تاجدار ختم نبوت کانفرنس کوٹلی

انجمن اساتذہ جموں کشمیر کے زیراہتمام مورخہ 18 مارچ 2018ء گورنمنٹ ڈگری کالج کوٹلی میں عظیم الشان ’’تاجدارختم نبوت کانفرنس‘‘ ہوئی۔ اس سے پہلے 4 فروری کو میرپور کھڑی شریف میں تاجدار ختم نبوت کانفرنس ہوئی تھی۔ انجمن اساتذہ جموں کشمیر ایک نظریاتی تنظیم ہے جو پرائمری سے یونیورسٹی تک کے اساتذہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ نصاب تعلیم میں اسلام، پیغمبر اسلام، اہل بیت، صحابہ کرام اور صالحین امت کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنا اور اُس کی نشاندہی کرکے نصاب سے خارج کرانے کے لئے کوشش کرنا، اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ نسل نو کو نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لئے تیار کرنا، مقامِ مصطفیٰؐ اور تحفظ ناموس رسالت اس کے بنیادی مقاصد ہیں۔ انہی مقاصد کے پیش نظر انجمن اساتذہ وقتاً فوقتاً مختلف کانفرنسیں کرتی رہی ہے۔ اس سلسلہ کی یہ تاجدارِ ختم نبوت کانفرنس کوٹلی بھی تھی۔ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا بنیادی و اجتماعی عقیدہ ہے، اس فتنہ کی ابتداء حضور علیہ السلام کے زمانے میں ہی ہو گئی تھی۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کی سرکوبی کی، تب سے اب تک امت مسلمہ میں یہ فتنہ وقتاً فوقتاً سر اٹھتا رہا ہے۔ برصغیر میں اس فتنہ سے غلام قادیانی کی صورت میں سر اٹھایا۔ یہ دراصل انگریز کا پیدا کردہ فتنہ تھا۔

1883ء میں قادیانی کی نے ’’برہانِ احمدیہ‘‘ لکھ کر اس فتنہ کا آغاز کیا۔ اُسی وقت اکابرین ملت نے اس کا رد کیا۔ علماء اہلسنّت لدھیانہ سب سے پہلے میدان میں اترے، اُنہوں نے فتنہ قادیانیت سے امت مسلمہ کو آگاہ کیا اور ساتھ ساتھ اس کا رد بلیغ کیا۔ پھر علامہ غلام دستگیر نقشبندی نے 1883ء مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پردہ چاک کیا۔ اکابرین ملت خاموشی سے نہیں بیٹھے۔ 1883ء سے 1908ء تک فتنہ قادیانیت کا رد کرتے رہے۔ 1908ء میں حضرت پیر سیّد مہرعلی شاہ گولڑوی اور پیر سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے ہاتھوں مرزا غلام قادیانی کے ردِبلیغ کے ساتھ ساتھ قصہ تمام ہوا۔ مرزا قادیانی 26 مئی 1908ء قبل از دوپہر پیر سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری کی پیشگوئی کے مطابق واصل جہنم ہوا۔ 1953ء میں اس فتنہ نے جب دوبارہ سر نکالنا شروع کیا تو اکابرین ملت نے علامہ مولانا ابوالحسنات سیّد محمد احمد قادری کی قیادت میں اِس کا بھرپور رد کیا۔ 1974ء میں ایک بار پھر اکابرین ملت نے مبلغ اسلام علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت میں اس فتنہ کی سرکوبی کی۔ یہاں تک کہ پاکستان کی قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر غیرمسلم اقلیت قرار دلا کر دم لیا۔ اس فتنہ قادیانیت سے کشمیر بھی متاثر ہوا۔ غلام قادیانی کی ذریت مرزا بشیرالدین محمود نے چالاکی و عیاری سے تحریک آزادی کشمیر کو سپوتاژ کرنے کی کوشش کی، وہ کشمیر کمیٹی کا صدر بن گیا۔ جب مسلم راہنمائوں کو اس کے ارادوں کا علم ہوا تو وہ کشمیر کمیٹی سے الگ ہو گئے۔ جن میں علامہ محمد اقبال بھی شامل تھے۔ فتنہ قادیانیت نے کوٹلی میں اپنے ڈھیرے ڈالے اور مضبوط صورت اختیار کر لی، یوں کوٹلی کو دوسرا ربوہ کہا جانے لگا، لیکن اکابرین ملت نے اس فتنہ سے مسلمانوں کو آگاہ رکھنے کے لئے اور اس کی سرکوبی کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقہ سے پورا کرنے کی کوشش کی۔

قادیانی چونکہ خود کو مسلمان کہتے ہیں، سادہ لو مسلمانوں کو اپنی دولت، اثرورسوخ کے باعث اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں، اس کی وجہ سے کوٹلی میں بہت سارے گھرانے ان کی اس چال سے متاثر ہوئے۔ اس فتنہ سے ہوشیار رہنے کے لئے کوٹلی کے اکابرین اہلسنّت اور دیگر علماء کرام نے اس فتنہ کو بے نقاب کیا۔ چنانچہ پیر سیّد حیدرشاہ قلندر، پیر سیّد سرور حسین شاہ پناک شریف، حضرت قبلہ پیر صادق نقشبندی کے مریدین و خلفاء نے جہاں بنیادی کردار ادا کیا، وہاں جن علماء و مشائخ اور مشاہیر و راہنمائوں نے بھرپور کردار ادا کیا، ان میں میاں جھنڈاراٹھور، منشی نور محمد، چنن دین، مولانا قمرالزمان ہاشمی آف سرہوٹہ، مولانا مفتی عبدالکریم آف گھوڑہ کھوئی رٹہ، مولانا بقاء محمد (مدفون جنت البقیع مدینہ منورہ) آف تکیہ سرہوٹہ، حکیم حاکم شاہ گیلانی ڈھیری سیّداں، صوفی محمد دین کوٹلی، (والد گرامی سیکرٹری اکرم سہیل) مولانا محمد اسمٰعیل قریشی آف عشقیالی، مولانا فیض اللہ آف منڈی ڈھیری، مولانا محمد اسلم نقشبندی رولی، مولانا عبدالرحمن قریشی آف رولی، حکیم سیّد ملک شاہ گیلانی ڈھیری سیّداں، ملک خادم حسین عشقیالی، محمد خالد کاشمیری کوٹلی، محبوب احمد راٹھور، مولانا ماسٹر عبدالرحمن کوٹلی، پیرانور شاہ، پیر خادم حسین شاہ ڈھیری سیّداں، مولانا رکن عالم کڑتی، صوفی فضل حسین مجاہد، مولانا محمدحسین کوٹلی، مولانا عبداللہ تھے، ان کے علاوہ دیگر مکتبہء فکر کے علماء میں مولانا عارف مغل، مولانا فیروالدین، مولانا طیب قریشی، مولانا ثناء اللہ آف گواں قابل ذکر ہیں۔

علماء اہلسنّت میں مناظر اسلام علامہ محمد عمر اچھروی، شیخ القرآن عبدالغفور ہزاروی، علامہ مفتی مختار احمد نعیمی اور دیگر علماء و مشائخ کوٹلی میں فتنہ قادیانیت کے رد کے لئے تشریف لاتے رہے، جبکہ علماء دیوبند میں مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا منظور چینوٹی، مولانا لعل حسین اختر، حکیم حاکم شاہ ڈھیری سیّداں کی دعوت پر کوٹلی میں آتے رہے ہیں۔ کوٹلی کے ایک مردِمجاہد جن کا ذکر پہلے ہوا، میاں جھنڈا راٹھور کا کارنامہ تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ اُنہوں نے اس فتنہ کے رد میں ’’برقِ آسمانی برفتنہ قادیانی‘‘ پنجابی شاعری میں لکھی اور لوگوں کو اس فتنہ کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ زمانہ قریب میں پیر محمد صادق نقشبندی کے روحانی فیض سے یہ فتنہ اپنے پر پرزے نکالنے میں ناکام رہا۔ دورِ حاضر میں پیر عتیق الرحمن فیض پوری جو 18 مارچ کو انتقال کر چکے ہیں، نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے بھرپور کردار ادا کر چکے ہیں۔ اسمبلی میں دو مرتبہ اس فتنہ کے خلاف قراردادیں پیش کرکے پاس کرا چکے تھے اور انتقال سے دو دن قبل بھی ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں اپنے بیان سے اس کا رد کرتے ہوئے میرپور، راولاکوٹ، باغ میں ختم نبوت کانفرنسوں کے انعقاد کا اعلان کر چکے تھے۔

مولانا پروفیسر باغ حسین، مولانا مفتی محمد عارف نقشبندی، مولانا مفتی محمود احمد صدیقی، پیر سیّد عارف حسین شاہ گیلانی، مولانا عزیز احمد قریشی، پروفیسر جمروز صدیقی، پروفیسر عبداللہ طاہر، پروفیسر اورنگزیب، علامہ حافظ محمد شفیع صدیقی، پروفیسر قاری مشتاق، مولانا عبدالرزاق چشتی، مولانا قاری افراہیم تتہ پانی اور ان کے دیگر ساتھی اس فتنہ کے سدباب کے لئے کوشاں ہیں، جبکہ دیگر مکتبہء فکر میں مولانا حافظ عبدالرشید، مولانا پروفیسر عبدالرئوف، مولانا ساجد الرحمن، مولانا فرید الدین حقانی قابل ذکر ہیں۔

جماعت اہلسنّت، جمعیت علماء جموں کشمیر، انجمن طلباء اسلام اور انجمن اساتذہ جموں کشمیر، تحریک منہاج القرآن کے ساتھ ساتھ پیر صاحب گلہار شریف کی تنظیمات اور اہلسنّت کی دیگر چند تنظیمیں بھی اپنے اپنے طور پر کام کر رہی ہیں۔ قادیانی فتنہ کو 1973ء میں میجر (ر) محمد ایوب خان سپیکر قانون ساز اسمبلی نے قرارداد پیش کرکے آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے غیرمسلم اقلیت قرار دلایا تھا، متعدد بار اسمبلی میں پیر عتیق الرحمن فیض پوری اور صاحبزادہ حامد رضا، ثناء اللہ قاری سابق ڈپٹی سیکرٹری نے قرارداد پیش کی، لیکن یہ آئین کا حصہ نہ بن سکی۔ اس بار یہ اعزاز پیر سیّد علی رضا بخاری سجادہ نشین بساں شریف کہوٹہ، ممبر قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہوا۔ اُنہوں نے نہ صرف قرارداد پیش کی، بلکہ جلد ہی اس پر بھرپور تحریک کرکے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی سے اس قرارداد کو منظور کروا کر 6 فروری 2018ء کو آئین کا حصہ بنوا دیا ہے۔ اس طرح اس فتنہ کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ اب وہ غیرمسلم اقلیت کی صورت میں ہی مراعات حاصل کر سکتے ہیں۔ انجمن اساتذہ جموں کشمیر نے 1988-89ء میں تعلیمی اداروں میں اس فتنہ کی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت وقت کو آگاہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ان کے لئے الگ نصاب تعلیم نافذ کیا جائے۔ ان کو اسلامیات پڑھنے سے روکا جائے اور اس کی جگہ ’’اخلاقیات‘‘ بطور مضمون ان کے لئے نصاب میں شامل کیا جائے۔

انجمن اساتذہ ہمیشہ مختلف کانفرنسوں میں اپنے مطالبہ کو دوہراتی رہی ہے۔ اب جبکہ قرارداد ختم نبوت آئین کا حصہ بن چکی ہے، تو لازم ہے کہ انجمن اساتذہ کے مطالبہ کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ 18 مارچ 2018ء ڈگری کالج کوٹلی میں اسی سلسلہ کی کڑی ’’تاجدارِ ختم نبوت کانفرنس‘‘ تھی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر قاری مشتاق صدر انجمن اساتذہ ضلع کوٹلی نے سرانجام دئیے۔ صدارت مرکزی صدر پروفیسر چوہدری لیاقت نے کی، جبکہ مہمان خصوصی پیر سیّد علی رضا بخاری ممبر قانون ساز اسمبلی تھے۔ دیگر مہمانوں میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس خان، پیر سعید بخاری، پروفیسر خاقان ایاز مرکزی جنرل سیکرٹری، شیخ معراج خالد مرکزی پریس سیکرٹری، لیاقت علی جوشی اور ان کے ساتھی سردار عارف شاہین، جبکہ راقم السطور سیّد زاہد حسین نعیمیؔ بھی مہمانوں میں شامل تھے۔ میزبانی کے فرائض حافظ شفیع صدیقی، پروفیسر اورنگزیب، پروفیسر راجہ صدیق پرنسپل ڈگری کالج کوٹلی اور دیگر کالج کے پروفیسر صاحبان اور انجمن اساتذہ کے مقامی عہدیداران تھے۔ جملہ مہمانانِ گرامی اور میزبانوں نے بھرپور اور پرمغز گفتگو کی۔ مولانا مفتی محمود احمد صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پیر علی رضا بخاری نے قرارداد کو آئین کا حصہ بنانے کی تفصیل بتائی۔ ڈاکٹر عبدالقدوس، پروفیسر خاقان ایاز، راقم السطور، پروفیسر اورنگزیب، پروفیسر راجہ صدیق نے اور دیگر نے خطابات کیے۔ پروفیسر قاری مشتاق نے سلام پڑھا، پیر علی رضا بخاری نے دُعا کی اور لنگر تقسیم ہوا۔ یوں یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔