راجہ فاروق حیدرکوکابینہ میں توسیع کیلئے پارٹی رہنماوں سےدباؤکا سامنا

رپورٹ :کاشف میر
سٹیٹ ویوز:اسلام آباد

وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر خان پرپارٹی کی سینئر قیادت نے آٹھ وزراء اور چار مشیروں کو کابینہ میں شامل کرنے کیلئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ممبران اسمبلی اوروزرا نے کیبنٹ میں اضافے کیلئے کشمیر ہاؤس میں دو روز سے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز آزاد کشمیرکے جنرل سیکریٹری اور سپیکر قانون اسمبلی شاہ غلام قادر،سینئروزیرچوہدری طارق فاروق، وزیرصحت ڈاکٹرنجیب نقی اور وزیرتعمیرات عامہ چوہدری عزیزنے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکویہ باورکرایا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ہمارے کچھ ممبران، اپوزیشن اراکین کے ساتھ ملکر گروپنگ میں مصروف ہیں۔ اس لیے آپ عدم اعتماد کی تحریک کوروکنے اورمتوقع بدمزگی سے بچنے کیلئے بطور وزیر اعظم اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیں اور کابینہ میں توسیع کردیں بصورت دیگربعد میں ہم سے شکوہ نہ کیجے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے اس اہم ملاقات کے لئے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس کو پارٹی کے ان چاربڑوں نے علحیدہ رکھ کر یہ تاثر دینےکی کوشش کی ہے کہ وزیراعظم کےخلاف فاروڈ بلاک کی تشکیل کے پس منظر میں مشتاق منہاس ہیں جبکہ وزیراعظم نے انہیں جواب دیاکہ میں کیبنٹ میں اضافے کے خلاف نہیں ہوں آپ لوگ مشاورت کر کے کابینہ میں توسیع کیلئے تجویز دیں۔ ذرائع کے مطابق آج بدھ کے روز ان سینئرز نے وزرا اور مشیران کے ناموں کی فہرست وزیر اعظم تک پہنچا دی ہے۔ جن اسمبلی ممبران کو وزیر بنانے کی تجویز دی گئی ہے ان میں راجہ عبدالقیوم خان ، راجہ نصیر خان، چوہدری یاسین گلشن، چوہدری رخسار، چوہدری مسعودخالد، راجہ صدیق خان ، چوہدری محمد اسماعیل اور پیر علی رضا بخاری شامل ہیں جبکہ جن چار ممبران اسمبلی کو مشیر بنانے کی تجویز زیر غور ہے ان میں ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر،چوہدری شہزاد، اسدعلیم شاہ اور احمدرضا قادری شامل ہیں۔ ان میں ڈاکٹر مصطفٰی بشیر پہلے سے انکاری ہیں کہ انہیں مشیر کا عہدہ قبول نہیں ہو گا۔

ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیرکوسابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کیجانب سے خود یہ فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی حکومت بچانے اورنظام چلانے کیلئے جو مرضی فیصلے کریں، وفاقی حکومت یا جماعت ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اس اختیارکی بنیاد پرتقریباً دوسال تک وزیراعظم نے ایک مشیر خان بہادرخان سمیت گیارہ وزراء کے ساتھ کام چلائے رکھا لیکن اب وہ تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے پارٹی کے اندرونی دباؤ کوقبول کرتے ہوئے دکھائی دےرہے ہیں۔ کہاجا رہا ہے کہ کابینہ میں توسیع کیلئے مقتدر حلقوں کواعتماد میں لینےسمیت وزیراعظم کے موڈ پرمنحصر ہے کہ وہ تجویزکردہ ممبران اسمبلی میں سے آدھے ممبران کووزیراورمشیر بنادیں یا پوری تجویز پر ہی عمل کر دیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ وزیر اعظم کابینہ میں توسیع سے ہی انکار کردیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم کو ایکٹ 74 میں ترامیم کا مشکل مرحلہ بھی درپیش ہے جسکے لیےطے کیا گیا ہےکہ کونسل کےخاتمےکی بجائے ایکٹ میں ترامیم کرکے آزادحکومت کو زیادہ سےزیادہ بااختیار بنانے کیلئے کوشش کی جائے۔