نقطہ نظر/صائقہ خان

صائقہ خان اور سقراط کے درمیان مکالمہ

صائقہ خان:قوم پرست کشمیریوں کے16 مارچ کو ہونے والے پر امن مارچ اور اس پر ہونے والے پولیس تشدد پر کیا کہیں گے؟

سقراط: ضروری نہیں کہ میں بھی وہی بات کروں جو سب کر رہے ہیں یہ بھی ضروری نہیں کہ مجھے وہی کچھ سوچنے پر مجبور کیا جائے جو قوم پرست یا الحاق پاکستان کے پرستار سوچ رہے ہیں ۔۔۔!

قوم پرستوں کے سولہ مارچ کا احتجاج بھی ہر اس احتجاج کی طرح کچھ لوگوں کی سیلف پروجیکشن پر ہی مبنی تھا میں نام لینا مناسب نہیں سمجھتا اس لئے کہ میں بھی انہیں پروموٹ کرنے کی لسٹ میں آ جاؤں گا۔

میڈیا کوریج سے لیکر گرفتاریوں تک سب پلان شدہ گیم کا حصہ تھا اپنے ناموں کو رہنما سے ذرا آگے بڑھا کر عظیم رہنماء اور قائد تحریک سے قائد حریت تک کا سفر تھا۔

بات دل سے نکلی ہو اور اثر نہ کرے یہ میں نہیں مانتا چند سو لوگوں کو لیکر ہزاروں مرنے والوں کے لئے احتجاج وہ بھی اس پار اور مارنے والے اُس پار ۔۔۔؟

ایسے احتجاج پہلے بھی کئی بار ہو چکے کیا مرنا مارنا بند ہوا کیا جنگ کی دوڑ اور مقابلے کی دوڑ کم ہوئی کیا پرتھوی شاہین مزائل بننا بند ہوئے نہیں ۔۔!!

ہم نے مرنا ہے یہ طے ہے ہم باوقار لوگ نہیں ہم بے قدرے اور دھتکارے ہوئے لوگ ہیں ناگہانی موت کو شہادت قرار دیکر اسے اللہ کی مرضی کہنے والے جھوٹ کو گلے لگانے والے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھ کر میجیکل چئیر پر کسی آسمانی مدد کے منتظر ۔۔!

وہ آسمانی یا اسلامی مدد اب نہیں آئے گی اسباب کی تلاش کیجئے صاحب
کھوجئیے شائد کچھ مل جائے ۔۔!

صائقہ خان: سقراط جی آپ سے مکمل اتفاق ہے۔

سقراط جی نے قہقہ لگایا اور بولے
کھچڑی ایک ایسی ڈِش ہے جو لوگوں کے گھروں میں کم اور دماغوں میں زیادہ پکتی ہے۔