نقطہ نظر/امجد خان یوسفزئی۔

“ملالہ یوسفزئی۔۔ کہانی ایک اورغدار پختون کی

آج ملالہ یوسفزئی پریس کانفرنس کے دوران رو پڑیں۔۔ یاد رہے یہ وہی غدار ،پاکستان دشمن ہے جس نے دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام حاصل کر کے پاکستان کو برباد کر دیا جس نے سوات جیسے علاقے جہاں عرصے سے حکومتی نمائندے صرف وعدے کرتے ہیں اس علاقے کی بچیوں کو سکولوں میں بیٹھنے کیلئے ورلڈ کلاس سکول بنوانے کیلئے ملالہ فنڈ زسے فنڈنگ کی۔ جو دنیا میں تقریر کے دوران فخر سے بولتی ہے کہ اسے فخر ہے پختون ہونے پر اور پاکستانی ہونے پر۔اس جیسی سر پر دوپٹہ رکھنے والی بے حیاآکسفورڈ میں پڑھنے والی جاہل عورت کو ہر گز حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری زمین پر آکر آنسو بہائے کیونکہ۔۔ یہاں اسے گالیوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔۔

ہم ایسی قوم ہیں جہاں اپنے گھر کی بچی ناچ رہی ہو تو وہ بہت بڑی آرٹسٹ کہلاتی ہے اور اسکا باپ بڑے فخر سے لوگوں کو اپنی بیٹی کے بارے میں بتاتا ہے جبکہ غیر کی لڑکی اگر کوئی بڑا کام کر دے تو تہمت لگاتے نہیں رُکتے۔ پہلے بنگال الگ کیا۔۔ پھر بلوچ قوم ملک دشمن بنی اب انہیں پٹھانوں سے تکلیف ہے۔۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ محب وطن ہونے کیلئے آپ کے پاس پنجاب کا ڈومیسائل ہونا ضروری ہے۔

وگرنہ آپ اپنی کھال بیچ کر بھی محب وطن نہیں بن سکتے۔ “پختون قوم پر جب بھی غدار ہونے کا الزام لگا تو الزام لگانے والا پنجابی۔۔بلوچ پر جب بھی غدار ہونے کا الزام لگا الزام لگانے والا پنجابی۔۔ مہاجر کو برا کہنے والا پنجابی۔۔جناب اگر تمہاری چوہدراہٹ اور پنچائت ہی جمہوریت اور محب وطنی ہے تو ہم غدار ہی سہی۔آپکو آپکی حکومت اپنے حصے کی دھوتی اور محب وطنی مبارک۔۔ تمام عمر پشتون قوم اپنی وفاداری ثابت کرتے کرتے تھک گئی لیکن جب یہ قوم اپنے حقوق کا نام لیتی ہے تو انہیں غدار کہتے ہیں۔

۔بچپن میں ایک ڈرامہ دیکھتے تھے ایک چوہدری (پنجاب) کے گاؤں میں ایک غریب (دوسرے صوبے) کا بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے تو چوہدری اسکی تعلیم کے صلے میں اسے گاؤں سے نکال دیتا ہے۔۔ کہانی بہت پرانے ڈرامے کی ہے لیکن یہ ڈرامہ آج تک چل رہا ہے۔اچھا سوری۔۔ (آپکا اپنا غدار)برائے مہربانی جاہل اور نام نہاد محب وطن میٹرک فیل اس تحریر سے دور رہیں۔ شکریہ۔۔