لا ئی ہے ، خوف کیاہے ؟یہ ہم سب جا نتے ہیں ، شاید انہی وجوہا ت کی بنا ء پر آج ملک میں اس با ت کی گونج ہے کہ شا ید ملک میں کو ئی معا شی بحران آنے والاہے، ڈالر ہے کہ تا ریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ، اور اسکی قیمت بڑھ جانے پر عالمی میڈیا میں ایکسپرٹس کے نام سے سٹوریاں چھپوائی جا رہی ہیں کہ اسحاق ڈار نے ڈالرکو مصنوعی طور روک رکھا تھا ، اگر ایسا تھا تو پھر ہما رے بڑے بڑے معیشت دان اس وقت کہاں تھے ؟انہوں نے معاشی اصلاحات میں اپنی ان پٹ کیوں نہ دی ؟

غیرملکی ادائیگیو ں کے توازن میں بگا ڑ سمیت جی ڈی پی میں ریکارڈ کمی کا مثردہ سنایا جا رہاہے ، یہ ملک ہم سب کا ہے ، ہم کیوں ایسی جعلی سٹوریاں چلواتے ہیں جس سے دنیا میں ہماری ہنسی اڑا ئی جا ئے ؟ایک طرف آئی ایم ایف کہہ رہاہے کہ پاکستان کی معیشت آنے والے سالوں میں پھلے پھولے گی اور دوسری طرف بتایا جا رہاہے کہ شاید آئی ایم ایف کی اگلی قسط کیلئے مزید قرض لینا پڑے ، گز شتہ چا ر سا ل میں پاکستان کے قرضوں میں گیارہ ٹریلین روپے کا اضا فہ ہوا ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب حساب کتاب کا ہیر پھیر ہے ، بجلی کی پیداوار میں اضافے ، سی پیک سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت ٹیک آف کر جا ئیگی ۔ انشا ء اللہ